پوتنی دا پپو کو پلکیں جھپکائے بغیر غصیلی نظروں سے دیکھتا ہے۔ پپو اس کی غصیلی نظروں کی تاب نہیں لا پاتا اور اپنی نظریں پھیر لیتا ہے اور پھر جب دوبارہ تھوڑی دیر بعد پوتنی دا کی طرف دیکھتا ہے تو اُس کی آنکھیں اُسی پر جمی ہوتی ہیں۔

’’کیا کتے لڑنے سے پہلے اسی طرح ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھتے؟‘‘ پپو سوال کرتا ہے۔
’’پوتنی دا! تم یہاں نہیں ٹھہر سکتے!‘‘ پپو صاف اور سیدھی بات کرتا ہے۔
پوتنی دا مٹھی بنا کر پپو کو اشارے کنائے میں گالی دیتا ہے۔
’’میں پولیس کو بلاؤں گا‘‘ پپو ڈرے ڈرے انداز میں کہتا ہے۔
پوتنی دا پاجامہ نیچے کرتا ہے اور پھر سے گندا اشارہ کرتا ہے۔
آخر پپو ہار مان لیتا ہے اور پوتنی دا کو صادق کے بھائی اچھو پہلوان سے ملوانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔ تھوڑا دور چلنے کے بعد دونوں اچھو پہلوان کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ پپو دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔

’’ایک منٹ!‘‘ اندر سے دھیمی سی زنانہ آواز آتی ہے۔
’’میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا‘‘ پپو پوتنی دا کو بتاتا ہے۔
’’اچھا! ادھر آؤ‘‘ پوتنی دا مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ پپو کو بلاتا ہے۔
’’کیا یہ لوگ تمہیں مہمان ٹھہرانے کی اجازت بھی نہ دیں گے ؟‘‘ پوتنی دا پپو سے سوال کرتا ہے۔
’’پتا نہیں، ویسے یہ لوگ ہمارے ساتھ خاص مہربانی کر رہے ہیں‘‘ پپو گو مگو کی کیفیت میں جواب دیتا ہے۔
دروازہ کھلتا ہے، اچھو پہلوان کی بیوی مسکراہٹ لیے ظاہر ہوتی ہے لیکن جب وہ پوتنی دا کا بگڑا ہوا حلیہ دیکھتی ہے تو اُس کی مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے۔

’’کیا میں ایک منٹ کیلئے آپ کا فون استعمال کر سکتا ہوں، میرا بیلینس ختم ہے؟‘‘ پپو کے لہجے میں عاجزی ہوتی ہے۔
’’ایک سیکنڈ ٹھہرئیے‘‘ اچھو پہلوان کی بیوی کہتی ہے۔
پھر وہ دروازہ مزید کھولتی ہے۔ پپو اندر چلا جاتا ہے لیکن پوتنی دا باہر ہی رہتا ہے اور پپو خدا کا شکر ادا کرتا ہے۔ پپو سوچتا ہے کہ کیا میں پولیس کو بلاؤں یا پوتنی دا کو اچھو پہلوان سے دھمکی لگواؤں۔ پھر کال ملاتا ہے۔

’’صادق پہلوان جی میری بات سنو، مجھے جمعہ کے دن چھٹی چاہیے، جنید کو کہو کہ وہ جمعہ کے دن میری جگہ کام کر لے، اتوار کے دن میں اُس کی جگہ کام کر لوں گا۔ اچھا جمعہ کو۔۔۔ ٹھیک ہے‘‘، ’’سوری پہلوان جی آپ کو تکلیف دی اسکی معذرت چاہتا ہوں‘‘ پپو فون بند کر دیتا ہے اور باہر نکل آتا ہے۔
’’یہاں پولیس آنے والی ہے‘‘ پپو پو تنی دا سے جھوٹ بول کر ڈرانے کی کوشش کرتا ہے۔
’’میں نے تو کوئی قانون شکنی نہیں کی، میں تو اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں‘‘ پوتنی دا مسکراتے ہوئے کہتا ہے۔

’’تم نے مجھ سے جو کچھ لیا ہے وہ واپس کرو‘‘ پوتنی دا پپو سے تقاضا کرتا ہے۔
وہ پپو کو پھانسنا چاہتا ہے لیکن پپو اپنی جیب میں سے پیکٹ نکال کر اس کی طرف پھینک دیتا ہے۔ پو تنی دا شش و پنج کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ پیکٹ اپنے اندر والی جیب میں ڈالتا ہے اور اکڑتا ہوا گلی سے بازار کی طرف چل پڑتا ہے۔

*اگلا صفحہ