پپو اپنا بیان دینے کیلئے پریشانی کی حالت میں سپاہیوں کے ساتھ پولیس سٹیشن کی طرف چل پڑتا ہے۔ چلتے چلتے وہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے جھاڑیوں کے پیچھے پنجوں کے بل کوئی حرکت کر رہا ہو اور جیسے ’خاندان‘ میں سے کسی کی آواز آ رہی ہو کہ ’’دیکھو! پکڑو! اُس نے ہمیں دھوکا دیا ہے!‘‘

پولیس اسٹیشن میں جب افسران بالا نے پپو سے دریافت کیا تو پپو نے چاچا کی حرکتوں کے بارے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ بیان دیتے ہوئے پپو محسوس کر رہا تھا کہ جیسے وہ ایک گندے اور گھٹیا ماحول میں زندگی گزار رہا ہے۔ ویسے تو اُس سے تفتیش ہو رہی تھی لیکن افسران کا رویہ اس کیلئے روشنی، طاقت کا باعث تھے۔ پپو جیسے ہی بیان دے کر پولیس سٹیشن سے نکلتا ہے اس کے خیالات تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی اس حرکت پر نادم ہونے لگتا ہے اور لڑکھڑا کر گِر پڑتا ہے، اتنے میں اُسے پوتنی دا نظر آتا ہے جو اس سے سوال کرتا ہے کہ تم سپاہیوں سے باتیں کیوں کر رہے تھے؟
خاندان کے کافی سارے لڑکے اس کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں بہت سے لڑکے اس کا ایک طرح سے گھیراؤ کئے ہوئے تھے اور اُن کے جسموں سے سخت بدبو آ رہی ہوتی ہے۔

’’تم کیا باتیں کر رہے تھے؟ ‘‘ وہ سب یک زبان ہو کر چلاتے ہیں۔
’’میں تو کسی سے کوئی بات نہیں کر رہا تھا‘‘ پپو گھبراتے ہوئے جواب دیتا ہے۔
’’تم جھوٹے ہو، کھارے نے تمہیں سپاہیوں سے باتیں کرتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے‘‘ پوتنی دا پپو کا دایاں بازو جھنجھوڑتے ہوئے غصے سے بولتا ہے۔

’’وہ تو میری جامہ تلاشی لے رہے تھے‘‘ پپو اپنی صفائی پیش کرتا ہے۔
لیکن پوتنی دا پپو کی بات پوری ہونے سے قبل ہی اس کے منہ پر ایک مکا مارتا ہے جس سے پپو ایک طرف گر جاتا ہے اور پھر سارے لڑکے پپو کو ریت کا تھیلا سمجھ کر دھنائی شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے جسم پر دھڑا دھڑ ضربیں لگنا شروع ہو جاتی ہیں، پوتنی دا بذات خود پپو پر اپنا سارا غصہ نکال رہا ہوتا ہے۔

’’اس کو کیوں مار رہے ہو؟‘‘ شیرنی پاس کھڑی چلا رہی ہوتی ہے۔ وہ انہیں پپو کو مارنے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ لگاتار چلا رہی ہوتی ہے لیکن اُس کی کوئی نہیں سنتا۔ پپو ادھ موأ ہو جاتا ہے اور نڈھال ہو کر ایک جانب لڑھک جاتا ہے، پھر تین چار لڑکے پپو کو ایک بوری کی طرح اٹھاتے ہیں اور ڈولی ڈنڈا کر کے گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں۔
شیرنی ’نئی زندگی‘ فون کرتی ہے اور عمران کو فوراً پہنچنے کیلئے بولتی ہے۔ پپو کراہ رہا ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ عمران اس کی مدد کو نہیں آئے گا لیکن شیرنی اُسے دلاسہ دیتی ہے کہ عمران فوراً پہنچے گا۔ تقریباً دس منٹ بعد عمران اپنی موٹر سائیکل پر وہاں پہنچ جاتا ہے۔ وہ پپو کو تسلی دیتا ہے کہ ایمبولینس آ رہی ہے اور وہ اسے میو ہسپتال لے جائیں گے۔ پپو ڈر رہا ہوتا ہے کہیں وہ لڑکے آ کر اسے دوبارہ نہ ماریں۔ ایمبولینس کی آواز سن کر اُس کے دم میں دم آتا ہے۔

ایمبولینس تیزی سے نکلتی ہے، ایک میڈیکل ٹیکنیشن پپو کی دیکھ بھال کر رہا ہوتا ہے۔ پپو سوچتا ہے کہ اُسے اب کہاں جانا ہو گا؟ یہ دُنیا بڑی ہی گندی جگہ ہے۔ میں اب ’نئی زندگی‘ چلا جاؤں گا۔ شاید وہ میری زندگی کو پٹری پر لانے میں میری مدد کریں۔

* لنک47 پر جائیے۔