پپو شہر سے باہر جانے کیلئے مختلف لوگوں سے بسوں کے اڈے کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے جس پر ایک شخص اُسے نیازی بس اڈے کا پتہ بتاتا ہے۔ پپو جب نیازی اڈے پر پہنچتا ہے تو وہ وسیع و عریض احاطے میں لوگوں کا ایک جم غفیر دیکھتا ہے۔ پپو بھی انتظار گاہ میں ایک طرف بیٹھ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کی جیب میں اتنی رقم تو موجود ہی ہے جس سے وہ کم از کم لاہور تک تو پہنچ ہی سکتا ہے۔
پپو ٹکٹ لینے کے لیے ٹکٹ بوتھ پر پہنچ جاتا ہے اور ایک گھنٹہ قطار میں انتظار کرنے کے بعد پپوکو معلوم ہوتا ہے کہ لاہور جانے والی بس تین گھنٹے بعد رات کے دس بجے روانہ ہوگی۔ یہ سُن کر پپو بہت مایوس ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے خوابوں کے شہر ’لاہور‘ میں ایک ہی پَل کے اندر پہنچ جانا چاہتا ہے۔

لاہور کو سب سے زیادہ پُررونق شہر سمجھا جاتاہے اور یہاں پہنچ کر ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ فلموں اور ڈراموں میں لاہور کا چرچا اس طرح کیا جاتا ہے کہ جیسے یہاں پر پہنچ کر کنگلے، راتوں رات لاکھ پتی بن جاتے ہیں اور بے پناہ شہرت ان کے قدم چومنے لگتی ہے۔

پپو سوچتا ہے کہ کامیابی کیلئے طلسمی شخصیت کا ہونا ضروری ہے اور اگر اُس کے پاس کچھ بھی نہیں تو کم از کم وہ پُرکشش شخصیت کا مالک تو ضرور ہے۔

پپو بس کا ٹکٹ پکڑے اور بیگ کندھے پر لٹکائے ہجوم کو چیرتا ہوا بس میں سوار ہوتا ہے تو بُو کا ایک بھبھکا اس کے ناک سے ٹکراتا ہے ۔پپو کو بس کے اندر کا ماحول پراگندہ محسوس ہوتا ہے۔ زیادہ تر مسافر گھوڑے بیچ کر سوئے ہوتے ہیں۔ پپو اپنی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے جبکہ اُس کی ساتھ والی سیٹ پر ایک ناتواں عمر رسیدہ شخص بیٹھا ہے۔ عمر رسیدہ شخص پپو سے اپنے آپ کو متعارف کرواتے ہوئے اپنا نام عجب خان بتاتا ہے۔

’’مجھے اُمید ہے کہ بس کے نچلے حصے میں میرا سامان محفوظ رہے گا؟‘‘ عجب خان پپو سے پوچھتا ہے۔
’’سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہے گا، آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ پپوعجب خان کو تسلی دیتے ہوئے جواباً کہتا ہے۔

تین گھنٹوں پر محیط پاکستانی فلم ’’مولا جٹ‘‘ دیکھنے کے بعد پپو شدید سردرد محسوس کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ جیسے وہ ایک چلتے پھرتے قیدخانے میں بند ہو۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ کاش! وہ اپنے ساتھ کوئی کتاب یا میگزین لے آتا تو سفر اچھا گزر جاتا۔ وہ تصور کرتا ہے کہ جب وہ لاہور پہنچے گا تو اُس کے جیب میں تھوڑے سے پیسے رہ جائیں گے اور اس کے پاس صرف کپڑے اور ایک ٹوتھ برش ہوگا۔

بس کے اندر پپو کو اپنے اردگرد پریشانِ حال چہرے نظر آتے ہیں جن میں سے کچھ لوگ ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھررہے ہوتے ہیں۔ دورانِ سفر پپو کی آنکھ لگ جاتی ہے، کافی دیر بعد اچانک وہ ہربھڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے اور وقت معلوم کرنے کیلئے بے تاب ہوجاتا ہے۔

*اگلا صفحہ