چاچا چند دنوں کیلئے غائب ہو جاتا ہے۔ ’خاندان‘ والے سمجھتے ہیں کہ وہ گرفتار ہو چکا ہے۔ بِلاّ قصائی نشے میں دھت رہتا ہے۔ ’خاندان‘ کے لڑکے وہی کام دھندے کرتے رہتے ہیں جو چاچا نے ان کو سونپے تھے۔ پوتنی دا بِلاّ قصائی سے پپو کی شکایت کرتا ہے کہ اُس نے پپو کو موہنی روڈ پر سپاہیوں سے بات چیت کرتے دیکھا ہے۔ یہ سُن کر بِلاّ قصائی پپو کو اپنے پاس بلاتا ہے۔

’’میں قسم کھاتا ہوں کہ پولیس والے صرف میری تلاشی لے رہے تھے، میں نے اُن کو کچھ بھی نہیں بتایا‘‘ پپو اپنی صفائی بیان کرتا ہے۔
’’تم جھوٹ بول رہے ہو!‘‘ بِلاّ قصائی پپو کو جھوٹا قرار دیتا ہے اور ساتھیوں کو اس کی پٹائی کیلئے کہتا ہے۔

سارے لڑکے پپو پر جھپٹ پڑتے ہیں اور بوتلوں،ڈنڈوں، مکوں اور جوتوں سے اُس کی خوب ٹھکائی کرتے ہیں۔ پوتنی دا پپو کو انتہائی غصہ کی حالت میں لکڑی کے موٹے ڈنڈے سے مارنا شروع کر دیتا ہے۔ اس دوران پپو کن اکھیوں سے شیرنی کو اپنی سہیلیوں کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ تھوڑی دیر میں پپو نڈھال ہو کر ہوش کھو دیتا ہے۔ دو ننگے لڑکے آصف لنگڑا اور ننھا چنگاری اسے میو ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر چھوڑ جاتے ہیں۔ وہاں سردی میں نیم ہوشی کی حالت میں پڑا پپو کسی ڈاکٹر کی نظر کرم کا طلب گار تھا۔ تھوڑی دیر بعد دو وارڈ بوائے اسے سٹریچر پر اندر لے جا رہے تھے۔

میو ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں پپو سوچتا ہے کہ وہ ’خاندان‘ میں اب کسی کو بھی شکل دکھانے کے قابل نہیں رہا، وہ مجھے دیکھتے ہی پھر مارنے کی کوشش کریں گے۔ پھر اس کا دھیان اپنے حقیقی گھر اور ماں باپ کی طرف گیا اور اس کی آنکھ سے لڑھکتا ہوا آنسو رخسار پر بہنا شروع ہو گیا۔ ایک نرس پپو کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ وہ پپو کے جسم کا معائنہ کرتی ہے اور اسے لگنے والی چوٹوں کا اندازہ لگاتی ہے۔ ایسے مضروب لڑکوں کی شعبہ حادثات میں آمد اُس کیلئے کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ گوالمنڈی کے کلچر میں ایسے حادثات روز کا معمول ہیں۔ نرس پپو کو چمڑے کی بیلٹ سے بستر کے ساتھ باندھ دیتی ہے۔

’’کیا یہ سب کچھ کرنا ضروری ہے؟‘‘ پپو احتجاجاً کہتا ہے۔

’’یہ ہمارا طریقہ کار ہے، کیونکہ کسی بھی نشئی اور زخمی لچے لفنگے کا رویہ غیر یقینی اورخطر ناک ہوتا ہے‘‘ نرس جواب دیتی ہے۔ یہ سب کچھ تمہاری اور ہماری حفاظت کیلئے کیا گیا ہے۔ پپو مڑتے ہوئے دیکھتاہے کہ نرس نئی زندگی کے نمائندے عمران سے باتیں کر رہی ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ عمران ہی اُس کو ہسپتال لے کر آیا ہو گا لہٰذا اس کا احترام اب اس پر فرض ہے۔وہ قطعی طور پر لاعلم تھا کہ مار کھاتے ہوئے کب بے ہوش ہوا اور اسے کون یہاں لایا۔
’’کیا پپو کو باقاعدہ داخل کر لیا جائے گا؟‘‘ عمران نرس سے پوچھتا ہے۔

’’نہیں، میرا خیال ہے کہ وہ چار یا پانچ بجے صبح فارغ کر دیا جائے گا‘‘ نرس جواب دیتی ہے۔

*اگلا صفحہ