گاڑی میں بیٹھ کر وہ ریسٹورنٹ پہنچتے ہیں۔ پپو پر خاموشی طاری ہوتی ہے۔ پپو مسلسل پانچ گھنٹے تک سگریٹوں کے دھوئیں، شراب نوشی اور موسیقی کے ماحول سے اُکتا جاتا ہے۔ وہ وہاں سے نکل کر کسی خوشگوار جگہ پر جا کر لمبا اور پُرسکون سانس لینا چاہتا ہے۔ باہر نکلنے پر اسے دو جانے پہچانے چہرے نظر آتے ہیں۔ وہ ان سے علیک سلیک اور عمومی گفتگو کرتا ہے پھر ڈی مونٹ کے دفتر کے نزدیک چھوٹی سی دیوار پر واپس آ کر بیٹھ جاتا ہے اور سوچتا ہے‘‘ ، ’’اوہ۔۔۔! میری کتنی یادیں اس جگہ سے وابستہ ہیں‘‘۔

اس رات ریسٹورنٹ مندے کا شکار ہے۔ پانچ خوبصورت نوجوان کراچی سے چوری کی وین میں لوٹ مار کرنے لاہور آئے ہوئے ہیں۔ پانچوں اپنی وضع قطع سے خوشحال گھرانوں کے چشم و چراغ نظر آتے ہیں اور سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان نئے مہمانوں کی آمد پر سب خوش ہیں اور ان کے اردگرد منڈلا رہے ہیں۔ پپو تنہائی محسوس کرنے لگتا ہے لیکن ایک کونے میں خالی گلاس کے ساتھ میز کرسی پر جما رہتا ہے۔
پپو آرام کرنے کیلئے ایک مطمئن بلی کی طرح چھوٹی دیوار پر سکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ نوجوان اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگتے ہیں اپنی زبان میں وہ اسے ’’کِٹ لگانا‘‘ کہتے ہیں۔ نوجوان اسے ’’چڑیا‘‘ کہہ کر بلاتے ہیں لیکن وہ کوئی رد عمل نہیں دیتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ پانچ کے مقابلے میں اکیلا ہے، بلکہ وہ اس قدر شکستہ دل اور ہمت سے عاری ہے کہ اگر کوئی نوجوان جو کہ لنگڑا لولا بھی ہوتا تو وہ بھی اسی طرح بے دلی سے پڑا رہتا۔ ایک طرح سے اُس نے بے بسی سیکھ لی تھی۔

’’نئی زندگی‘‘ سے دو کونسلرز لوگوں کو کنڈوم کے فوائد سمجھا رہے تھے اور کنڈوم فری مہیا کر رہے تھے لیکن کوئی بھی ان سے گفتگو پر آمادہ نہ تھا۔ وہ دونوں بہت دل جمعی سے لوگوں سے بات چیت کر رہے تھے لیکن کوئی بھی اُن کی سننے والا نہیں ہے۔

’’کیا ’’ایچ آئی وی‘‘ اور ایڈز دو مختلف بیماریاں ہیں؟‘‘ پپو پوچھتا ہے۔

’’ایچ آئی وی‘‘ ایک وائرس کا نام ہے۔ جو لوگ غیر محفوظ جنسی ملاپ کرتے ہیں یہ وائرس اکثر اُن میں پایا جاتا ہے اور وہ اسے دوسروں میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر کسی میں وائرس منتقل ہو جائے تو اسے ایچ آئی وی پازیٹو کہا جاتا ہے۔ ایچ آئی وی پازیٹو لوگ کئی سالوں تک بیمار نہیں ہوتے لیکن انسان کے مدافعاتی نظام میں خلل پڑ جاتا ہے۔ وہ اپنے جسمانی نظام کی حفاظت اس طرح نہیں کر پاتے جیسے کہ دوسرے لوگ باآسانی کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اُن کے جسم پر سوزش ہو سکتی ہے جس کے بعد دانے نکل آتے ہیں تاہم ایک تندرست آدمی میں ان جراثیم کو رد کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔‘‘ وہ تفصیلاً جواب دیتا ہے۔

’’تو پھر ایڈز کیا شے ہے؟‘‘ پپو مزید پوچھتا ہے۔
ایڈز کسی خاص بیماری کا نام نہیں ہے جبکہ یہ اُسی کیفیت کا نام ہے جس میں ایچ آئی وی پازیٹو والے شخص کو مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب کوئی شخص اس طرح بیمار ہوتا ہے تو اس کی جسمانی حالت کو ایڈز کا نام دیتے ہیں۔ اس حالت زار سے پہلے اس شخص کو ایچ آئی وی پازیٹو ہی کہیں گے۔‘‘
’’لوگ وائرس کا شکار کس طرح ہوتے ہیں؟‘‘ پپو ایک اور سوال داغ دیتا ہے۔

اگلاصفحہ