موسم قدرے خنک تھا مگر کچھ خاص سردی نہیں تھی۔ کچھ دیر پہلے پپو ریسٹورنٹ میں تھا کچھ بوندا باندی بھی ہوتی رہی تھی۔ پپو ریسٹورنٹ سے نکل کر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے گردو پیش سے بے نیاز فورٹ روڈ سے گزرتی ہوئی ٹریفک دیکھتا رہتا ہے۔ پپو کا دماغ مختلف خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ کبھی وہ سوچتا ہے کہ اُسے خود کشی کر لینی چاہیئے، مگر پھر وہ سوچتا ہے کہ خود کشی تو حرام ہے، یہ کام تو ہر گز نہیں کرنا چاہیئے۔ پھر وہ اپنے حالات کے بارے میں سوچنے لگتا ہے جو دن بدن خراب ہوتے چلے جا رہے ہیں کبھی وہ پریشان ہو جاتا ہے اور کبھی اپنے آپ کو حیلے بہانوں سے مطمئن کرتا ہے۔۔۔ پھر اُس لڑکی کا خیال آ جاتا ہے جو اسے اِسی ریسٹورنٹ میں ملی تھی اور جسے پپو کی وجہ سے ایڈز کا وائرس ملا۔ اب پپو اُن سب لوگوں کے بارے میں سوچتا ہے جنہیں پپو نے ممکنہ طور پر ایڈز کا وائرس منتقل کیا ہو گا۔ اُس لڑکی کا خیال آتے ہی وہ کالج کی اُن بے وقوف لڑکیوں بارے سوچنے لگتا ہے جن کے ساتھ اُس کے ناجائز تعلقات رہے تھے۔

ابھی وہ انہی سوچوں میں ڈوبا ہوا ہے کہ اُسے ’’نئی زندگی‘‘ کے وہ دونوں کاؤنسلر پھر نظر آتے ہیں۔ وہ دونوں اُس کے پاس سے تیزی سے گزر جانا چاہتے ہیں مگر پپو آواز دے کے اُن دونوں کو روک لیتا ہے۔

’’ارے یار میری بات سنو۔۔۔‘‘ پپو بہت مہذبانہ انداز میں انہیں اپنے پاس بلاتا ہے۔ اپنی آواز کی افسردگی پپو کو بھی محسوس ہوتی ہے۔ وہ دونوں بھی اسے محسوس کرتے ہیں اور بے چین دکھائی دیتے ہیں۔

’’۔۔۔یار میری بات سنو پلیز، صرف ایک منٹ کیلئے۔۔۔‘‘ وہ منت سماجت پر اُتر آتا ہے۔
پپو کا بنیادی مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کوئی اُسے یہ بتائے کہ اُس کی سب حرکتوں پہ اُسے معافی مل گئی ہے یا کوئی اُسے تسلی دے یا سیدھا راستہ دکھائے۔ وہ تو صرف یہ چاہتا تھا کہ کوئی اُس کے سامنے کھڑا ہو کر یہ کہے، ’’دیکھو مجھے بھی ایچ آئی وی پوزیٹو ہے، مجھے بھی یہ بیماری ہے مگر میں بالکل ٹھیک ہوں اور تم بھی ٹھیک رہو گے‘‘۔

وہ دونوں فائلوں کا پلندہ اُٹھائے پپو کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک لمحے کیلئے پپو کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کہے۔ وہ اپنی ٹانگیں سیدھی کرتا ہے اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ جاتا ہے اور اوٹ پٹانگ اور بے سرو پا باتیں کرنے لگتا ہے۔
’’تم لوگوں کو ساری رات یہاں پھرتے ہوئے کیسا لگتا ہے۔۔۔؟ تم لوگوں کو بہت سی عجیب چیزیں دیکھنے کو ملتی ہوں گی۔۔۔‘‘ خاتون کونسلر پپو کی باتیں سن کر مسکراتے ہوئے کہتی ہے۔

’’یہ سب کچھ دلچسپ ہے مگر تکلیف دہ بھی، اگر مجھے کبھی ایسے رہنا پڑے تو میں نہ رہ سکوں، کیا تم دونوں میں سے کوئی اس دھندے میں رہا ہے؟‘‘ پپو دونوں سے دریافت کرتا ہے۔

اگلاصفحہ