خواب بالکل حقیقت جیسا تھا پپو جیمز بانڈ کی طرح جنگل میں بھاگا چلا جا رہا ہے، اسے محسوس ہو رہا ہے کہ اس کے پیچھے دشمن لگا ہوا ہے۔ پپو کی نظروں سے بظاہر وہ پوشیدہ ہے لیکن کچھ انہونی بات ضرور ہے اس کے دشمن کے بارے میں جو اسے انتہائی خوفزدہ کئے آواز دے رہا ہے۔ پپو کو پتوں کی سرسراہٹ سنائی دے رہی ہے مگر وہ پلٹ کر پیچھے دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔ اسے لگتا ہے کہ وہ جتنا چاہے تیز بھاگے، وہ اپنے دشمن سے بچ نہیں سکتا۔ اس کا حلق بالکل خشک ہے۔ اس کا دشمن نا صرف انتہائی طاقتور ہے بلکہ چاک و چوبند بھی۔۔۔ لیکن یہ سب کچھ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آتا ہے۔ یکایک وہ لڑکھڑاتا ہے، قلابازیاں کھاتا ہے اور پھر گرتا ہی چلا جاتا ہے۔۔۔

جیسے ہی اس کی آنکھ کھلتی ہے تکلیف کی شدت اُسے آن گھیرتی ہے۔ ہوش میں آتے ہی اُس کا سر درد سے بھر جاتا ہے۔ جیسے جیسے اُسے ہوش آ رہا ہے اذیت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے آس پاس تازہ لکڑی کی خوشبو ہے، کچھ ہی فاصلے پر کوئی لکڑی کاٹ رہا ہے۔

وہ کہاں ہے۔۔۔ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے، اِدھر اُدھر دیکھتا ہے اور پھر درد کی شدت سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ آس پاس لکڑی کا برادہ پھیلا ہوا ہے۔ اس کے گلے میں بھی برادہ جما ہوا ہے۔ وہ اپنے بازو اور ٹانگیں ہلانے کی کو شش کرتا ہے مگر بے سود۔

وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا ہے اور اُس کی ٹانگیں اور ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔اُس کے تن پر کوئی کپڑا نہیں، وہ برہنہ ہے۔ اس کا سارا جسم درد کی شدت سے شل ہے۔ وہ آنکھیں کھول کے سر گھمانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ نظر آتے ہیں۔ وہ کسی نامکمل عمارت میں ہے۔ وہ دوبارہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔

وہ مدد کیلئے پکارتا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ یہاں اس کی مدد کیلئے کوئی نہیں۔ وہ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ جب وہ ہوش میں تھا تو آخری کام اس نے کیا کیا تھا؟ اسے نشے کی بہت طلب ہو رہی ہے، پھر اسے یاد آتا ہے کہ شاید رات والا کچھ نشہ بچا ہو، وہ ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اُسے درد کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ وہ اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ بے بسی کے عالم میں اپنے اردگرد دیکھتا ہے، اسے اپنے پاس صرف ایک خون میں لتھڑی لوہے کی چین نظر آتی ہے۔ وہ سوچتا ہے شاید اسی سے اسے مارا گیا ہو۔ وہ پھر دماغ پر زور ڈالتا ہے۔ اسے یاد آتا ہے آخری دفعہ اس نے بس سٹاپ پر بیٹھ کر نشہ کیا تھا پھر ایک بس سے دو لڑکے اترے تھے جو ملتان سے آئے تھے، وہ انہیں نشہ بیچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن وہ لڑے کسی صورت بھی نشہ خریدنے پر آمادہ نہ تھے۔ وہ لڑے چرس کے رسیا تھے لیکن کسی صورت بھی ہیروئن پینے کیلئے ہمت جمع نہیں کر پا رہے تھے۔ اس کے بعد وہ ادھر گرد کوئی اور گاہک تلاش کرنے لگا۔ آخر ناکام ہو کر وہ اسی بلڈنگ کے پاس ہی بیٹھ کر نشہ کرنے لگا اس کے بعد کی کوئی بات ا سے یاد نہیں آتی اور اب وہ یہاں بے یارومددگار پڑا تھا۔ اس ناگفتہ بہ حالت میں بھی اسے صرف نشے کی طلب ہو رہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو کوس رہا تھا۔ آخر اس نے سارا نشہ کیوں کر لیا؟ کچھ بچا کر کیوں نہ رکھا؟ اپنی عاقبت نااندیشی پر وہ لعنت ملامت کیا کرتا تھا۔ اسے اس بات کا کوئی ملال نہ تھا کہ اسے اغوا کیا گیا، مارا پیٹا گیا اور اس کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔ اسے صرف نشے کی پرواہ تھی۔

اگلاصفحہ