خواجہ شمس اور پپو میٹنگ کیلئے باغ جناح پہنچتے ہیں۔ کلب کی بلڈنگ کے پاس ایک شخص انہیں خوش آمدید کہتا ہے۔
’’میرا نام ملک ہے‘‘۔ وہ شخص ہاتھ ملا کر مسکراتے ہوئے اپنا تعارف کرواتا ہے، ’’ہائے! خواجہ کیسے ہو؟‘‘
’’کوئی چالاکی کرنا پڑے گی، پپو دل میں سوچتا ہے، میں خواجہ سے باتھ روم جانے کے بہانے جان چھڑاتا ہوں اور پھر ’’پنی‘‘ لگاتا ہوں، پھر پپو مسکراتا ہے اور ملک سے پوچھتا ہے‘‘، ’’باتھ روم کدھر ہے؟‘‘ ملک ایک دروازے کی طرف اشارہ کرتا ہے، پپو اس کے بازو پر تھپکی دیتا ہے اور خواجہ سے پوچھتا ہے ، ’’کیا یہاں کا انتظام یہی بندہ چلاتا ہے؟‘‘
خواجہ شمس اس کا ارادہ بھانپ لیتا ہے اور زبردستی اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔

’’نہیں، یہ فقط آنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہے‘‘۔
خواجہ پپو کو بتاتا ہے کہ استقبالیہ میں لوگ باری سے آتے ہیں اور وہ اسی طرح سے آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، ’’ ہائے! نام ملک ہے۔‘‘
پپو اس کی نقل اتارتا ہے۔
’’چلو، چل کر دیکھیں بیٹھنے کیلئے سیٹ بھی ہے یا نہیں۔۔۔‘‘ خواجہ پپو کو اندر لے جاتا ہے۔

ایک نوجوان خواجہ کا حال چال پوچھتا ہے اور خواجہ پپو کو اس سے ملواتا ہے جس پر وہ مسکرا دیتا ہے۔ خواجہ اس نوجوان کو ایک طرف لے جا کر کوئی بات کرتا ہے جس کے جواب میں وہ بتاتا ہے کہ سیٹیں تو خالی ہیں لیکن کچھ لوگ انہیں ریزرو کر گئے ہیں۔ تاہم میں آپ کیلئے انتظام کرتا ہوں۔ پپو دل ہی دل میں سوچتا ہے کہ میں واپس باہر جاؤں اور پارکنگ میں کسی کی گاڑی سے سٹیریو نکال کر بیچ کھاؤں۔ اتنی دیر میں ایک لڑکا آ کر خواجہ سے گلے ملتا ہے۔ خواجہ اُس کا تعارف پپو سے کراتا ہے۔ کمرے میں پچاس کے قریب کرسیاں ترتیب سے رکھی ہیں اور خواجہ میٹنگ روم کے آخر میں دو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ پپو خواجہ شمس کے ساتھ بادل نخواستہ کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ پپو کو یہاں بیٹھنا اچھا نہیں لگ رہا اور جان بوجھ کر دھڑام سے اپنی کرسی سے نیچے گِر جاتا ہے۔
سب لوگ پیچھے مُڑ مُڑ کر دیکھتے ہیں تو پپو ہنسنا شروع کر دیتا ہے۔

’’یہ تم کیا کر رہے ہو؟‘‘ خواجہ پپو کے کان میں سرگوشی کرتا ہے؟
’’کیا؟‘‘ پپو حیرانگی سے خواجہ شمس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے، ’’میرا کیا قصور؟ کرسی ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔‘‘
تمام لوگ ایک دفعہ پھر پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہیں۔ خواجہ گھیسانا ہو کر مسکرا دیتا ہے۔ پھر کچھ لوگ سیدھا رُخ کر کے چہ میگوئیاں شروع کر دیتے ہیں۔
’’یہ جو تمہاری حرکتیں ہیں ناں تمہیں بھوکا مار سکتی ہیں!‘‘ خواجہ پپو سے کہتا ہے، اور کم از کم کپڑے تو صاف پہننا شروع کرو‘‘۔
پپو یہ سن کر سنجیدہ ہو جاتا ہے اور اپنے جسم پر نظر ڈالتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ واقعی اس کے کپڑے گندے ہیں۔

اگلاصفحہ