پپو ایک سال کی آوارہ گردی کے بعد پھر ٹیکسالی گیٹ واپس آ جاتا ہے۔ وہ فورٹ روڈ کا چکر لگاتا ہے۔ بہت سے نئے چہرے نظر آتے ہیں۔ ایک آدھ کوئی پرانا ساتھی بھی نظر آتا ہے۔ ریسٹورنٹ میں اُسے ایک لڑکا بہت دوستانہ انداز میں ملتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ اُسے پہلے سے جانتا ہے مگر پپو کی اس سے کوئی شناسائی نہیں ہے۔ اصل میں وہ پپو سے نشے کیلئے پیسے ہتھیانے چاہتا ہے اس لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے۔ پپو وہیں ایک سائیڈ پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں سوچتا ہے کہ جب وہ نیا نیا یہاں آیا تو اُس نے بہت پیسے بنائے کیونکہ وہ کم عمر ہوتا ہے۔ اس لیے زیادہ لوگ اُس کی طرف بڑھتے ہیں۔ نشہ کر کے اُس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے ہیں، صحت خراب ہو گئی، جس کام کیلئے پہلے وہ دو سو سے چار سو تک کما لیتا، اب اُسی کام کیلئے لوگ اُسے پچاس بھی مشکل سے دیتے ہیں۔

ایک رات وہ اس چیز کی شکایت اپنے ساتھی سے کر رہا ہوتا ہے تو وہ اِسے سمجھاتا ہے کہ یا تو وہ اپنا حلیہ بدل لے، اچھے سے کپڑے خریدے اور میک اِپ کر کے اپنے آپ کو یکسر تبدیل کرے تب کہیں جا کر وہ مزید پیسے بنا سکتا ہے اور یا پھر وہ اپنی قسمت آزمانے کیلئے رائل پارک چلا جائے، کیونکہ وہاں کم لڑکے ہوتے ہیں اس لیے پپو کو فائدہ اٹھانے کا زیادہ موقع ملے گا۔ وہ لڑکا پپو کی مدد کو بھی تیار ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ اُسے نشہ خرید کے دے۔ پپو کو اُس کی دونوں تجاویز بہتر لگتی ہیں۔

رائل پارک سے ہوتا ہوا وہ داتا صاحب جاتا ہے۔ پھر گلبرگ، ایمپائر سنٹر اُس کے بعد مسلم ٹاؤن۔ اب سب جگہوں پر اپنی قسمت آزماتے ہوئے وہ کینٹ گرجا گھر پہنچتا ہے۔ کسی جگہ پپو کو بہت فائدہ ہوتا ہے اور کسی جگہ تو پولیس والے پہنچ جاتے ہیں اور ڈرا دھمکا کے وہاں سے بھگا دیتے ہیں۔

ایک دن وہ اپنے گاہک کی گاڑی میں بیٹھا ہوتا ہے کہ اُس کے کان میں آواز پڑتی ہے، ’’میری کالوں کا دھیان رکھنا‘‘۔ اُس کا گاہک گاڑی سٹارٹ کرتے ہی اپنی سیکرٹری کو فون پہ کہتا ہے۔

یہ فقرہ سنتے ہی پپو کو جھاجھو کا خیال آ جاتا ہے۔ فورٹ روڈ پہ واپس پہنچ کے جھاجھو کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔ کسی کو بھی اُس کے بارے میں نہیں معلوم۔ ایک لڑکا پپو کو بتاتا ہے کہ جھاجھو کو پولیس پکڑ کے لے گئی تھی منشیات بیچنے کے جرم میں۔ اُس کے بعد اُسے کسی نے نہیں دیکھا۔ پپو سڑک کے کنارے ہی بس سٹاپ کے ایک بنچ پہ بیٹھ جاتا ہے اور جھاجھو کے بارے میں سوچنے لگتا ہے کیونکہ اپنی زندگی میں اُسے صرف جھاجھو کی دوستی کا ہی آسرا ہے۔ سوچتے سوچتے وہ دلبرداشتہ ہو جاتا ہے، اپنا غم غلط کرنے کیلئے وہ شراب پینے کا سوچتا ہے۔

اگلاصفحہ