اس گھناؤنے کھیل میں پپو کی کوشش یہیں پر اختتام پذیر ہوتی ہے ، یہ کوشش بار آور ہوئی یا نہیں، اس کا فیصلہ آپ خود کریں گے۔ آپ کو پپو کا پوشیدہ راز تو معلوم ہی ہے۔آپ کو پپو کے بھاگنے کی وجوہات بھی معلوم ہیں۔

کیا پپو کے اس مسئلے کا حل سڑک پر تھا؟

اگر آپ دوبارہ نئے سرے سے کھیل کھیلنا چاہتے ہیں تو ایک کوشش اور کر کے دیکھ لیجئے، اس مرتبہ پپو کے مسائل کیلئے مختلف حل پسند کیجئے گا۔یہ ایک بہت بڑی سہولت ہے جو عام طور پر گھر سے بھاگنے والے پپو جیسے لوگوں کو حاصل نہیں ہوتی۔

جب ایک نوجوان گھر سے بھاگتا ہے اور پھر سیکس ورکر بن جاتا ہے یا پھر وہ ایک مجرم بن کر جیل میں پہنچ جاتا ہے یا پھر وہ اٹھارہ سال کی عمر میں ہی جانوروں کی طرح کام کرنے لگ جاتا ہے تاکہ وہ اپنے بل ادا کر سکے اور اپنا خرچہ اُٹھا سکے یا پھر وہ نشے کی ادویات استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے یا اسے ایڈز ہو جاتی ہے یا پھر وہ اپنی زندگی ختم کرلیتا ہے۔ ان سب حالات میں اس کے پاس ایسی کوئی آپشن نہیں کہ اگر حل اس کی مرضی کا نہیں نکلا تو وہ کتاب کو دوبار ہ سے پڑھنا شروع کر دے۔ ہماری اصل زندگی کا انحصار ہمارے اعمال پر ہوتا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ اس خوف اور تکلیف کو دوبارہ پیدا کیا جا سکے جس کا سامنا ایک گھر سے بھاگے ہوئے نوجوان کو سڑک پر ہوتا ہے، یہ آخری موقع ہوتا ہے سڑک پر آپ کو نہیں معلوم کہ خطرہ کس سمت سے آپ کی طرف بڑھے گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس قدر مضبوط اعصاب کے مالک ہیں یا آپ کتنے عقل مند ہیں یا کتنی آسانی سے آپ اپنے آپ کو پریشانی سے نکال سکتے ہیں۔ جب ایک نوجوان اپنی طاقت اور دوسروں کی مدد کے بل بوتے پر سڑک پر نکلتا ہے جیسا کہ اورنوجوان بھی کرتے ہیں اور جیسا کہ پپو نے بھی کیا۔ اس سے بڑی کوئی اور انہونی طاقت پہلے سے موجود ہوتی ہے جو آپ سے بڑی ، آپ سے زیادہ ہوشیار اور آپ سے زیادہ منہ زور ہوتی ہے اور جس کا سامنا کرنے پر تو آپ کے ہاتھوں کے طوطے ضرور اُڑ جاتے ہیں۔ اس کتاب میں باہر کی دنیا میں آپ کے لیے غصے، نشے، ملال اور بیماری کے بہت زیادہ مواقع ہیں جو ہر وقت آپ کی زندگی کی خوشیوں کے ساتھ تصادم میں رہتے ہیں اور بسا اوقات صرف اپنے آپ کو سڑک سے ہٹا لینا ہی وہ واحد قدم ہے جو آپ کو ایک مطمئن زندگی کی طرف لوٹا سکتا ہے۔

مگر یہ صرف ایک کتاب ہے حقیقی دُنیا میں عین اس وقت ایسے نوجوان ہوں گے جو گھر سے بھاگنے کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے ۔ ہر ایک کے پاس اپنا پوشیدہ راز ہے وہ نہیں جانتا ہے کہ اب اسے کیا کرنا ہے؟ ابھی بھی جیسا کہ آپ یہ کتاب پڑھ رہے ہیں، کچھ نوجوان اپنا سامان باندھ رہے ہیں، کچھ ایسے نوجوان پہلے سے ہی آبروریزی کا شکار ہوتے ہیں، کچھ تشدد کا شکار ہوتے ہیں، کچھ کے گھر والے نشے کے عادی ہوتے ہیں، کچھ کو سوتیلے پن کے مسائل درپیش ہوتے ہیں، کچھ کو والدین سے مسائل ہوتے ہیں، ان میں سے کچھ کے والدین اصلی نہیں ہوتے، کچھ جذباتی طور پر پریشان ہوتے ہیں، کچھ نشئی ہوتے ہیں، کچھ کو سکول پسند نہیں ہوتا، کچھ کو پابندیوں پر اعتراض ہوتا ہے، کچھ اپنا مؤقف ثابت کرنا چاہتے ہیں ، کچھ اپنے والدین کو سزا دینا چاہتے ہیں اور کچھ کو شوقیہ خطرہ مول لینے کی عادت ہوتی ہے۔ کچھ صرف کھڑکیاں، دروازے توڑتے ہیں، کچھ موٹر سائیکل کا پہیہ اوپر اُٹھاتے ہیں، پھر جب خراب نتائج حاصل کرتے ہیں تو پھر گھر جانے سے کتراتے ہیں۔ کسی بھی نوجوان کا گھر سے بھاگنے کا جو بھی جواز ہو یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سڑک پر نکل کر جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یقیناًان پریشانیوں سے بڑی ہوتی ہیں جن کا سامنا گھر میں رہتے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ نوجوان جن کو گھر میں جسمانی تشدد کا سامنا ہوتا ہے سڑک پر پہنچ کر وہ اس قدر جسمانی اذیت کا سامنا کرتے ہیں کہ قومے میں پہنچ جاتے ہیں۔

* اگلاصفحہ