پپو اپنے کندھے جھٹکتا ہے اور اپنا سامان اُٹھا کر واپس اپنے گھر کی طرف چل پڑتا ہے۔ وہ اپنے کمرے میں واپس آکر سارا سامان بیگ سے باہر نکالتا ہے ۔ کپڑے اور باقی سب چیزیں اُسی طرح سنبھال کر واپس رکھ دیتا ہے۔ پھر وہ لائٹ بند کر کے اپنے بستر پر لیٹ جاتا ہے۔ اُس کا دل زار و قطار رونے کو کرتا ہے مگر وہ ضبط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتاکیونکہ وہ گھر سے بھاگنا چاہتا ہے مگر نہیں بھاگ سکتا۔ اُسے خود پر غصہ آرہا ہوتا ہے اور اس کا دل کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی طریقے سے سخت اذیت میں مبتلا کرے لیکن وہ اپنے اس خیال کو بھی تھپکی دے کر سلا دیتا ہے کیونکہ اُسے معلوم ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔وہ سوچتا ہے کہ میں اتنا بہادر نہیں ہوں کہ گھر سے بھاگنے کا رِسک لے سکوں اور نہ ہی اتنا دلیر ہوں کہ ان سب آسائشوں کو ٹھوکر مار کر چلا جاؤں۔

کیا معلوم کہ حالات بدل جائیں اور میں اپنے اس ارادے سے باز آجاؤں لیکن ہوسکتا ہے کہ مجھے گھر والوں سے قطع تعلق ہو نا پڑے، یہی سوچتے سوچتے پپو کی آنکھ لگ جاتی ہے۔سورج کی روشنی سے پپو کی آنکھ کھلتی ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ وہ کپڑے بدلے بغیر ہی سوگیا ہے۔اپنا کمرہ ، کھڑکی سے آتی ہوئی روشنی اُسے زندگی کا پیغام نظر آتی ہے۔

* لنک47 پرجائیے۔