پپو مایوسی کے عالم اپنے ہی شہر کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے ہوئے محسوس کرتا ہے کہ شاید وہ لوگوں کی نگاہ کامرکز بنا ہوا ہے۔ پپو اپنے کاندھے پر بیگ لٹکائے اِدھر اُدھر بھٹک رہا ہے۔ اور سوچتا ہے کہ کیا میں گھر سے بھاگاہوا ہوں؟ کیا یہ میری عقلمندی ہے؟ میرے کسی بھی دوست نے میرا ساتھ نہیں دیا اور گھر سے بھاگنے کا حوصلہ نہیں کیا۔ کیا وہ مجھ سے زیادہ سمجھدار ہیں؟

میری آدھی سے زیادہ مشکلات اِس شہر کی وجہ سے ہیں، مجھے ہر روز اِنہی احمق لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر میں کسی اور شہر چلا جاؤں تو وہاں اپنے ساتھی خود چُن سکتا ہوں۔ مجھے یہ فکر نہیں ہوگی کہ لوگ مجھے جانتے ہیں۔ میں اپنے آپ کو کچھ بھی ظاہر کر سکوں گا اور لوگ صرف اُتنا ہی جانیں گے جتنا کہ میں اُن کو اپنے بارے بتاؤں گا۔ میں اُنہیں کچھ بھی کہہ سکتا ہوں، کچھ بھی بتا سکتا ہوں، کسی بھی شہر کا نام لے سکتا ہوں، اپنے لباس کا انداز بدل سکتا ہوں تاکہ کسی کو میرے بارے کچھ معلوم نہ ہوسکے۔ میں ساری رات اِدھر اُدھر گھوم سکتا ہوں، سارا دن سو سکتا ہوں، کچھ بھی کر سکتا ہوں، اب میں آزاد ہوں ۔

سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے پپو فیصلہ کرتا ہے کہ اگر وہ یہ شہر چھوڑ کر کسی دوسرے شہر چلا جائے گا تو وہ کامیاب ہوجائے گا۔ پپو سڑک کے کنارے کھڑا ہوجاتا ہے تاکہ کسی گاڑی سے لفٹ لے سکے۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایک ٹرک اُس کے سامنے آکر رُکتا ہے جس کے پیچھے کچھ فرنیچر، گھریلو سامان اور چند ڈبے لدے ہوئے ہیں۔ پپو ٹرک کی طرف لپکتا ہے، اِسی اثناء میں ٹرک میں موجود ادھیڑ عمر ڈرائیور، پپو کیلئے دروازہ کھولتا ہے۔ پپو ٹرک پر سوار ہو جاتا ہے اور ٹرک چل پڑتا ہے۔ پپو اتنی جلدی مدد مل جانے پر خوش ہوتا ہے اور اُس کے دل میں خیال آتا ہے کہ شاید خدا بھی یہی چاہتا ہے۔

’’میں طُور خان ہوں‘‘ ڈرائیور اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہتا ہے۔
طُور خان لمبے قد اور مضبوط جسم کا مالک ہے۔ گھنے گہرے بالوں میں وہ دلکش نظر آ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے طُور خان کوئی طرم خان ہے۔ اُس نے کھدر کی شلوار قمیض زیب تن کر رکھی تھی۔
’’میرا نام نونی ہے‘، لِفٹ دینے کا شکریہ‘‘ پپو اپنا نیا نام چنتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
’’کیا یہ اب مجھ سے پوچھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں اور کہاں جارہا ہوں؟‘‘ پپو کے ذہن میں سوال اُبھرتا ہے جس سے وہ تھوڑا سا پریشان ہوجاتا ہے۔
ٹرک میں ایک خالی پنجرہ پڑا ہوتا ہے اور ہرے رنگ کے کچھ ڈبے فرش پر بکھرے ہوتے ہیں اور ٹرک میں ہلکی سی بدبو بھی پھیلی ہوئی تھی لیکن پپو سوچتا ہے خیر ہے، اُسے لِفٹ تو ملی۔
’’مجھے خوشی ہے کہ میری نظر تم پر پڑ گئی، مجھے بھی سفر میں کوئی ساتھ چاہئیے تھا، میں پچھلے چھ گھنٹے سے مسلسل گاڑی چلا رہا ہوں اور عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کو سُن سُن کر اب تو میرا دماغ پکنے لگا تھا۔۔۔ میں لاہور جا رہا ہوں، تمہیں جہاں تک جانا ہے بتا دینا، میں تمہیں وہاں اُتار دوں گا۔‘‘ طُور خان کے لب و لہجے میں شرارت جھلک رہی تھی جو پپو نے محسوس نہیں کر پاتا ۔
’’آپ کا شکریہ‘‘ یہ کہہ کر پپو سکون سے ٹیک لگا کر اپنا بیگ ٹانگوں کے درمیان رکھ لیتا ہے اور کھڑکی سے باہر اپنے شہر کو نظروں سے اوجھل ہوتے ہوئے دیکھنے لگتا ہے۔

*اگلا صفحہ