پپو کے دل میں بس اڈے سے نکل کر مدد کیلئے پولیس اسٹیشن جانے کا خیال آیا اور پھر وہ لوگوں سے پتہ پوچھ کر پولیس اسٹیشن پہنچ گیا، وہاں متعلقہ افسر موجود نہ تھا، ایک سپاہی نے پپو کو بینچ پر بیٹھ جانے کو کہا۔ ایک گھنٹے بعد جب متعلقہ افسر پولیس سٹیشن پہنچا تو اُس نے پپو کی مدد کرنے کی بجائے اُس سے اُلٹا گھر چھوڑنے کی وجہ پوچھی جس پر پپو گھبرا گیا اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ پپو کے اس طرح بغلیں جھانکنے پر پولیس والے اس کو مجرم تصور کرنے لگے۔
’’میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا!‘‘ پپو احتجاج کرتا ہے لیکن پولیس افسر اُس کی ایک نہیں سنتا اور اسے حوالات میں بند کر دیتا ہے۔ پپو کا بھوک کے مارے بُرا حال ہوتا ہے وہ ایک سپاہی سے کچھ کھانے کو مانگتا ہے، وہ سپاہی اسے ایک امیر گھرانے کا فرد سمجھتے ہوئے ترس کھاکر ایک برگر لادیتا ہے جس سے وہ اپنے پیٹ کے دوزخ کی آگ بجھاتا ہے۔ تمام رات پپو کے ناک میں مچھروں نے دم کیے رکھا اور رہی سہی کسر سخت اور کھردرے فرش نے پوری کردی۔ پپو کا جسم مٹی کا ڈھیر بن چکا تھا اور وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ نہ جانے اب آنے والے کل میں اس پر کیا بیتے گی؟ آہستہ آہستہ اُس کے دماغ نے بھی اس کا ساتھ دینا چھوڑ دیا اور وہ گہری نیندسو جاتا ہے۔

اگلے دن پولیس پپو کو دارلشفقت چھوڑ آتی ہے۔ وہاں کی انچارج خاتون اس کو دیکھ کر زیادہ خوش نہیں ہوتی اور بادل نخواستہ پپو کو ایک کمرے میں لے جاتی ہے اور نہانے دھونے کے لیے تولیہ اور صابن فراہم کر دیتی ہے۔ پپو جب نہا کر باہر نکلتا ہے تو وہ اس کے اور اس کے گھر والوں کے متعلق مختلف سوالات کرتی ہے اور پپو اس کو صاف صاف سب کچھ بتا دیتا ہے۔ رات کو پپو دارالشفقت کے اسی کمرے میں دوبارہ لمبی تان کر سو جاتاہے۔

پپو پریشان ہوتا ہے کہ کل کیا ہونے والا ہے، اور یہ سوچتے سوچتے گہری نیند میں چلا جاتا ہے۔

* لنک24 پر جائیے۔