پپو بس اڈے سے نکل کر منزل مقصود سے بے خبر ایک ویگن میں سوار ہو جاتا ہے جو مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہے، پپو بمشکل اپنے لیے اُس میں جگہ بنا پاتا ہے۔

’’یہ ویگن کہاں جا رہی ہے؟‘‘ پپو اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک مسافر سے پوچھتا ہے۔
’’مینار پاکستان‘‘ مسافر جواب دیتا ہے۔
کچھ دیر کے بعد کنڈیکٹر پپو کے قریب پہنچتا ہے اور کرائے کا تقاضا کرتا ہے لیکن پپو کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ۔

’’اگر کرایہ نہیں ہے تو پھر تم نے ویگن میں بیٹھنے کی جرأت کیسے کی؟‘‘ کنڈیکٹر نے پپوکو ڈانٹتے ہوئے پوچھا۔
پپو اس کی ڈانٹ پھٹکار سُن کر پریشان ہوجاتا ہے اور خاموشی اختیار کرلیتا ہے۔ کنڈیکٹر ویگن رکوا کر پپو کو دھکا دے کر نیچے اُتار دیتا ہے اور پپو فٹ پاتھ پر گر جاتا ہے۔ پپو کا نقاہت کے مارے بُرا حال ہوتا ہے وہ بمشکل اُٹھتا ہے اور بغیر کچھ سوچے سمجھے مایوسی کے عالم میں سر جھکائے سڑک کے ایک طرف چلنا شروع کر دیتا ہے۔

پپو کو اس طرح چلتے ہوئے ایک گھنٹہ گزر جاتا ہے، رات کے اندھیرے گہرے ہونے لگے ہیں، پپو سوچتا ہے کہ اُس کو لاہور میں قدم قدم پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وہ تمام دن دھوپ میں لاہور کی سڑکوں پر مارا مارا پھرتا رہا تھا اور ابھی تک اُسے کوئی ٹھکانہ میسر نہ آیا۔ پپو کو اپنے والد صاحب کی یہ بات بڑی شدت سے یاد آرہی تھی کہ ’’گھر سے بھاگ جانے والوں کیلئے کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی۔‘‘ پپو کا پاؤں اچانک فٹ پاتھ پر پھسل جاتا ہے اور وہ ڈھلوان سے لڑھکتا ہوا کانٹے دار جھاڑیوں میں پھنس جاتا ہے۔ پپو اب لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو چکا ہے۔ پپو اپنے آپ کو جھاڑیوں سے نکالتا ہے اور سخت کھردی زمین پرلیٹ جاتا ہے۔ پپو کو ہوا ٹھنڈی لگ رہی ہے اور زمین اُس سے بھی زیادہ ٹھنڈی۔ پپو کو بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ اُس کو گھر سے بھاگنا نہیں چاہیے تھا۔ وہ سوچتا ہے کہ میری زندگی میں کتنی بے یقینی کی کیفیت ہے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ میں اب کبھی بھی گھر سے نہیں بھاگوں گا۔

اگر مجھے دوستوں نے بھی مجبور کیا تو بھی میں اُن کی نہیں مانوں گا۔ یہ سوچتے سوچتے کچھ دیر بعد پپو کی آنکھ لگ جاتی ہیں۔ رات کے پچھلے پہر اچانک اس کی آنکھ کھل جاتی ہے،ابھی اندھیرا ہی چھایا ہوتا ہے اور ٹھنڈ میں مزید اضافہ ہوچکا ہوتا ہے۔ وہ غور کرتا ہے توخود کو زمین پر لیٹا ہوا پاتا ہے، تب اُسے زندہ دفن ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اسے خوف محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص وہاں پر آ سکتا ہے اور اُس کا گلا کاٹ کر ذبح کر سکتا ہے۔ پپو کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش اس کا کوئی دوست بھی اُس کا ساتھ دیتا۔ پپو پھر اس طرح کے خیالات میں گُم سوجاتا ہے۔ صبح سورج کے کرنوں کی تپش سے پپو بیدار ہوتا ہے اور جھاڑیوں سے نکل کر دوبارہ فٹ پاتھ پر آجاتا ہے۔

پپو کسی چھپر ہوٹل کی تلاش میں اِدھر اُدھر نگاہ دوڑاتا ہے تاکہ وہ منہ ہاتھ دھوسکے اور اپنے کپڑوں کو اُتار کر جھاڑ سکے کہ کہیں رات کو جھاڑیوں میں سوتے ہوئے اس کے کپڑوں میں کوئی زہریلا کیڑا تو نہیں گھس گیا جس کے ڈسنے سے اس کی موت واقع ہوسکتی ہے۔

*اگلاصفحہ