sm
pdf-view-button

جب اولاد بگڑجاتی ہے، تووالدین مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ دل گرفتہ ہو جاتے ہیں اور اُن کے جذبات منتشر ہوجاتے ہیں۔ اُن کے ذہن میں بار بار میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر انہوں نے ایسا کیا کیا تھا جس کی وجہ سے اُن کے گھر کا شیرازہ بکھر گیا؟ اس کا آسان جواب ہے ’’کچھ نہیں‘‘ ۔

سبھی والدین اولاد کی بہترین تربیت کرتے ہیں تاہم کچھ بچے سنور جاتے ہیں اور کچھ بگڑ جاتے ہیں، جو سنور جاتے ہیں وہ ’’بیبے‘‘ بچے ہوتے ہیں اور جو بگڑ جاتے ہیں وہ’’باں باں‘‘ بچے ہوتے ہیں۔ باں باں بچے والدین کی باں باں کرادیتے ہیں۔ بچوں کی تربیت کے حوالے سے والدین کی اہلیت بس کچھ واجبی سی ہوتی ہے۔ پرورش کے نام پر انہوں نے جو کچھ سیکھا ہوتا ہے وہ محض ماحول کے مشاہدے پر مشتمل ہوتا ہے، کوئی باقاعدہ ٹریننگ نہیں ہوتی۔ جو بچے ’’بیبے‘‘ ہوتے ہیں وہ سنور جاتے ہیں اور والدین کو نیک نامی مل جاتی ہے۔ جو’’ باں باں‘‘ بچے ہوتے ہیں وہ بگڑ جاتے ہیں اور والدین کی ’’باں باں‘‘ کروا دیتے ہیں۔ والدین کی چیخیں نکل جاتی ہیں لیکن کوئی سن نہیں پاتا، کیونکہ یہ چیخیں بے آواز ہوتی ہیں! کاش! والدین کو اولاد ملنے سے پہلے خاطر خواہ ٹریننگ بھی مل جاتی! پر ایسا ہو نہیں پاتا۔ خوشخبری یہ ہے کہ بچوں میں بگاڑ آجانے کے بعد بھی والدین بہت کچھ کر سکتے ہیں اور اپنے بگڑے ہوئے بچوں کو سنوار سکتے ہیں۔ لازم ہے کہ والدین اب کچھ ٹریننگ کا اہتمام کر لیں۔

نشے میں کہیں وہ تنہا نہ رہ جائے! ڈاکٹر صداقت علی کی کتا ب ہے جس کا پہلا ایڈیشن 1989ء میں، دوسرا 2006ء میں آیا اور اب یہ تیسرا ایڈیشن پیش خدمت ہے 2015ء میں۔ یہ کتاب والدین کی بین الاقوامی تحریک ’’ٹف لو‘‘ کے راہنما اصولوں پر مبنی ہے، جو دنیا میں بگڑے ہوئے بچوں کی زندگی میں سنہری انقلاب برپا کر رہی ہے۔

اس کتا ب میں زیادہ تر نشے کی بیماری کا حوالہ دیا گیا ہے تاہم یہ قوائد و ضوابط ہر قسم کے بگاڑ میں معجزے برپا کرتے ہیں۔ ویسے بھی نشے کی بیماری میں سب کچھ ہی بگڑ جاتا ہے۔ زیادہ نشے کے مریض تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ زیادہ تر مریض اپنے گھروں سے دور ہوجاتے ہیں، کچھ پہلے جیسے نہیں رہتے، کچھ گھروں کو نہیں لوٹتے اور کچھ زندہ ہی نہیں رہتے۔ کچھ تو یادوں میں بھی نہیں رہتے، ویسے بھی غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں۔ ویسے میں نشے کے مریضوں کا غمگسار ہوں ، گزشتہ 37 سال سے میرے شب و روز اُن کے ساتھ گزرے ہیں، اُن کا مقروض ہوں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اُن کا قرض بڑھتا جا رہا ہے۔ اُن کی وساطت سے مجھے عزت، دولت اور شہرت، کیا کچھ نہیں ملا، ہر دم یہ احساس رہتا ہے مجھے ابھی اُ ن کیلئے بہت کچھ کرنا ہے۔ میرایقین ہے کہ ہم سب مل کر کام کریں تو نشے کے مریضوں کی زندگی میں روشنی بکھیری جا سکتی ہے۔

باب1گھر گھر کی کہانی!