جذبات بپھرے ہوں، بے لگام ہوں، بے قابو ہوں تو زندگی پریشانیوں میں گھِر جاتی ہے۔ آپ کے دل کو کسی جانے انجانے خوف سے دھڑکا لگا رہتا ہے، کوئی نہ نظر آنے والا لاشعوری ڈر، کوئی ذہنی دباؤ، گھبراہٹ یا ماضی، آپ کو ستاتا ہے؟ مستقبل آپ کو دہشت زدہ کر دیتا ہے؟ تو پھر چند فوری اقدامات کریں، زندگی پھر سے جینے لگیں گے آپ!
مگر کریں تو کیا کریں؟
میں آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔۔۔۔

نمبر1: تنہا جینا یہ بھی کوئی بات ہے؟
آج ہی اپنے کسی قریبی دوست، محسن، جانثار، رشتے دار، عزیز کو فون کیجئے، ملاقات کا وقت طے کیجئے اور ان کے ساتھ فون پر بلامشافہ ملاقات سے لطف اندوز ہوں۔ کچھ ان کی سنیں کچھ اپنی کہیں، آپ بہتر محسوس کرینگے، غم دکھ درد بانٹنے سے گھٹتے ہیں اور دلجوئی کرنے اور خوشیاں بانٹ لینے سے بڑھتی ہیں۔ آپ کا موڈ بہتر ہو جائے گا۔ رنج والم کے ڈیرے اٹھ جائیں گے، چہرہ مسکراہٹ سے کھل اٹھے گا روٹھی ہنسی لوٹ آئے گی اور تو اور بیماریوں کے سائے ختم ہونے لگیں گے۔ آپ کے جسم کا مدافعتی نظام بہتر ہونے لگے گا اور آپ کا دل ناچ اٹھے گا۔ بس کرنا صرف اتنا ہے کہ مایوسی کے اندھیروں سے نکلیں اور اپنے کسی پیارے کو پکاریں فون پر یا بالمشافہ ملاقات کے ذریعے۔

نمبر2: چاکلیٹ کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا؟
میٹھی والی چاکلیٹ سے بچنے کی کوشش کریں کیونکہ میٹھا آپ کے موڈ کو پہلے اوپر لے جائیگا اور پھر نیچے گرا دے گا۔ بالکل پلے لینڈ میں لگے رولر کوسٹر جھولے کی طرح۔ تو کوشش کریں کہ ڈارک چاکلیٹ شوگر کے بغیر۔ واؤ۔ چاکلیٹ میں فلیوونولز ہوتے ہیں جِن سے خون کا بہاؤ آپ کے دماغ کی طرف بڑھ جاتا ہے اور آپ کے سوچنے کی سکت کو ایک بڑھیا لفٹ ملتی ہے۔ مگر زیادہ نہیں بس ایک چکور پیس چھوٹا والا ڈارک چاکلیٹ کا بغیر چینی جس میں ہوتا ہے’’کوکوآ‘‘ ہفتے میں دو تین مرتبہ، بس موڈ اَپ ہر بلا دور۔

نمبر3: موسیقی روح کی غذا ہے یا نہیں؟
موسیقی روح کی غذا ہو یا نہ ہو آپ کے موڈ مزاج کو ضرور متاثر کرتی ہے، غمگین گانے، بول اور دھنیں غمگین کرتی ہیں تو خوشکن بول، شاعری اور موسیقی بالکل اسی طرح آپکوسرشارکرتی ہے جیسے چاکلیٹ یا قربت کے لطیف لمحات۔ جب آپ گنگنانے لگیں تو بس پھر آپ کھِل اٹھتے ہیں، جی اٹھتے ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیسا گاتے ہیں فرق اس سے پڑتا ہے کہ آپ فری بلا جھجک دل سے گاتے ہیں یا نہیں۔ آپ کے دل میں جلترنگ بجنے لگتے ہیں اور دماغ میں ایسے مادے خارج ہوتے ہیں جن سے دکھ درد دور ہو جاتے ہیں۔

نمبر4 : قہقہہ لگائیں یا نہ لگائیں؟
ایک جاندار قہقہہ آپ کی تمام ٹینشن کو ہنسی میں اڑا دیگا، آپ کے پیٹ کے پٹھے(مسل) تناؤ میں آئیں گے تو ذہنی تناؤ بھاگ جائے گا۔ گہرا سانس آپ کے پھیپھڑوں کو آکسیجن سے بھر دیگا، دل بھرپور طریقے سے خون پمپ کرے گا، دماغ میں درد ختم کرنے والے مادے پھوٹنے لگیں گے بیماریاں دفع دور ہو جائیں گی، آپ جتنا ہنسیں گے اتنے فِٹ ہوتے جائیں گے، مسکرا کے، تھوڑا ہنسا کے، قہقہہ لگا کے زندگی انجوائے کریں۔

نمبر5: کوئی اچھا کام کریں یا نہ کریں؟
کسی کے ساتھ نیکی ،کسی اپنے کے ساتھ یاکسی پرائے کے ساتھ۔ کسی احسان کا بدلہ یا کسی پر احسان۔انڈورفِن خود بخودآپ کے اندر سے پھوٹنے لگیں گے۔ یہ آپ کے اندر چھپے قدرتی مادے ہیں، درد دور مزہ بھرپور بھروسے کی جیت، لگاؤ اور انسانیت کا رشتہ استوار، دوسروں کی مدد سے آپ میں خود اعتمادی اور ذاتی احترام و سکون اجاگر ہو گا۔

نمبر6: محبت فاتح عالم
اچھا کام صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ یہ پیار ہے سب کے لیے۔ یعنی اگر آپ کے پاس کوئی بلی ہے یا جانور ہے تو اس کی نگہداشت سے بھی آپ کے دماغ کے ماسٹر گلینڈ یعنی پچوٹری گلینڈ سے نکلے گا ایک ہارمون آکسیٹوسِن یعنی بندھن کا، بھروسے کا، ساتھ کا ہارمون یا مردوں میں ویزوپریسن جو کسی بھی دیرپا گہرے ساتھ کے لیے ضروری ہے۔

نمبر7: کیا پانی بھی اہم ہے؟
پانی پیئں یا کم از کم کوئی مشروب۔ کوشش کریں یہ قدرتی ہو تمام تر مصنوعی آمیزش سے پاک۔ مگر پانی تازہ اور شفاف دراصل زندگی کی علامت بھی ہے اور اصل امرت دھارا بھی یہی ہے۔

نمبر8: گھر سے نکلیں، آخر کیوں نہیں؟
گھر سے نکلیں باغ میں جائیں، باغیچہ میں جائیں۔ گھر سے باہر پرندوں کی آوازیں سنیں، پھولوں کو محسوس کریں۔ سبزے کو آنکھوں میں بسائیں اپنی پانچ حِسوں کو متحرک کریں، قدرت کی بے کراں وسعتوں کو محسوس کریں۔ دھوپ، نمی، بارش، بادل، برسات، آسمان، سورج، چاند ستارے انکی کشش اور پھولوں کی مہک، زندگی کو گھٹن سے پاک کرتی ہیں۔ جیون میں نیا پن بیدار کرتی ہیں، کچھ دیر کمروں سے باہر نکلیں، اے سی سے باہر نکلیں وٹامن ڈی کی تلاش میں اپنی تن آسانی سے باہر آئیں تھوڑا پسینہ بہہ جانے دیں۔

نمبر9: کیا کچھ ورزش بھی ضروری ہے؟
کچھ سیر گھر کے اندر یا باہر۔ آپ کی زندگی کی رعنائیوں کو تقویت، روح کو خوشی اورجسم کو طمانیت بخش سکتی ہے۔ جم جائیں یا گھر میں یا پارک میں، مگر کچھ دیر ایکسرسائز ضروری ہے۔ آپ کی اعصابی الجھنوں اور ذہنی تناؤ سے چھٹکارے کیلئے یہ نسخہ اکسیر ہے۔

نمبر10: کیا صحت مند زندگی صحت مند کھانے پینے کی عادات میں چھپی ہے؟
جنک فوڈ زندگی کو کچرا اور سوچ کو منفی کوڑا کرکٹ اور کاٹھ کباڑ بنا دیتا ہے۔ کھائیں پئیں سوچ سمجھ کے۔ آپ کا وجود وہی ہے جو کچھ آپ کھاتے ہیں۔

نمبر11: کیا جیون ساتھی کا قرب ضروری ہے؟
اچھے لائف پارٹنر کے ساتھ بیتے قربت کے لمحات آپ کے سردرد سے لیکر آپ کی منتشر سوچوں اور دماغی غلاظتوں کو پاک صاف کر کے زندگی کو حسین وجمیل بنا دیتے ہیں۔

نمبر12: استغراق میں کیا رکھا ہے؟
سوچ بچار کیلئے کچھ دیر اکیلے بیٹھنا سیکھیں، خود سے مت بھاگیں، خود کو سمجھیں، اپنے ساتھ کچھ وقت گزاریں، تھوڑا مگر اچھا وقت خود کو دیں۔ اپنی آبیاری کریں، خود سے امن قائم کریں، خود کو طعنے نہ دیں۔ نگہداشت کریں اپنے ذہن کی، اپنے بدن کی، آپ بہت قیمتی ہیں انتہائی بیش قیمت۔

نمبر13 : آجا پیاری نندیا!
اپنی نیند پوری کریں۔اگر آپ زندگی میں سکون آرام اور لذت چاہتے ہیں توبھرپور زندگی کے لیے نینداور آرام بھی بھرپور ہونے چاہئیں۔

نمبر14: کیا چھٹیاں بھی ضروری ہیں؟
کبھی دور گھر سے بہت دور کسی صحت افزا مقام پر کسی دوست، کسی پیارے کے ساتھ چھٹیوں پر بھی ضرور جائیں، آپ ریفریش ہو جائیں گے۔ ہمارے ذہن کو بھی کمپیوٹر کی ہارڈ ڈِسک کی طرح ڈی فریگ منٹیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی منتشر، تتر بتر فائلوں کو دماغ میں ترتیب دینا ذہن کو غلاظتوں اور فاسد مادوں سے پاک کرنے کے لیے پر سکون ماحول ضروری ہے۔ جسمانی اور ذہنی ڈی ٹاکسی فکیشن سے بکھری ہوئی فائلوں کو کبھی تو پھاڑ پھینکیں اور کہیں پر ذہن کے نہاں خانوں میں جھانک کر تحت الشعور اور شعور کا صحت مند تعلق بحال یعنی ڈیلیٹ کر دیں انہی 14 گروں کو روز مرہ زندگی میں آزمائیں تاکہ آپکی زندگی زنگوں سے مزئین، خوشبوؤں سے آویزاں اور مزوں سے بھرپور ہو جائے۔ جب غیر ضروری مواد اور فساد سے خود کو آپ پاک کریں گے تو زندگی روشن اور آباد رہے گی۔