حنا خواجہ بیات: اسلام علیکم! (مسکراتے ہوئے) آپ سب کو خوش آمدید۔ انسان شاید وہ واحد مخلوق ہے جسے قدرت نے جذبات سے بھی نوازا ہے اور اُن کے اظہار کی بھی صلاحیت دی ہے۔ لیکن کبھی کبھی غصے کا اظہار غضب بن کر ابھرتا ہے۔
(ڈاکٹر صداقت علی سکرین پر نظر آتے ہیں)

ایک ڈاکٹر جو جسم کے ساتھ ساتھ ذہن کا علاج بھی کرتا ہے۔ نفس اور غصے پر قابو پانے کا درس دیتا ہے، صلاح اور مشورے کے ذریعے علاج کی نئی راہیں ڈھونڈتا ہے۔ (ڈاکٹر صداقت علی مصروف مشاورت)۔ اُس مرض کے لیے جسے نشہ کہتے ہیں۔ اس کیفیت کے لیے جسے غصہ اور تناؤ کہتے ہیں۔ ایک بردبار اور تحمل مزاج معالج ڈاکٹرصداقت علی (کیمرہ ہال میں موجود آڈینز کو دکھاتا ہے اور ڈاکٹر صداقت علی پرُوقار انداز میں سٹیج کی جانب قدم بڑھاتے ہیں۔)

حنا خواجہ بیات: عام انسانوں کی نسبت اداکاروں کو یہ فن حاصل ہے کہ وہ اپنے جذبات کو چھپا جاتے ہیں۔
(ااسد ملک جم میں ورزش کرتے ہوئے)
یہ اداکار اپنے تناؤ کو کم کرنے کے لیے شاید جم تو جاتا ہے مگر پھر بھی اس کی آنکھوں میں غصہ نظر آتا ہے۔ (اسد ملک مختلف کردار نبھاتے ہوئے) چاہے وہ قانون کے محافظ کا کردار نبھا رہا ہو یا قانون سے کھیلنے والے کا۔

حنا خواجہ بیات: آپ سب کی تالیوں میں اسد ملک۔

حنا خواجہ بیات روبینہ جمال کا تعارف کراتی ہیں۔
بہنوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے، طالب علمی، شادی اور ماں بننے کے بعد زندگی کے ایک نئے دور میں داخل ہوئیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں تحقیق اور مطالعے کے ساتھ ساتھ مشاہدے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس نے اپنی یہ دنیا گھر کی چار دیواری میں ہی بنائی ہے۔ کیونکہ اسے اس بات کی اہمیت کا اندازہ ہے کہ اپنے لیے اور اپنی فیملی کے لیے وقت نکالنا بہت ضروری ہے۔

حناخواجہ بیات: ہمارے ساتھ ہیں روبینہ جمال(مسکراتے ہوئے تشریف لاتی ہیں)

حنا خواجہ بیات: (ڈاکٹر صداقت علی سے مخاطب ہوتے ہوئے )آپ کے بارے بھی سنا ہے کہ آپ بھی ماضی میں ایک ناراض نوجوان ہوا کرتے تھے؟

ڈاکٹر صداقت علی: (اعتراف کرتے ہوئے) ہاں یہ بات درست ہے۔

حنا خواجہ بیات: (تعجب سے) آج آپ دونوں کو دیکھ کر یقین نہیں آتا ویسے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اگر میں بتاؤں کہ میں غصے میں کیا کیا کرتا رہا ہوں تو بالکل یقین کسی کو نہیں آئے گا۔

حنا خواجہ بیات: (اصرار کرتے ہوئے) پلیز بتائیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: مجھے اچھی طرح یاد ہے 1980 کی بات ہے جس پر میں بہت شرمندہ بھی ہوں کہ ایک دفعہ میں نے اپنے ملازم کو اِس بات پر کہ اُس نے میرے کسی مریض کوعلاج کے دوران نشہ لا کر دیا تھا، ،تو فضا میں کافی اونچا کوئی تقریباً 35 فٹ بلندی پر میں نے اُسکو اُلٹا لٹکا دیا تھا۔ دراصل بات یہ تھی کہ میں ایک ایسی فیملی سے تعلق رکھتا ہوں جس میں میرے ننھیال میں غصہ بہت زیادہ تھا اور میرے ددھیال میں غصہ بہت تھا۔

حنا خواجہ بیات: (حیرت سے) مطلب یہ کوئی موروثی چیز ہوتی ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: اس کی موروثی اثرات بھی ہوتے ہیں اور آپ شاید سن کر حیران ہوں کہ اس قدر تباہی جو غصے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہوتی ہے۔ میں ایک ایسے شعبے سے تھا جس میں مجھے نشے کے مریضوں سے معاملہ کرنا ہوتا تھا تو مجھے سمجھ میں بہت جلدی آ گیا کہ اگر مجھے اِس شعبے میں آگے بڑھنا ہے تو مجھے اپنے غصے کو بالکل قابو میں رکھنا ہو گا۔

حنا خواجہ بیات: (اسد ملک سے مخاطب ہوتے ہوئے) آپ بہت خوش مزاج ہیں، بہت مددگار ہیں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ مانگیں اور مسکراتے رہتے ہیں اور خوش رہتے ہیں، لیکن ایک زمانے میں سنا ہے آپ کو بہت غصہ آتا تھا۔

اسد ملک: جی ہاں! اس کی دو بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ وہ ماحول جس میں آپ پل بڑھ رہے ہیں۔ آپ کے گھر کا ماحول یا تو بہت ہی اپنے آپ میں گم رہنے والا بنا دیتا ہے یا بہت ہی غصے والا کر دیتا ہے۔ میرا جو سلسلہ تھا بچپن سے لے کر شعور میں آتے آتے۔ مجھے ابھی بھی یاد ہے، میں بالکل بھی پراعتماد نہیں تھا۔ پتہ نہیں کیوں شاید کچھ رکاوٹیں ہوتی ہیں اور جب وہ رکاوٹیں ٹوٹتی ہیں تو بالکل ہی وہ جیسے کہتے ہیں کہ بند ٹوٹ جاتا ہے اور پھر سیلاب ہی آ جاتا ہے۔

حنا خواجہ بیات: (ڈاکٹر صداقت علی سے مخاطب ہو کر) یہ بات آپ کو سمجھ میں تو آ گئی لیکن آپ نے حاصل کیسے کیا؟ کیونکہ یہ کوئی آسان کام نہیں کہ آج آپ تہیہ کر لیں کہ آج میں نے غصہ نہیں کرنا۔

ڈاکٹر صداقت علی: (اپنی بات پر زور دیتے ہوئے) میرا شعبہ ہی سائیکاٹری ہے، ایڈکشن ٹریٹمنٹ ہے، ایڈکشن سائیکاٹری ہے۔

حنا خواجہ بیات: آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ غصہ ایڈکشن ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: غصہ بھی ایڈکشن ہے۔ اگر آپ کا اِس سے کام نکلتا ہے اور لوگ ڈرتے ہیں۔ اگر یہ مینجمنٹ کا ذریعہ بن جاتا ہے اور وہ آپ کے اشارے کو سمجھتے ہیں اور پھر ایسے لوگوں نے جو غصے کے ذریعے مینجمنٹ کرتے ہیں اپنے بارے میں بڑی اچھی چیزیں مشہور کی ہوتی ہیں جیسے کے دل کے بہت اچھے ہیں۔ یہ سب بہانے ہیں غصہ جاری رکھنے کے۔

حنا خواجہ بیات: تو جو غصہ آتا ہے، آج کل آپ کہیں سڑک پر بھی جا رہے ہوں ہر شخص ناراض لگتا ہے، غصہ میں نظر آتا ہے۔ پریشان نظر آتا ہے تو وہ کیا عوامل ہوتے ہیں جو ایک انسان کو اتنا غصیلہ بناتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے ہمارا ایک دماغ ہے جسے ہم فرسٹ برین کہتے ہیں یہ اُس وقت سے ہمارے ساتھ ہے جب ہم نے بات چیت نہیں سیکھی تھی تو وہ غصہ سے یا باڈی لینگوئج انسانوں کے چہرے کے تاثرات سے یا خاص لہجے سے ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچایا کرتے تھے اور وہ دماغ ہمارے ساتھ ابھی تک چلا آ رہا ہے اور ایک ہمارا نیوبرین ہے جو ذہین دماغ ہے۔ جس میں الفاظ ہیں گفتگو ہے تو غصے میں ہم واپس پرانے دماغ کی طرف چلے جاتے ہیں جس سے کہ بڑی تیزی سے ہم حقائق جانے بغیر ایک دم نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی ہو گئی یا کوئی حملہ ہو گیا تو ہم یہ کچھ عرصے سے اپنے پرانے دماغ کیطرف زیادہ جا رہے ہیں اور جسے ہم سمجھدار یا عقلمند دماغ کہتے ہیں یعنی جس میں عقل سلیم ہوتی ہے اس کیطرف کم جار ہے ہیں۔

حنا خواجہ بیات: (سوالیہ لہجے میں) سر دوسرے شخص پر غصہ آئے تو اسے واقعی میں گولی بھی مار دیں لیکن اس کا اپنا ایک منفی اثر ہے اس سے انسان کو نقصان نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر صداقت علی: جی بالکل بہت آتا ہے۔ اپنے اوپر بھی غصہ آنا ایک عام بات ہے جس کو A قسم کی شخصیت کہا جا تا ہے جو بہت کام کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی چیزوں کے پیچھے بھی بھاگتا ہے۔ ایسے لوگوں کو چونکہ غصہ بہت آتا ہے تو پھر ان کو دل کی بیماری، بلند فشار خون اور ذیابیطس جیسی بیماریاں لگتی ہیں۔ یہ جو بیماریوں کے خطرناک ملاپ ہیں ان سے انسان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس میں کام کے علاوہ بھی ایک چیز ہے جس میں صحت کا خراب رہنا۔ آپ کا معدہ کے السر میں مبتلا رہنا یا پیٹ میں اینٹھن سی رہنا، ہر وقت جلتے سڑتے اور کڑھتے رہنا۔

حنا خواجہ بیات: (سامعین سے سوال کرتے ہوئے) غصہ سب کو ہی آتا ہو گا لیکن کبھی کوئی ایسی بات ہوئی ہے جس کے بعد میں پچھتاوا یا شرمندگی ہوتی ہو۔

سامعین: بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جب کوئی بڑا سامنے بیٹھا ہوا ہو اور غصہ آ جائے تو احترام نہیں رہتا اور پھر بعد میں شرمندگی ہوتی ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

حنا خواجہ بیات: ایسی کونسی چیز ہے جس پر آپ کو زیادہ غصہ آتا ہو؟

سامعین: سچ کو اگر نہ مانا جائے تو بہت غصہ آتا ہے۔

حنا خواجہ بیات: (سوالیہ انداز میں) ڈاکٹر صاحب انہوں نے بہت اچھی بات کی جب کوئی سچ بات نہ مانے تو غصہ آتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: (وضاحت کرتے ہوئے ) سچ پر غصہ آتا ہے جب آپ کے بارے میں بولا جائے۔ کوئی سچی بات کرے تو ہم اسے پرے دھکیلتے ہیں۔ لیکن سچی تنقید لینا تو چیمپئن کا کام ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ چیمپئن تو اپنا ناشتہ بھی دوسروں کی سچی رائے اور تنقید کے ساتھ کرتے ہیں۔

حنا خواجہ بیات: (مسکراتے ہوئے) بڑے ظرف کا کام ہے اس چیز کو مان لینا

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں! زیادہ غصہ انسانوں کو تب آتا ہے جب وہ اپنے عقیدوں کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں اور دوسروں کو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ ایمان یا عقیدہ اصل میں ایک خیال کو کہتے ہیں جو آپ کو پسند ہوتا ہے جس کو آپ نے اپنایا ہوتا ہے۔ مثلاً کسی کو آپ محبت کرتے ہیں تو یہ آپکا عقیدہ ہے جو اس وقت آپ کو حقیقت بھی لگتا ہے لیکن وقت گزرنے کے بعد آپ کو لگتا ہے کہ اصل میں ایسا نہیں تھا۔

حنا خواجہ بیات: کسی کو معاف کر دیں تو کیا یہ عمل غصے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟

اسد علی: یہ کسی نے کہا تھا کہ لہریں ہوتی ہیں جو آپکی طرف آ رہی ہوتی ہیں اور اگلے بندے یا اس چیز کی غصے کی لہریں آپکی طرف آ رہی ہوتی ہیں۔ جب آپ بُرائی کو قبول کر رہے ہوتے ہیں اور اس کو اچھائی سے جواب دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپکی برداشت کو بڑھا دیتا ہے۔ آپ کو بہت اعلیٰ احساس بھی عطا کرتا ہے اور آپ کی برداشت کیساتھ قوت بھی کافی بڑھ جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح دوسری طرف جہاں منفی جذبات آ رہے ہیں یہ ان کو توڑتا ہے۔

حنا خواجہ بیات: یہ جو انہوں نے لہروں کو کہا کہ محسوس ہوتی ہیں۔ یہ ظاہری طور پر تو شاید ہم دبا لیں لیکن یہ دوسرے لوگوں تک ہم بات کر کے پہنچا تو نہیں سکتے؟

ڈاکٹر صداقت علی: (مزید وضاحت کرتے ہوئے) دوسرے کو کبھی بھی دعوت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اور برا سلوک کرے۔ ہم اکثر کوگوں کو سکھاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیسا سلوک کریں۔ اگر کوئی معذرت کرے تو اگر آپ قبول بھی کریں اس کے بعد وہ کہے کہ میں نے آپ کے ساتھ بد تمیزی کی تھی تو آپ کہیں کہ جی آپ نے بدتمیزی کی تھی اور آئندہ ایسا نہ ہو۔

حنا خواجہ بیات: (متاثر ہو کر سر ہلاتے ہوئے)۔

روبینہ جمال: (تناؤ بھرے چہرے کے ساتھ )
رات کو نیند نہیں آ رہی اس کا علاج غصے سے کر رہے ہوتے ہیں ہم سکون نہیں کرتے۔

حنا خواجہ: (سر ہلاتے اور ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے) اس تناؤ کی وجہ سے غصہ آتا ہے۔

روبینہ جمال: میاں بیوی کے درمیان یہ پیٹرن آ جاتے ہیں جو غصہ کو فروغ دیتے ہیں اور ہر دفعہ ہم آپس میں غصہ کھاتے ہیں کوئی نظام نہیں ہے کہ اس پیٹرن کو ہم نے کس طرح توڑنا ہے

حنا خواجہ بیات: (سمجھنے کے انداز میں ہاتھوں کا اشارہ کرتے ہوئے) ڈاکٹر صاحب لیکن کچھ مہارتیں بھی تو ہوتی ہیں جس میں یقیناً ایمان اور روحانیت کا عنصر بھی ہوتا ہے۔ لوگ بار بار کہتے ہیں کہ مراقبے کے ذریعے یا صحیح انداز میں سانس لینے کے عمل کے ذریعے آپ غصے کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب: (پرتحمل اور سکھانے کے انداز میں) اس میں گہری سانس لینے کی مشق ہے اگر آپ باقاعدگی سے کریں اور اپنے جسم کو حکم دینا سیکھیں کہ وہ سکون کیسے کرے پھر جو آپ تھوڑی بہت ورزش کرتے ہیں اس سے غصہ ختم کرنے والے کیمیائی مادے پیدا ہوتے ہیں اور زندگی میں حس مزاح پیدا کرتے ہیں آپ اپنے آپ پر بس اچھے طریقے سے ہنس سکتے ہیں اور توہین کیے بغیر آپ اپنے آپ سے ایسے جملے کہہ سکتے ہیں جس سے ماحول بہتر ہو جائے۔ تھکاوٹ سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔ ایڈوانس میں آرام کرنا چاہیے۔

حنا خواجہ بیات: (تصدیق کرتے ہوئے اور بات بڑھاتے ہوئے) جبھی لوگ کہتے ہیں کہ کوئی تھکا ہوا گھر آئے تو اس کو نہ چھیڑو۔

ڈاکٹر صداقت علی: (بات جاری رکھتے ہوئے )خاص طور پر 15 منٹ میں کچھ نہیں کہتے۔
خاص طور پر اگر کوئی کام کرنے والی ماں ہو تو۔

حنا خواجہ بیات: (پر جوش سوالیہ انداز میں) اب آپ مجھے بتائیں کہ غصہ آ جائے تو اسے کیسے کنٹرول کیا جائے؟

ڈاکٹر صداقت علی: (مطمئن انداز میں) دیکھیں اس میں آپ اپنے غصے کے چار حصوں کو پہچانیں یعنی جسمانی حرکات و سکنات، جس میں نوبت ہاتھا پائی تک بھی پہنچ سکتی ہے دوسری چیز ہے چہرے کے تاثرات یعنی آپ لال پیلے ہو رہے ہوتے ہیں۔

اسد ملک: (گلہ صاف کرتے ہوئے )بات ایک دم سے بڑھ جاتی ہے تو اس میں کیا کیا جا سکتا ہے۔

حنا خواجہ بیات: اچانک جو ہو جاتا ہے (پرجوش انداز میں ہاتھوں کا اشارہ کرتے ہوئے )

ڈاکٹر صداقت علی: (وضاحتی انداز میں) اگر آپ غصے کو کم کرنا چاہتے ہیں تو اسے سنجیدگی سے لینا پڑے گا ایک پروجیکٹ کی طرح۔ یہ ویسے بھی آرم ہے اور حرام چیزوں کی اگر آپ لسٹ دیکھیں تو غصہ کوئی کم یا زیادہ حرام نہیں ہے۔

روبینہ جمال: غصے کے پیٹرن بن جاتے ہیں اگر آپ اپنے قریبی تعلقات میں دیکھیں ایک تو ایک پیٹرن نظر آتا ہے۔ جب بیٹا رات کو گھر واپس آتا ہے تو ماں ڈانٹتی ڈپٹتی ہے اسی طرح میاں بیوی کے درمیان بھی یہ سب چلتا رہتا ہے ان طریقوں اور احوال کو ٹھیک کرنے کا طریقہ ہمارے پاس نہیں ہے۔

اسد ملک: (اعتراف کرتے ہوئے) میں جب گھر جاتا ہوں تو میرا غصہ فوراََ بڑھ جاتا ہے کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ میرا غصہ سب لے لیں گے لہٰذا ب ان طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

حنا خواجہ بیات: تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ ان طریقوں کو بدل پائیں گے۔

اسد ملک: جی ہاں میں مختلف انداز میں ان طریقوں کو بدلنے کی پوری کوشش کروں گا۔

ڈاکٹر صداقت علی: (مؤثر انداز میں گفتگو کرتے ہوئے) چپ سے سیکھ ہوتا ہے یعنی کہ جب کوئی بات کر رہا ہو تو آپ چپ کر کے سنیں اور جواب میں آپ کو بھی کوئی بات کرنا ہوتی ہے۔ میاں بیوی تو ماہر ہوتے ہیں اس بات میں کہ وہ صلح کی خواہش میں ساری رات لڑ سکتے ہیں۔ مثبت دباؤ اور منفی دباؤ دو بڑی اہم چیزیں ہیں۔ دونوں کے استعمال میں فرق ہے۔ امتحان کے لیے جب تک آپ پریشانی نہیں لیں گے آپ امتحان نہیں دے پائیں گے۔

ڈاکٹر صداقت علی: جیسے غصے میں آپ میں انرجی بہت زیادہ ہوتی ہے آپ چاہیں تو اس انرجی کا مثبت استعمال کر سکتے ہیں۔ پھر جب ہم بڑے ہوتے ہیں تو ہم اپنے دماغ کا زیادہ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔جب میں نے اپنے دماغ کا استعمال کرنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ ”تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاوٗ گے” اس ذات نے آپ کو دماغ جیسی چیز دے دی اب آپ اور کیا مانگتے ہیں؟ دماغ کو صحیح طرح چلائیں۔

حنا خواجہ بیات: دماغ جو دیا گیا ہے بہت سے لوگ اس کا استعمال ہی نہیں کرتے۔

ڈاکٹرصداقت علی: (اختصار کے ساتھ)َ َایک بات جو ضرور کہنا چاہوں گا دماغ کے بارے میں تین چیزوں پر غور کرنا چاہیے۔ ایک تو دماغ میں جو لفظوں کی بات ہے اس پر توجہ دیتے رہیں۔ دوسرا جو تصویروں کی بات ہمارا دماغ تصویروں کو بھی سوچتا رہتا ہے اور تیسرا یہ جو رابطہ کرتا ہے۔ یہ کمپیوٹر کی طرح چلتا ہے اور اگر ان تینوں پہلووٗں پر غور کریں تو آپ اپنے دماغ کو بہت اچھا استعمال کر سکتے ہیں۔

حنا خواجہ بیات: (گفتگو کو انجام دیتے ہوئے) میرا خیال ہے یہی شعور ہے اور کئی دفعہ آپ شعور کے بغیر ہی کام کر لیتے ہیں۔

میں نے کہیں ایک بات پڑی تھی کہ میں نے جو بوجھ اپنی زندگی میں سب سے بڑا اٹھایا ہے وہ غصے اور عداوت کا ہے منزل کا تعین کرنا اچھی چیز ہے لیکن یہ خواہشات کو اس حد تک بڑا دیتا ہے کہ وہ ہمارے لیے تناوٗ کا باعث بن جاتی ہیں اور ہم بیمار ہو جاتے ہیں ہمیں اس قسم کی بیماری ہو جاتی ہے جس کا تعلق تناؤ سے ہوتا ہے اس طرح سے راستہ ہمارے لیے کافی دشوار ہو جائے گا۔ جیسے ڈاکٹر صداقت نے کہا کہ گہرے سانس کی مشقیں کریں اس سے آکسیجن آپ کے پورے سسٹم میں دوڑ جائے گی پٹھے پر سکون ہو جائیں گے اور آپ اپنے اور دوسروں کے لیے بھی ایک بہتر انسان بن جائیں گے۔