فرح سعدیہ: خوش آمدید اور صبح بخیر جناب! اب ہم آپ کی ملاقات ڈاکٹر صداقت سے کرواتے ہیں جو کہ ولنگ ویز کے سی-ای-او ہیں اور نامی گرامی ایڈکشن سائیکاٹرسٹ بھی ہیں۔ نئے سال کے آغاز پر وہ تمام ارادے جنہیں ہم باندھتے ہیں، توڑتے ہیں پھر باندھتے اور پھر توڑ دیتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کے بارے میں کیا اور کیسے ہونا چاہیے تاکہ ہمارے خواب پایہ تکمیل کو پہنچ سکیں۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ کل نئے سال کا آغار ہے اور پیشن گوئی کرنے والوں نے پیشن گوئی کی ہے کہ آنے والا نیا سال دنیا کیلئے اچھا شگون نہیں رکھے گا، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: میں ایسی توہم پرستی پر یقین نہیں رکھتا۔ ایسی پیشن گوئیاں ہوتی رہتی ہیں اور بعد میں انہیں لوگ بھول جاتے ہیں کیونکہ وہ پوری نہیں ہوتیں جیسا سوچا تھا۔ اب دنیا بدل چکی ہے اور لوگ بھی اب ان باتو ں کو وہ اہمیت نہیں دیتے جیسا کبھی پہلے دیتے تھے۔
ٖ
ٖفرح سعدیہ: 13 کے عدد کو تو امریکہ اور کئی ممالک میں منحوس عدد خیال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: نہیں، اب امریکہ میں ایسا سوچنے والوں کی تعداد نہ کے برابر ہے، ہمارے ملک میں بھی ایک فلائٹ ہے جو کراچی سے لاہور چلتی ہے جس کا نمبر 302 ہے، اس کے باوجود یہ کافی عرصے سے اپنے مسافروں کو منزل مقصود تک پہنچاتی آ رہی ہے لہذا نمبروں اور اُن جیسی دوسری چیزوں کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہیئے۔

ٖفرح سعدیہ: پھر کس چکر میں پڑنا چاہیئے؟

ڈاکٹر صداقت علی: ’’وجہ اور اثر‘‘ کے یعنی سائنس کے چکر میں۔ کیونکہ جو سائنس کی کامیابیاں ہیں ان میں روز مرہ کی بناء پر ایس ایم ایس کرتی ہیں اور وہ پہنچ جاتا ہے، جہاز اترتے ہیں اور لینڈ کرتے ہیں ،ٹی۔وی پروگرام چلتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو دور کی چیزیں دکھاتے ہیں۔ سائنس کے کرشمات کے اندر کھوج لگانی چاہیئے یا یقین رکھنا چاہیئے۔

فرح سعدیہ: ویسے یہ لوگوں کو کیسے متاثر کرتے ہیں یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہندسہ اچھا نہیں یہ دن مجھے سوٹ نہیں کرتا، یہ رنگ مجھے سوٹ نہیں کرتا، یہ جگہ مجھے سوٹ نہیں کرتی، یہ بندہ مجھے سوٹ نہیں کرتا۔اکثر مردوں کو تو یہ کہتے سنا ہے کہ جب سے یہ آئی ہے ہمارے گھر میں میرے پاس تو پیسے ہی نہیں رہے۔ یہ بہت پرانی روایات ہیں۔ انسان کا رزق یہ اس کی بیوی کی وجہ سے نہیں ہوتا ہے اگر تو شادی کے بعد کوئی امیر ہو جاتا ہے تو بیوی کو یہ وہم رہتا ہے میری وجہ سے ہوا ہے تو درحقیقت وہ بیوی کی وجہ سے امیر نہیں ہوتا ہے اور نہ وہ بیوی کی وجہ سے غریب ہوتا ہے وہ اپنے طور طریقوں کی وجہ سے، اپنی عادتوں کی وجہ سے اور اپنی حکمتِ عملی کی وجہ سے مالی طور پر خوشحال ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ہے اس کو کسی دوسرے سے واسطہ نہیں۔ وہ جو وہم کی بات آپ کر رہی تھیں وہ سوفٹ وئیر پروگرام ہوتے ہیں جب کسی کمپوٹر میں آپ کوئی سوفٹ وئیر ڈال دیتے ہیں اور ڈال کے بھول جائیں تو بھی وہ کام کرتا رہتا ہے ہمارے دماغ میں کوئی خیال جو ہماری چھوٹی عمر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ تو بعد میں بڑی عمر میں جا کر ہم اس قابل ہی نہیں رہتے کہ اس میں کوئی نقطہ اٹھا سکیں یا سوال کر سکیں۔ لہذٰا جب ہم چیزوں کو جج نہیں کر سکتے تو چیزیں سوفٹ وئیر کے طور پر ہمارے دماغ میں ڈال دی جاتی ہیں۔

فرح سعدیہ: لیکن بعض اوقات بعض لوگ اسے وقت کے ساتھ قائم کرلیتے ہیں پختہ ہو جاتے ہیں ،انہیں یہ لگتا ہے کہ پچھلے منگل کو بھی یہ ہوا تھا اس سے پچھلے کو بھی یہ ہوا تھا تو میرے لیے یہ دن بڑا بھاری ہے مجھ پے تو یہ کوئی بڑا ہی بھاری دن ہے میں تو کوئی نیا کام اس دن شروع نہیں کر سکتا۔

ڈاکٹر صداقت علی: ایسے خیال انسان کو آتے رہتے ہیں اور پھر وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے وہم کو دور کرتے ہیں جیسے کوئی خاص رنگ کے کپڑے پہننے سے ان کو ایک دن کامیابی ملی تھی تو وہ کپڑے ہر اس موقع پر پہنتے ہیں جب کوئی اہم کام یا مشکل درکار ہوتی ہے لیکن جو سمجھدار لوگ ہیں وہی یونیورسٹی، اچھی تنظیموں یا اچھی صحبت میں جاتے ہیں تو پھر وہ اپنے پرانے نظریات کو چیلنج کرتے رہتے ہیں اور پھر وہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ بہتر شکل میں نمایاں ہوتے ہیں۔ انسان کا اس دنیا میں آنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کے وہ پیدا ہونے کے بعد کچھ بہتر ہو جائے اور سب ہی لوگ پیدا ہونے کے بعد کچھ بہتر ہو جاتے ہیں۔ اٹھ کے چلنا پھرنا شروع کر دیتے ہیں کچھ بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ اپنے چھوٹے موٹے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں اس کے باوجود بہت سارے لوگ پھنس جاتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو بہت بے بس تصور کرتے ہیں۔ انسان اتنا بے بس نہیں ہے جتنا کہ وہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے نہ ہی اس کے قابو میں ہر چیز ہے جیسا کبھی کبھی اسے لگتا ہے کہ میں ہر چیز پر قابو پا لوں گا، بے بس ہونے اور بس میں ہونے کے درمیان میں انسان ہوتاہے اور وہ حالات کو بہتر بھی بنا سکتا ہے۔

فرح سعدیہ: جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ بس بھئی بس -اچھا ڈاکٹر صاحب وہ خاص عہد جولوگ عموماً بناتے ہیں جیسے کہ میرا وزن کم ہو جائے، میری صحت اچھی رہے ،میری تنخواہ بڑھ جائے، میرے نمبر زیادہ آجائیں ،میں زندگی میں خوشحال ہو جاؤں، زندگی انجوائے کروں، لوگوں کی خدمت کروں، میرے تعلقات دوسروں سے اچھے ہو جائیں، جو قرضہ لیا ہے وہ واپس ادا کردوں وغیرہ۔ یہ ارادے کتنے مؤثر ہیں ؟ کیا ہمیں گول سیٹ کرنے چاہئیں ؟ کیا گول سیٹ کرنے کا فائدہ بھی ہوتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی:اگر آپ چاہتے ہیں کہ یکم جنوری سے نئے سال کے آغاز سے ہی آپ بدل جائیں تو پھر یہ ایک ایسا پھندہ ہے کہ ہم اس میں پھنس کے رہ جائیں گے۔ صرف ناکامی ہی ہمارا مقدر ہو گی، موڈ خراب ہو گا لیکن اگر ہم سوچتے ہیں کے اگلے پورے سال میں ہم ان اہداف کو حاصل کر لیں گے اور یہ بات ذہن میں رہے کہ ان اہداف کو پورا کرتے ہوئے ہمیں کبھی کبھار رکاوٹیں بھی آ سکتی ہیں تو یقین جانیے آپ اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً سگریٹ چھوڑنے والوں کے بارے میںیہ طے ہے کہ جنہوں نے بھی سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کی انہوں نے کم ازکم چار بار ناکامی کا سامنا کیا اور پانچویں بار کامیاب ہوئے۔ ایسی کوشش سے ہر گز ہمت نہ ہاریں۔ میرے نزدیک وہ شخص اس شخص سے بہت بہتر ہے جو یہ کوشش ہی نہیں کرتااور سگریٹ پیتا رہتا ہے کیونکہ جو سگریٹ چھوڑتا ہے اس کے جسم کو کچھ نہ کچھ تو تقویت ملتی ہے چاہے کچھ دنوں ہی کیلئے ہی کیوں نہ ہو۔

فرح سعدیہ: لیکن ڈاکٹر صاحب! ایسے لوگوں کوکچھ نہ کچھ ناکامی کا احساس تو ہوتا ہے، وہ سوچتے ہیں کہ کل میں نے ارادہ کیا تھا کہ یہ فلاں کام نہیں کروں گا لیکن پھر شام کو میں وہی کام کر رہا ہوں تو مجھے شرم سے ڈوب مرنا چاہئے پھر آپ اندر جھانکتے ہیں اور ہمت باندھتے ہیں کہ آپ کی کوئی حیثیت ہے، آپ اصولوں پر بھی کھڑے ہو سکتے ہیں، کیا ایسے ہٹنے اور ہٹ کر پلٹنے سے بہت بڑا نقصان نہیں ہوتا؟

ڈاکٹر صداقت علی: ہاں! ایسا ہوتا ہے، مگر ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ دنیا میں تمام لوگ جو کامیابی کی بلندیوں کو چھو تے ہیں وہ آپ کوخود بتائیں گے کہ ابتدائی طور پر کئی دفعہ وہ منہ کے بل گرے۔ایسے لوگ جو زندگی میں صرف کامیابیوں کا مزہ چکھتے ہیں میری نظر سے نہیں گزرے۔ میں ایسے لوگوں کو نہیں جانتا، جنہوں نے کبھی ناکامی نہیں دیکھی، میں نے تو زیادہ تر ان لوگوں کو جانا اور پڑھا ہے جنہوں نے مشکلات بھی سہی ناکامیوں کا سامنا بھی کیا اور پھر آہستہ آہستہ کامیابیاں اُن کے قدم چومنے لگیں، پہلی کامیابی نے دوسری کیلئے راہ ہموار کی اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا اور پھر وہ ممتاز لوگوں کی فہرست میں شامل ہوئے۔