فرح سعدیہ: اگر ہم کسی کی کوئی بری عادت چھڑوانا چاہیں اور وہ خود نہ چاہے تو ہم کیسے چھڑوا کرسکتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی:ایک عام سی غلط فہمی ہمارے دل میں بات بٹھا دی جاتی ہے کہ جب تک کوئی راضی نہ ہو اسے بدلا نہیں جا سکتا، لہذا اصلاح کے آغاز میں پہلے مطلوبہ شخص کو بدلنے کیلئے راضی کیا جاتا ہے، جیسے کوئی نشے، غصے یا موٹاپے کا مریض ہواور خود پر قابو پانے کو تیار نہ ہو تو دوسرے افراد مثلا فیملی مل کر اسے تائید کرتی ہے، وہ مل کر انٹروینشن ڈیٹااور اہم نکات لکھتے ہیں کہ آخر وہ اسے کیوں بدلنا چاہتے ہیں؟ پھر سمجھداری سے ایسے وقت کا تعین کرتے ہیں جب کوئی تازہ تازہ جھگڑا نہ ہوا ہو، چند دن پہلے تعلقات کو تھوڑا بہتر بناتے ہیں تاکہ دوستی کی سی فضاء محسوس ہو۔ پھر کسی مناسب وقت سب اکٹھے مل کر اسے تمام لکھی ہوئی باتیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے خوداپنی آنکھوں سے کیا مشاہدہ کیا جن کی بنا پر وہ اب یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ آپ کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ ان عمال سے شرمندگی، تکلیف یا کوئی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی وہ شائستہ لہجے سے اپنے پیار اور محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں، نقطہ چینی نہیں کرتے، اسے تحمل سے کہہ دیتے ہیں کہ آج آپ نے ہماری بات سننی ہے چاہے آپ ابھی کوئی جواب نہ بھی دینا چاہو۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جواب ضروری نہیں ہاں میں ہی ہو لہذا آپ باتیں کرنے کے بعد اسے چھوڑ دیتے ہیں پھر اس کے دل میں یہ باتیں پکتی رہتی ہیں اور وہ چند دن کے بعدآ کر بات کرتا ہے کہ ٹھیک ہے کہ اگر آپ مدد آبرومندانہ طریقے سے دیں تو میں لینے کیلئے تیار ہوں تاکہ اپنی اصلاح کر سکوں۔