اینکر پرسن: آج کا معرکہ منشیات کا استعمال کرنے والوں کے خلاف ہے۔ ناظرین یوں تو دنیا کو کئی قسم کے خطرات کا سامنا ہے مگر ایک اہم خطرہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ہے۔ ترقی یافتہ یا ترقی پذیر، سب کے سب اپنے شہریوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے میں سرگرمِ عمل ہیں۔ پاکستان بھی جہاں بہت سے دوسرے مسائل میں گھرا ہوا ہے وہاں منشیات کا مسئلہ بھی بہت زور پکڑ رہا ہے۔ پاکستان میں سینکڑوں نہیں لاکھوں ایسے افراد ہیں جو روزانہ منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن بنیادی سوال ہے کہ منشیات کی وباء پاکستان میں کہاں سے آ رہی ہے؟ کس عمر کے لوگ عام طور پر اِس کا شکار ہیں اور گزشتہ پانچ سالوں میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا؟ ان سوالوں کے جوابات شامل ہیں اِس رپورٹ میں۔

پاکستان میں روزانہ اربوں روپے کی منشیات افغانستان سے غیر قانونی طور پر آتی ہے۔ افغانستا ن کو منشیات کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ جس کی اسمگلنگ شدہ اشیاء پاکستان کے علاوہ کئی دوسرے ممالک میں بھی جاتی ہے۔ UNODL کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 6.7 ملین افراد نشے کی لت میں مبتلا ہیں۔ اور ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق 241 ملین لوگ 2013 میں کسی بھی طرح کے ڈرگز میں ملوث رہے۔ جن میں سے 1.65 ملین لوگ انجکشن استعمال کرتے ہیں اور انہیں HIV کا مرض لاحق ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں چرس، ہیروئن، شراب اور کوکین وغیرہ کا استعمال زیادہ دیکھا گیا ہے۔ خواتین بھی اِس لت سے دور نہیں۔ خواتین میں زیادہ تر سکون آور اور ترکِ درد ادویات کے نشے کا استعمال عام ہے۔ 2013 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 78 فیصد مرد جبکہ 22فیصد خواتین کسی نہ کسی نشے میں مبتلا پائی جاتی ہیں۔ KPK میں سب سے زیادہ آبادی نشے میں مبتلا ہے۔ بلوچستان اس حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے۔ یہاں 5 فیصد آبادی، یعنی 2.0 ملین لوگ نشے کے عادی ہیں۔ نشے کے استعمال میں سندھ تیسرے نمبر پر ہے۔ جہاں 6.6 فیصد آبادی یعنی 1.7 فیصد افراد عادی ہیں۔ پنجاب میں 4.7 فیصد آبادی 2.9 ملین لوگ نشے کا استعمال کرتے ہیں۔ ان افراد میں 60 فیصد افراد کی عمر 15 سے 30 سال تک ہے جو کہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری نوجوان نسل کس طرح اِس لعنت کا شکار ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر چرس، کیمیکل ادویات، ہیروئن اور گٹکہ وغیرہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک کثیر تعداد ٹیکے کا استعمال کرتی ہے۔ جو کہ گردے اور جگر وغیرہ کو متاثر کرتی ہے۔ 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق سکول کالج اور یونیورسٹی جانے والے طلباء کی ایک بڑی تعداد منشیات کے استعمال میں ملوث ہے۔ بعض لڑکے، لڑکیاں شراب نوشی، سگریٹ اور اِس طرح کی دوسری اشیاء استعمال کرتے پائے جاتے ہیں۔ اِس طرح کا نشہ وہ دوستوں کی محافل میں کرتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں میں بھی بہت سی منشیات کو تلف کیا جاتا ہے مگر کیا اِن منشیات کو سمگل کرنے والوں کے خلاف کوئی کریک ڈاؤن ہوا؟ کیا اِن کو قانون کے مطابق سزا دی گئی؟ یہ بہت اہم سوال ہے کیا ہمارے قانونی ادارے اِن کی روک تھام کے لئے کوئی اقدام اٹھا رہے ہیں؟ کیا معاشرے کے اِن ناسوروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی؟ کیا ہم اپنے معاشرے کو اِس سے پاک کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

ناظرین اِس رپورٹ میں ہمارا نوجوان طبقہ بہت بُرے طریقے سے منشیات کے استعمال میں ملوث دکھائی دے رہا ہے۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ نواجوان طبقے میں مرد ہی نہیں خواتین بھی شامل ہیں۔ بُری صحبت، گھر والوں سے ناراضگی یا امتحانوں میں ناکامی، یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو انسان کو منشیات کے استعمال کی طرف راغب کرتی ہیں۔ منشیات استعمال کرنے والی خواتین کی تعداد میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے؟ یہ ہم آپ کو دکھاتے ہیں۔

اینکر پرسن: آمنہ صاحبہ ہم نے دیکھا ہے کہ خواتین کی بڑی تعداد منشیات کے استعمال میں ملوث نظر آ رہی ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ کیا سمجھتی ہیں؟

آمنہ جاوید: زین صاحب آج کی سوسائٹی میں سٹریس کافی بڑھ گیا ہے۔ جہاں تک تعلق ہے نشے کی وجوہات کا تو ایک بنیادی وجہ سٹریس کو مینج نہ کرنا ہے۔ خواتین میں ایک طریقہ سٹریس کو مینج کرنے کا یہ ہے کہ وہ ڈرگز استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ جب آپ کو یہ نہیں پتہ کہ ہم سٹریس کو کسی اور طریقے سے بھی ختم کر سکتے ہیں تو آپ کا رجحان ڈرگز کی طرف ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے موڈ مزاج کو درست رکھنے کے لئے بھی ڈرگز کا استعمال ہوتا ہے۔ تو جب موڈ خراب ہوتا ہے تو اس کی درستگی کے لئے ڈرگز لی جاتی ہیں۔

اینکر پرسن: کس طرح کی ڈرگز زیادہ تر لی جا رہی ہیں؟

آمنہ جاوید: ایڈکشن کی بھی اقسام ہوتی ہیں، کیمیکل اور نان کیمیکل ایڈکشن۔ اب کیمیکل ایڈکشن میں تو کوئی بھی کیمیکل آ جائے گا۔ جبکہ نان کیمیکل میں بہت سے ایسے کام جیسے لَو ایڈکشن، شاپنگ ایڈکشن ہوتی ہے۔ خواتین میں زیادہ تر نان کیمیکل ایڈکشن پائی جاتی ہیں۔ لیکن کیمیکل بھی پائی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ جو ایڈکشن خواتین میں پائی جاتی ہے وہ لَو ایڈکشن ہے۔ کیونکہ خواتین کی بائیولوجی ہی ایسی ہوتی ہے۔ ان میں ایک ہارمون anatoxim پایا جاتا ہے جو کہ مردوں میں زیادہ نہیں ہوتا۔ تو آٹومیٹکلی اس ایڈکشن میں بھی زیادہ تر خواتین ملوث ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے موڈ مزاج کی خرابی اور دباؤ تناؤ کا شکار ہونا یقینی بات ہے۔

اینکر پرسن: کون سی عمر کی خواتین اس ایڈکشن کا زیادہ تر شکار ہیں؟

آمنہ جاوید: آجکل کی سوسائٹی میں تو زیادہ تر ٹین ایجرز۔ کیونکہ ان کا exposure ذرا بڑھ گیا ہے۔ لڑکوں کا تو ہمیشہ سے ہے۔ لیکن اب لڑکیوں کا بھی بڑھ گیا ہے۔ کالج میں وہ ڈرگز سے بھی آشنا ہو چکی ہوتی ہیں۔ سگریٹ وغیرہ کا استعمال بھی عام ہوتا ہے۔ لیکن ڈرگز جو لی جاتی ہیں ان کا رحجان جس عمر میں ہوتا ہے۔وہ 35 سال تک کی عمر ہے۔

اینکر پرسن: مرد حضرات تو ہر طرح کی ڈرگز استعمال کرتے ہیں۔ خواتین کس قسم کی منشیات کا عام طور پر استعمال کرتی ہیں؟

آمنہ جاوید: خواتین میں زیادہ ترادویات کی شکل میں ڈرگز استعمال کرنے کا رحجان پایا جاتا ہے کیونکہ ہیروئن، چرس اور کوکین وغیرہ خواتین کو ذرا مشکل سے ہی سے لے سکتے ہیں۔ لیکن ادویات کی شکل میں آسانی سے دستیاب ہیں آپ کسی بھی فارمیسی سے لے سکتے ہیں۔ آپ ,Laxotnil xanix,Laxilium وغیرہ آرام سے فارمیسی سے لے سکتے ہیں اور ڈھکے چھپے انداز میں نشے کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس یہاں willing ways میں بھی علاج کے لیے جو خواتین آتی بھی ہیں وہ زیادہ تر ادویات کے نشے میں ملوث ہوتی ہیں۔ Pain killer بھی opioad ہوتا ہے جو کہ ہیروئن کا ایک عنصر ہے۔

اینکر پرسن: کون سی ایسی علامات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین اب نشے کے مرض میں مبتلا ہو چکی ہیں؟

آمنہ جاوید: خواتین میں بھی وہی علامات آتی ہیں جو مرد حضرات میں آتی ہیں لیکن ان کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ جبکہ وہ خطرناک حد تک نہ آ جائیں۔ زیادہ تر موڈ مزاج میں گڑ بڑ ہوتی ہے۔ اگر کوئی خاتون موڈ کے مسائل کا شکار ہیں۔ ان کا موڈ بہت زیادہ Down ہے تو یہ چیز زیادہ Notice نہیں کی جاتی۔ اگر لڑکی خاموش ہے۔ بات چیت کم کر رہی ہے۔ گھل مل نہیں رہی۔ تو یہ بہت نارمل سی بات ہے۔ مشرقی لڑکی ہے نہ بات کرے تو زیادہ بڑا ایشو نہیں سمجھا جاتا لیکن یہی لڑکی ڈرگز کے استعمال سے موڈ کی دوسری ،Extreme پر چلی جائے۔ یعنی اس کا موڈ بہت زیادہ High ہو جائے۔ بہت اظہار کر رہی ہے۔ Shopping کر رہی ہے۔ تب یہ چیز بہت جلدی محسوس کر لی جاتی ہے کہ یہ کسی طرح کے مسئلے کا شکار ہے اور ڈرگز میں بھی ملوث ہے۔ موڈ کے مسائل سب سے پہلے منظر عام پر آتے ہیں۔

اینکر پرسن: کیا خواتین کا علاج بھی مردوں کی طرح ہی کیا جاتا ہے یا ان کے لیے کوئی مختلف طریقہ علاج ہے؟

آمنہ جاوید: بالکل اسی طرح سے ہے۔ بیماری تو وہی ہے۔ جیسے کسی کو دل کا مرض ہو جائے تو مرد ہو یا عورت اس سے فرق نہیں پڑتا علاج تو ایک جیسا ہی ہو گا۔ علاج انہی بنیادوں پر ہوتا ہے۔

اینکر پرسن: خواتین جس قسم کے نشوں میں ملوث ہوتی ہیں تو بعض اوقات وہ علاج کی طرف کم مائل ہوتی ہے۔ تو ان کو علاج میں لانے کے لیے کیا کرتے ہیں؟کیسے ان کے گھر والوں کی اور ان کی کونسلنگ کی جائے کہ وہ علاج کی طرف آئیں۔

آمنہ جاوید: ایک تو خواتین آتی ہی کم ہیں علاج کی طرف اور دوسرا ان کو لایا بھی کم جاتا ہے۔ خاص طور پر ہمارے معاشرے میں اگر آپ کسی نفسیاتی مسئلے میں ہیں تو آپ کو علاج گاہ لیکر جانا مردوں کے لیے بھی بہت مشکل ہے۔ خواتین کے لیے تو اور بھی مشکل ہے۔ نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس جانا تو stigma ہے ۔ خاص طور پر لڑکیوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ اس کو نفسیاتی مسئلہ ہے اور اب یہ نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس جائے گی سب سے پہلے والدین کو شرم آتی ہے کہ ہم بیٹی کو لیکر نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس جائیں گے ہم کیا بتائیں گے کہ یہ نشہ کرتی تھی تو لڑکیوں کا علاج گھر پر رکھ کر کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ لڑکوں کو گھر میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

اینکر پرسن: کیا ان کو گھر میں رکھنا چاہیئے؟

آمنہ جاوید: گھر پر رکھنے سے تو معاملہ اور بگڑ جائے گا علاج میں لانا ضروری ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم گواہی دیتے کہ لڑکیوں کو تو بس گھر پر رکھ لیں ٹھیک ہو جائیں گی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

اینکر پرسن: آپ خود بھی ایک لڑکی ہیں تو آپ لڑکیوں کو کیا پیغام دیں گی اس حوالے سے جو ایڈکشن میں ملوث ہیں۔

آمنہ جاوید: بالکل میں ان کے لیے اور ہمارے معاشرے کے لیے بھی پیغام دوں گی کہ معلومات یا آگاہی بہت ضروری ہے۔ آگاہ ہو جائیں اس کے بارے میں کہ یہ چیز کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ کسی طرح کے بھی موڈ کو منیج کرنے کا حل یہ نہیں ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ زندگی عطا کی ہے۔ بڑا کچھ ہے ہمارے پاس enjoy کرنے کے لیے۔ نیند کی گولیاں کھا لینا lexotonil لے لینا۔ Pain killer لے لینا یہ کوئی حل نہیں۔ ایک عورت تو بہت مضبوط ہوتی ہے مرد میں اپنے لحاظ سے بہت قابلیت ہے۔ لیکن لچک عورت میں زیادہ ہوتی ہے دونوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یہ مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں اپنے اپنے لحاظ سے بہتر ہیں اس کو اپنی جگہ شرف حاصل ہے اور دوسرے کو اپنی جگہ مقام حاصل ہے تو ہمیں بجائے اس کے کہ ہم چھوٹی چھوٹی چیزوں کا سہارا لیں، گولیوں کا سہارا لیں۔ آج کل تو بہت آسان ہے انٹرنیٹ کے ذریعے ہر چیز دستیاب ہے کہ کس طرح ہم اپنے موڈ کو بہتر کر سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں آپ گوگل میں دیکھ سکتے ہیں کہ سٹریس کو کیسے منیج کریں۔ اب تو ہمارا میڈیا بہت اچھا رول پلے کر رہا ہے۔ کافی آگاہی آ گئی ہے چاہے وہ
سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا۔

اینکر پرسن: ایک ایسے شخص جو نشے میں ملوث ہو گئے تھے مگر اب وہ اس سے چھٹکارہ حاصل کر چکے ہیں ان کا بزنس ہے لاہور میں۔ عرفان خان ان کا نام ہے میں ان سے آپ کی ملاقات کرواؤنگا اور چند بنیادی سوالات پوچھوں گا۔ عرفان صاحب یہ بتائیں کہ 22 سال پہلے آپ اس بیماری میں مبتلاً تھے۔ تو کیسے شروع کیا۔

عرفان خان: زین صاحب میں بھی ایک Teenager کی طرح سکول سے کالج منتقل ہوا تو اسی دوران ایک دوست نے میرے سامنے ڈرگز کا استعمال کیا تو پھر میں نے بھی استعمال کر لیا۔ اس کے بعد اتنی طلب شروع ہو گئی۔ وہ تجربہ اتنا مسحور کن تھا کہ میں برداشت نہ کر سکا۔ ڈرگز نے اس وقت تو مجھے بہت سکون دیا اور مجھے منور کر دیا۔ یقینی بات ہے جب اتنا اچھا تجربہ ہو تو انسانی فطرت ہے کہ انسان اُسے دوہرانا چاہتا ہے۔ تو میں نے بھی اسے دوہرایا اور بار بار ایسا کیا چند ہی ہفتوں میں اس پر منحصر ہو گیا۔ یعنی پھر میرے شب و روز اس کے بغیر گزرتے نہیں تھے اور میں اپنی زندگی کی تمام تر مصروفیات اور ذمے داریوں سے دور ہو گیا۔

اینکر پرسن: کتنا عرصہ آپ منشیات میں ملوث رہے؟

عرفان خان: تقریباً نو دس سال کا عرصہ میں اس بیماری میں گزار چکا ہوں اور الحمداللہ پچھلے بائیس سال سے میں صحت یابی کی زندگی گزار رہا ہوں۔

اینکر پرسن: تھوڑا سا بتائیں کہ بیماری اور صحت کے بعد کی زندگی میں کیا فرق ہے؟

عرفان خان: فرق تو زمین آسمان کا ہے آپ تصور نہیں کر سکتے اس زندگی کا جو ایک نشے کے مریض کو گذارنی پڑتی ہے۔ وہ کئی دفعہ جیتا ہے اور دن میں کئی دفعہ مرتا ہے۔ اس سارے عمل میں جو بے بسی ہے نہ چاہتے ہوئے بھی نشہ کرنا اور خود کی نظر سے، فیملی کی نظر سے گر جانا۔ یہ سمجھ نہیں آتا کہ جائیں کہاں۔ زمین پھٹ جائے وہاں سماء جائیں یا آسمان نگل لے۔

اینکر پرسن: آپ خود علاج میں آئے یا گھر والوں نے مجبور کیا؟

عرفان خان: مجھے اپنی مشکل کا احساس بہت جلدی ہو گیا تھا مجھے لاشعوری طور پر اندازہ ہو گیا تھا کہ میں بڑی مشکل میں گرفتار ہو چکا ہوں۔ میں غلط راستے پر ہوں۔

اینکر پرسن: آپ نے بھی نشہ Teen age میں شروع کیا۔ آج بھی زیادہ تعداد اسی عمر کے بچوں کی ہے تو ان کے لیے آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے۔

عرفان خان: کالج یونیورسٹی میں سب سے بڑا عنصر ایڈونچر کا ہوتا ہے طلبا نئے نئے تجربات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آسمان کو چھو لیں۔ میرے خیال میں ان کے نصاب میں کوئی مواد ایسا پڑھانا چاہیئے حکومت کو چاہیئے اقدامات کرے۔ میٹرک کا ٹائم بہت آئیڈئیل ٹائم ہے۔ کورس میں نشے سے متعلق آگاہی ہونی چاہیئے۔نشے کے مریض کی حقیقت اور سگریٹ کے نقصانات اگر پتہ ہوں۔ تو کافی فائدہ ہو۔

اینکر پرسن: عرفان صاحب بہت شکریہ آپ کے وقت کا۔ عرفان صاحب جو نشے کے مریض تھے، بہت خوش اسلوبی سے اپنی زندگی اب گذار رہے ہیں ایک اور نشے کے شکار مریض جو ٹھیک ہو چکے ہیں عزیز وائیں انھوں نے بتایا کہ پچھلے تیس سال جو انھوں نے نشے میں گزارے وہ وقت انھوں نے ضائع کر دیا۔ تو ہماری نو جوان نسل کو چاہیئے کہ سیکھیں اور اپنا وقت برباد نہ کریں۔

لوگ نشہ کرنا کیوں شروع کرتے ہیں اور سب سے اہم بات کہ اگر ہمارا کوئی اپنا عزیز اور قریبی اس بیماری کا شکار ہو جائے اور علاج کے لیے بھی آمادہ نہ ہو تو ایسے میں ہم ان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ جواب کے لیے آج ہمارے سے ساتھ ماہر منشیات ڈاکٹر صداقت علی موجود ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے ڈاکٹر صاحب کہ لوگ نشہ کیوں شروع کر دیتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: آج کل زندگی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ لوگ اس کا مقابلہ نہیں کر پا رہے جتنی زندگی ایک فرد ایک سال میں گزارتا تھا۔ اب زندگی وہ تقریباً 15 دن میں گزار لیتا ہے اتنی خبریں سنتا ہے۔ مشکلات کا سامنا کرتا ہے معاشی حالات میں فرق آ گیا ہے۔ لوگوں کی ضرورتوں میں فرق آ گیا ہے۔ تو اس سے تعلقات بھی پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی اچھی سے اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ اس کو کم کرنے کے لیے لوگ آسان راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ لوگ شارٹ کٹ استعمال کرنا شروع کرتے ہیں جس سے ان کے ہاتھ میں مزے کا ایک کھیل آ جاتا ہے۔ ایک سوئچ آ جاتا ہے جب چاہے آن کر دیں یا آف کر لیں۔ زیادہ تر یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ذہین ہوتے ہیں زیادہ کام کرتے ہیں۔ جب وہ اس زندگی کا مقابلہ نہیں کر پاتے تو پھر وہ ڈرگز کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ سب سے پہلے تو جس چیز کو وہ منتخب کرتے ہیں۔ وہ سگریٹ ہے جس میں نیکوٹین ہے جو ایسی تبدیلیاں ان میں منٹوں میں لیکر آتا ہے جو ان کو فوری چاہیئے ہوتا ہے تو اس طرح لوگ سگریٹ کے عادی ہو جاتے ہیں پھر وہ اپنے خیالات کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے، لطف لینے کے لیے اور چرس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ ان کے اردگرد کس قسم کے لوگ موجود ہیں۔ پاکستان میں شراب اور چرس کافی عام ہے۔

اینکر پرسن: ڈاکٹر صاحب پاکستان میں عام طور پر کون سے نشے پائے جاتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: پاکستان میں اس وقت addict تو سب سے زیادہ ہیروئین کے ہیں۔ لیکن یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو پہلے دوسرے نشے کر رہے تھے۔ براہ راست ہیروئین پر آنے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ لوگ جب نشے کے استعمال میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں تو وہ مختلف نشوں کو پھر آزماتے ہیں نشے چار قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ Tranqulizars نیند کی گولیوں کا ہوتا ہے۔ جیسے xanix,Laxotnil انھیں ہم downer کہتے ہیں۔ایک upers ہوتے ہیں۔ اس میں کافی چائے ایک سب سے قابل قبول نشہ ہے، اس سے آگے Emphitmine، کرسٹل میتھ اور کوکین ہے جنہیں ہم Upetsکہتے ہیں۔ یہ ایک دم سے ذہین کے چودہ طبق روشن کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات شراب اور میتھ کو کوکین کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

اینکر پرسن: آپ کے پاس علاج میں زیادہ تر کس عمر کے لوگ آتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: ہمارے پاس دو قسم کے لوگ زیادہ آتے ہیں، ایک نوجوان طبقہ، جو ابھی کچھ بنا نہیں اور تباہ ہو گیا نشے سے۔ یہ وہ لوگ ہیں، 20 سے 25 سال کی عمر میں ہمارے پاس آتے ہیں اور انھوں نے نشے کا استعمال کوئی 13,14 سال کی عمر میں کیا ہوتا ہے۔ یہ لوگ تعلیم کے مراحل طے نہیں کر پاتے پھر ان کی شادیاں نہیں ہو پاتیں پھر ان کی بد نامی ہو جاتی ہے۔ پھر گھر والے بھی ان سے مایوس ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ تعلقات بھی خراب ہو جاتے ہیں اور دوسری قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جو کہ زندگی میں کچھ بن جاتے ہیں۔ ترقی کر جاتے ہیں۔ عروج پر جاتے ہیں، ان میں کاروباری طبقہ بھی ہے۔ سیاست دان بھی ہیں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایسے تمام لوگ ہیں جو کسی عروج کو چھوتے ہیں اور پھر حاصل کرنے کیلئے عموما شراب کا سہارا لیتے ہیں۔ پھر ان کو ایڈکشن ہو جاتی ہے شراب کی، نہ مزہ باقی رہتا ہے اور نہ زندگی کے باقی معاملات ٹھیک چلتے ہیں۔ نہ تعلقات ٹھیک رہتے ہیں نہ کام ٹھیک چلتا ہے بدنامی الگ ہوتی ہے زیادہ تر یہ لوگ 45 سال سے اُوپر کی عمر کے ہوتے ہیں۔

اینکر پرسن: ڈاکٹر صاحب کون سی علامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نشہ کرنے والا اب بیماری کا شکار ہو چکا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: پہلی علامت سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اب یہ مریض بن چکا ہے وہ یہ کہ ہر طرف سے انگلیاں اٹھتی ہیں۔ اگر وہ پڑھ رہا ہے یہ تو پڑھ نہیں رہا، کوئی کام آتا ہے تو کام نہیں کر رہا اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں اس کی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں۔ سوائے اس کے کہ ایک ہی چیز ہے جسے وہ کر رہا ہے وہ نشہ ہے۔ وہ چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے کہ نشہ جاری رکھ سکے۔ اس نے لوگوں کو بہلا پھسلا کر، کبھی دھمکی دے کر، لارا لپا لگا کر، کوئی وعدہ وغیرہ کر کے اس نے نشے کو جاری رکھنا ہے اور لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے اس نے ایسی کوشش کرنی ہیں کہ Nice لوگوں کو اپنے اردگرد اکھٹے کرنا اور ان کے جذبات سے کھیلنا ہے ان کو بہلانا پھسلانا ہے اور پھر ان سے اپنا مقصد پورا کروانا ہے۔ انھیں بار بار مایوس کرنا ہے اور بار بار انھیں پھر اُمید بھی دلانی ہوتی ہے کہ نہیں اب میں اچھا ہوں۔ انھیں بار بار دلیل دینی ہوتی ہے اور بار بار ان سے کلین چِٹ لینی ہوتی ہے اور انھیں استعمال کرنا ہوتا ہے۔

اینکر پرسن: ڈاکٹر صاحب اگر نشے کا مریض خود علاج پر آمادہ نہ ہو تو کیا اس کے عزیز واقارب اس کو علاج میں لانے میں مدد کر سکتے ہیں؟ ان کو علاج کے لیے قائل کر سکتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: جی! یہ تو طے شدہ ہے زیادہ تر نشے کے مریض علاج کی طرف نہیں جانا چاہتے۔ جب بھی علاج کا کوئی مشورہ ملتا ہے تو اسے کل پر ڈال دیتے ہیں یا آنے والے کل کے لیے کوئی نوید سناتے ہیں۔ دوسری تمام بیماریوں کے مریض جلد از جلد علاج میں جاتے ہیں اور ڈاکٹر کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں۔لیکن ہمارے مریض دیر کرتے ہیں کیونکہ ہمارے مریض کی جیب میں اسکی بیماری بھی ہے اور علاج بھی ہے اس نے اپنا علاج اپنی نشہ آور چیز سے خود ہی کر لینا ہے جب تکلیف حد سے بڑھی اس نے نشہ کر لیا ہے۔

اینکر پرسن: ڈاکٹر ساحب کیا پاکستان میں ایسا کوئی علاج ہے جو بین الاقوامی سطح کا ہو جو پاکستا ن میں رہ کر نشے کا علاج کر سکے؟

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے پہلے 1978 میں افغانستان کے جب حالات خراب ہو ئے تھے تو ہیروئن کا نشہ پاکستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا تھا تو جو پہلا کلینک اس کے علاج کے لیے پاکستان میں جو بنا تھا وہ میں نے بنایا تھا۔ صداقت کلینک اس کے بعد آج پاکستان میں 200 علاج گاہیں ہیں جو کام کر رہی ہیں جن میں سے 150 علاج گاہیں۔ جن میں وہ لوگ ہی کام کر رہے ہیں جو کسی نہ کسی دور میں میرے ساتھ کام کر چکے ہیں یا مجھ سے کام سیکھ چکے ہیں مجھے 37 سال ہو گئے ہیں اس فیلڈ میں کام کرتے ہوئے اور دنیا میں جتنی جدتیں آتیں جیسے دل کی بیماری کے علاج بائی پا س اسی دور میں شروع ہوا۔ ٹرانسپلانٹ شروع ہوا۔ تو اسی طرح نشے کی بیماری کے علاج میں بھی دنیا بھر میں ترقی ہوئی۔ میں ہر سال امریکہ جاتا رہا اور اپنی ٹریننگ کو بھی میں نے جاری رکھا تو اب ہمارے یہاں بھی بین الاقوامی معیار کا علاج ہوتا ہے اور صرف اِن ڈور علاج نہیں ہوتا۔ اگر فیملی کاؤنسلنگ میں آنے کے لیے تیار ہو تو مریض کو علاج میں لائے بغیر بھی گھر والے خود بھی اس کا علاج کر سکتے ہیں۔ کئی طریقہ علاج ہیں، ایک تو یہ کہ آپ مریض کو داخل کرتے ہیں۔ اہل خانہ کی کاؤنسلنگ کرتے ہیں یا گھر والے آتے ہیں کاؤنسلنگ میں بعد میں مریض کو لاتے ہیں۔

اینکر پرسن: کیا ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مریض کا علاج ہوا ہو اور اس کو دوبارہ علاج کی ضرورت پڑ گئی ہو؟

ڈاکٹر صداقت علی: یہ ایک غلط فہمی پر مبنی سوال ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ بیماری ایسی ہے کہ ایک دفعہ اس کا علاج شروع ہوتا ہے تو اس کا علاج کبھی ختم نہیں ہوتا جیسے ذیابیطس ہے۔ اس کا علاج شروع ہوتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا۔ دل کی بیماری کا علاج ہوتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا تو نشے کی بیماری میں بھی علاج شروع ہوتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا اس کی شدت کم ہو جاتی ہے مگر مرض برقرار رہتا ہے۔ فریکوئنسی کم ہو جاتی ہے ہو سکتا ہے کہ آپ کو مہینے بعد 2 مہینے بعد اپنے معالج کے پاس جانا پڑے مگر علاج کسی نہ کسی صورت جاری رہتا ہے لہٰذا ایک علاج کا ختم ہونا اور دوسرے علاج کی ضرورت پڑنا یہ تاثر ہی غلط ہے یہ علاج چلتا رہتا ہے جس میں مریض کی زندگی بہتر ہوتی رہتی ہے اور لوگوں کا خیال ہے کہ اگر مریض نشہ نہ کرے تو پھر علاج کامیاب ہے اگر وہ پھر نشہ کر لے تو علاج کامیاب نہیں۔ ایسی بات نہیں بلکہ مریض کا پوری زندگی کا علاج ہوتا ہے جس میں اس کو ذمہ داری لینا سکھانا، اس کے موڈ اور مزاج کو ٹھیک کرنا سکھانا اور زندگی میں سے نشہ آہستہ آہستہ ختم ہو اور اس کی جگہ دوسری دلچسپیاں لے لیں اور دوسرے مشاغل اس کی زندگی میں شامل ہو جائیں آپ یوں سمجھ لیں کہ نشے کا جب کوئی مریض بنتا ہے تو وہ پتھر کا ہو جاتا ہے پھر فیملی کا معالج کا اور دیگر احباب کا کام ہوتا ہے کہ اب اس پتھر سے آپ نے ایک مجسمہ تراشنا ہے اور آپ یہ سمجھیں کے پتھر کے اندر ایک خوبصورت انسان موجود ہے۔ جب آپ پتھر ہٹاتے جائیں گے تو اندر سے ایک خوبصورت مجسمہ بنتا جائے گا۔ اس میں بہت وقت لگتا ہے۔

اینکر پرسن: ڈاکٹر صاحب ہمارے پروگرام کے توسط سے کوئی ایسی چیز بتا دیں جو لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں وہ اپنے گھر والوں اور عزیز واقارب کو نشے سے دور رکھ سکیں یا کوئی علاج آپ بتا سکیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: بالکل سادہ سی حکمت عملی ہے اگر اہل خانہ اور دوست احباب اس کو سمجھ لیں تو علاج کی ضرورت ہی نہ آئے اور آسانی سے لوگ خود نشہ چھوڑ دیں مریض کو نشے سے جب نقصانات اور مسائل ہوں تو ان مسائل کو حل کرنا چھوڑ دیں اس کو روزانہ کلین سلیٹ دینا چھوڑ دیں۔ اس کو میرٹ پر ڈیل کریں۔ وہ اپنی ذمہ داریاں خود اُٹھائے اور اگر نشے کا مزہ وہ خود لیتا ہے تو اس سے ہو نے والی تکلیفیں بھی اس کے حصے آنی چاہیئیں تاکہ اس کو احساس ہو کہ یہ گھاٹے کا سودا ہے جو میں کر رہا ہوں لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ یہ سب کرتے ہوئے بھی آپ مریض کی بے عزتی نہیں کر سکتے عزت احترام کا رشتہ قائم رکھیں باقی لین دین کے پکے رہیں مریض اپنی زندگی کی ذمہ داریاں خود پوری کرے اور آپ اپنی ذمہ داریاں خود پوری کریں۔ آپ اس کو نشے کے نقصانات بتاتے رہیں یہ نشہ ہے اور اس کے یہ نقصانات ہیں اور اب تم یہ خود سوچ لو کہ تم نے اپنی زندگی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔

اینکر پرسن: ڈاکٹر صاحب ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں نوجوان لڑکوں کی تعدا د نشے میں بہت زیادہ ہے وہاں خواتین کی تعداد بہت بڑی ہے آپ کے پاس کوئی کیس آئے اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ خواتین کیوں ملوث ہیں نشے میں۔

ڈاکٹر صداقت علی: بنیادی طور پر خواتین ہو یا مرد ہو۔ نشہ کرنے کی وجوہات دو ہی ہیں ایک تو کوئی ٹینشن ہے، کوئی ذہنی کیفیت ہے جو پیدا ہو رہی ہے جو برداشت نہیں ہو رہی دوسرا کسی نے دعوت دے دی کسی نے متعارف کرا دیا اسی سے نشہ کرنے کا کام شروع ہوتا ہے۔ خواتین بھی مرد کے شانہ بشانہ چلنا چاہتی ہیں لیکن خواتین میں جو نشہ سب سے زیادہ ہے وہ نیند/سکون آور ادویات کا ہے۔ Valium,xanix,laxotnil وغیرہ اور اسے وہ نشہ بھی نہیں سمجھتی۔خوبصورت سا پتہ ہو تا ہے جس میں یہ گولیاں ہوتی ہیں جن کو وہ استعمال کرتی ہیں۔ پرس میں رکھتی ہیں اور ذرا سی ٹینشن پر گولی نکال کر کھا لیتی ہیں ان کو پتہ ہی نہیں چلتا اور دو باتیں ہیں جو نشہ چھوڑنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ایک تو یہ کہ وہ مردوں کی طر ح اتنی آزاد نہیں ہوتی۔ ان کو آسانی سے گھر پر رکھ کر علاج کیا جا سکتا ہے دوسرا ان میں قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے۔ خواتین زیادہ تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں قدرت نے ان کو بنایا ایسا ہے جبکہ مرد تکلیفوں کی کوئی Remedy تلاش کرتے میں لگا رہتا ہے۔

اینکر پرسن: ڈاکٹر صاحب بہت شکریہ آپ کا اتنا وقت دینے کا۔ آج ہم نے ڈاکٹر صداقت علی سے تفصیلی گفتگو کی۔
DIG حیدراشرف سے تھوڑی سی بات کریں گے کہ ڈرگز کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈرگز کے کاروبار کو روکنے کے لیے کیسے عمل پیرا ہیں اور ڈرگز لاہور میں کس راستے سے لائی جا رہی ہیں اور کیسے تقسیم کی جا رہی ہیں؟

اینکر پرسن: ڈاکٹر صاحب 2013 کی نسبت 2015 تک 78 فیصد منشیات کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا۔ پولیس اس کی روک تھام کے لیے کیا کر رہی ہے؟ شہر میں اس کا داخلہ کیسے ہوتا ہے؟

حیدر اشرف: اگر آپ پولیس کے ریکا رڈ کو مد نظر رکھ رہے ہیں کہ استعمال میں اضافہ ہوا تو اس سے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پولیس کی کارکردگی 78 فی صد بڑھی ہے اگر زیادہ FIRs ہوئی بہن زیادہ مجرم پکڑے گئے ہیں تو اس کو ہر گز مطلب یہ نہیں کہ زیادہ استعمال ہوا ہے اس کا مطلب ہے کہ شہر میں روک تھام زیادہ کہ گئی ہے۔ دو تین کام پولیس کرتی ہے سب سے پہلے جہاں سے منشیات کی ترسیل ہوتی ہے۔ ان ذرائعوں تک پہنچے کے لیے یقیناً پولیس کو دوسرے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں سے یہ ٹرانسپورٹ ہوتی ہے وہاں بھی پولیس کی مدد کی ضرورت ہے اور تیسری جگہ جہاں یہ لائی جاتی ہے اس وقت گفتگو کا موضع لاہور ہے۔ تو لاہور میں ہمارا اپنا ایک انفارمیشن کا سٹم ہے۔ اس کے داخلی، خارجی راستوں کو ہم خود مونیٹر کرتے ہیں اس کے علاوہ ہم یہاں ANF کی مدد بھی لیتے ہیں ہم اِن تمام وسائل کو استعمال کر کے منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے رہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ پولیس آئے دن بڑی مقدار میں منشیات برآمد کرتی ہے۔

اینکر پرسن: ہم نے اس موضوع پر پوری تحقیق کی تو ہمیں پتہ چلا کہ نوجوان طبقہ زیادہ تر منشیات کے استعمال میں ملوث ہے اور حیرت تو اس بات پر ہے کہ خواتین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ آپ کے پاس اس بارے میں کیا معلومات ہیں۔

حیدر اشرف: معلومات تو وہی ہیں تو آپ بتا رہے ہیں لیکن اکیلی پولیس اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتی۔ اس میں کچھ اور عناصر بھی درکار ہیں جیسے والدین کی تعلیم اساتذہ کا کردار اور منشیات چھڑوانے کے لیے باقاعدہ ادارے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان سب کا اہم کردار ہیں۔ اگر ہمیں اپنے بچوں کی زندگی سے نشہ ختم کرنا ہے تو اس کے لیے جتنے سماجی چیک ہیں وہ سب پورے کرنے پڑیں گے اس کے بعد ہی ہم اس سے نجات کی طرف جائیں گے۔

اینکر پرسن: کیا اس کے لیے کوئی آگاہی مہم بھی پولیس چلا رہی ہے؟ خاص طور پر یوتھ کے لیے۔

حیدر اشرف: میں پھر سے اسی بات کو دہراؤں گا پولیس ضرور مہم چلائے گی اور پہلے بھی اس قسم کی آگاہی مہم چلاتی رہی ہے۔ لیکن کچھ کام پولیس کے کرنے والے ہیں اور کچھ کام معاشرے کے دوسرے اداروں کے ہیں پولیس کا کام قانون نافذ کرنا ہے۔ منشیات فروشوں کو پکڑنا ہے پولیس ایجوکییٹ ضرور کرے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو دوسرے ادارے ہیں ان کا کام ہے کہ منشیات سے متاثرہ افراد کو بحالی کی طرف لے جائیں اور لوگوں کو آگاہی دیں اس میں آپ کا ادارہ یعنی میڈیا کافی اچھا کردار ادا کر سکتا ہے۔

اینکر پرسن: آپ نے کہا کہ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی کا سسٹم لگایا گیا ہے تاکہ چیک کیا جا سکے تو کیا اطلاعات آپ کے پاس آتی ہیں؟ کہاں سے کس راستے سے لاہور میں منشیات زیادہ لائی جاتی ہیں اور کس ذریعے سے؟

حیدر اشرف: دو طر ح کے راستے ہیں ایک تو وہ راستے جن کے بارے میں سب کو پتہ ہے کہ یہاں پولیس کا ناکہ کافی سخت ہے وہاں صرف پہلی بار آنے والے پکڑے جاتے ہیں۔ چونکہ راستے سارے زیر نگرانی ہوتے ہیں تو مجرم دوسرے ایسے ذرائع استعمال کرتے ہیں جہاں مسلسل نگرانی نہیں ہوتی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے بھی منشیات کی ترسیل ہوتی ہے بعض اوقات وہ ایسا طریقہ اور راستہ اختیا ر کرتے ہیں کہ وہ پولیس کی نگاہ سے بچ جاتے ہیں۔

اینکر پرسن: ناظرین منشیات کے بڑھتے ہو ئے استعمال کے لیے حکومت وقت کو ضرورت ہے کہ وہ موثر قانون سازی کے تحت اس کی روک تھام کرے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ موثر حکمت عملی کے تحت کاروائی کریں تاکہ منشیات کا استعمال روکیں سب سے زیادہ ذمہ داری بحثیت شہری ہم سب کی ہے کہ منشیات کا استعمال روکیں اور اس لعنت سے چھٹکارہ حاصل کریں اگر ہمارے عزیز واقارب میں سے کوئی منشیات کا شکار ہو جاتا ہے تو یہ خالی اس کی زندگی برباد نہیں کرتی بلکہ پورے خاندان کی زندگی برباد کرتی ہے۔ بحثیت معاشرہ، بحثیت انسان ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے پیاروں کو اور اپنے عزیزوں کو اس لعنت سے دور رکھیں۔ زین علی کو اجازت دیں اگر زندگی رہی تو کل پھر ملا قات ہو گی۔ اللہ حافظ