سحر: اسلام وعلیکم! میں ہوں سحر

محسن نواز: اور میں ہوں محسن نواز! امید ہے کہ ہمارے ناظرین ایس بی این پر ہمارے ساتھ ہوں گے اور اس شو میں ہم آپ کی ذاتی، معاشرتی اور پروفیشنل زندگی کے حوالے سے سمارٹ سلوشنز دیں گے۔

سحر: جی بالکل! کچھ ایسے مسائل جو کہ ہم روزمرہ کی بنا پر ان کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں اور ان کا حل ہمیں دور دور تک نہیں نظر آ رہا ہوتا اور وہ ایسے مسائل نہیں ہوتے کہ ان کا کوئی مختصر حل ڈھونڈ ا نہ جا سکے۔ اس بارے میں آج ہم بات کریں گے۔

محسن نواز: اور سحر بہت دفعہ یہ بھی تو ہوتا ہے کہ جو پرانے حل ہیں وہ ہم آج کے مسائل کے لئے بھی استعمال کر رہے ہوتے ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور ہم بار بار انہی حل کو لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سحر: ایک اور بھی رححان دیکھا گیا ہے کہ ہم مسائل کو بار بار بات چیت کرتے ہیں۔ بار بار ہماری توجہ اسی پر ہوتی ہے۔ مسائل کے متعلق بار بار بات کرتے رہتے ہیں لیکن ہم نے مسائل کے حل کے حوالے سے کبھی بات نہیں کرتے ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا ہم نے کہ ہمیں اس کے حل کے بارے میں بھی بات کرنی چاہیئے۔

محسن نواز: آپ نے بالکل صحیح کہا۔ ناظرین کو میں یہ بتاؤں گا کہ ایس بی این کے سمارٹ سلوشن کے شو پر اس وقت خاص طور پر ہمارے ساتھ شامل ہوا کرتے ہیں ڈاکٹر صداقت علی! جن کا انسانی نفسیات کے حوالے سے 36 سالہ تجربہ ہے، ایڈکشن سائیکاٹرسٹ کے طور پر یہ جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ عادات کو بدلنے میں خیالات اور موڈ وغیرہ کو منظم کرنے میں، برتاؤ اور رویوں کو بدلنے میں ڈاکٹر صداقت کا بے شمار کام ہے نہ صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان سے باہر بھی ڈاکٹر صداقت کا نام جانا جاتا ہے اور ان کی بہت ساری کتابیں ہیں جو آپ لوگ پڑھ چکے ہیں۔ ولنگ ویز کے سی ای او ہیں اور اس شو پر آنے کے لئے ڈاکٹر صداقت علی کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہمارے ناظرین کیلئے وقت نکالا کرتے ہیں۔
اسلام علیکم! ڈاکٹر صاحب۔

ڈاکٹر صداقت علی: وعلیکم اسلام جی۔

سحر: ڈاکٹر صاحب! آپ کا کیا حال ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: الحمد اللہ! میں شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے شو پر بلایا۔

سحر: ڈاکٹر صاحب! آج کا جو موضوع ہے وہ تھوڑا دلچسپ نہیں بلکہ بہت دلچسپ ہے۔ کیا غصہ صرف جذبہ ہے یا اسے بیماری بھی سمجھا جاتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: ویسے تو غصہ ایک بالکل معمولی جذبہ ہے اور ہمارے ہاں اکثر بہت کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی چیز حد سے بڑھ جائے تو اسے بیمار کہہ دیتے ہیں یا اگر کم ہو جائے تو بھی بیماری کی شکل ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی چیز درمیانے درجے پر تو اسے معمولی حد کہا جاتا ہے۔ جب ہم زندگی گزارتے ہیں تو ہمیں مختلف باتوں پر، ایک دوسرے پر یا حالات پر غصہ آ جاتا ہے لیکن اگر یہ غصہ ہمیں مفلوج کر دے تو ہماری زندگی پر جنون طاری ہو جاتا ہے۔

سحر: ہماری سوچ سمجھ پر حاوی ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: سمجھنے میں مشکلات پیش آئیں گی تو جب کام ہم سے ہونا مشکل ہو جائے یا وہ کام ہم نہ کر سکیں تو پھر اس کا مطلب ہے کہ غصہ اب ایک بیماری ہے اسے ہم غصہ کا مرض کہیں گے۔

محسن نواز: تو ڈاکٹر صداقت جیسا کہ آپ نے بتایا کہ غصہ ایک جذبہ ہے جیسا کہ دیگر جذبات خوشی، غمی اور شرمندگی کے ہیں تو پھر کیا اس کو ایک مثبت انداز میں مثبت نتائج کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر صدا قت علی: دیکھیں! ویسے تو یہ ایک ماضی کا قصہ ہے۔ غصہ آج کے زمانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس زمانے میں انسان کوغصے کی ضرورت ہوتی تھی دوسروں تک اپنی منشاء پہنچانے کے لئے کہ جب انسان بات چیت نہیں کر سکتے کیونکہ انہوں نے ابھی گفتگو سیکھی نہیں تھی۔ گفتگو سیکھتے ہوئے تو ابھی کوئی 10 ہزار سال ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے تو انسان ایک دوسرے کو رلا کر، غصہ کر کے ڈرایا کرتے تھے جیسے کہ ابھی بھی بہت سے جانور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ اسی طریقے سے بات کرتے ہیں کیونکہ وہ سوچ نہیں سکتے، اپنی بات دوسروں تک پہنچا نہیں سکتے، تو اس زمانے میں غصہ ایک جذبہ تھا جس میں دوسروں کو دکھا کہ ہم بتاتے تھے کہ تم کوئی ایسی چیز کر رہے ہو وہی جو مجھے پسند نہیں ہے اس زمانے میں تو بات چیت کرنے کی مہارت، زبان بہت ترقی کر گئی ہے۔

سحر: اچھا ڈاکٹر صاحب میرے ذہن میں ایک بات جو آتی ہے کہ غصہ ایک ایسی چیز ہے جس پر قابو پانا مجھے تو بہت مشکل لگتا ہے۔ تو کیا آپ کے پاس کوئی ایسی بات ہے جس کے ذریعے یہ کہا جا سکے کہ غصے پر قابو پانا آسان ہے یا دیر تک ٓپ اس پر کام کر تے رہیں تو اس پر قابو پا سکتے ہیں یا اس پر قابو پانے میں کتنا وقت لگے گا۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں اگر تو ہم قوت ارادی استعمال کریں تو غصے پر قابو پانا زیادہ تر مشکل ہو گا کیونکہ کئی دفعہ ہم اپنی قوت ارادی کی وجہ سے اپنے غصے پر قابو پائیں گے لیکن اگر ہمارا پیمانہ صبر سے زیادہ بڑا ہوا ہے تو پھر ہم غصے پر قابو نہیں پا سکیں گے اور ہم پھٹ پڑیں گے لیکن اگر ہم قوت ارادی کے جو متبادل طریقے سمجھ لیں اور سیکھ لیں اور نظریات میں تبدیلی لے آئیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سی جگہوں پر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا غصہ کرنا جائز ہے اس وقت ہم حق پر ہے لیکن دراصل ایک جھوٹ ہے، سچ یہ ہے کہ ہمارا زہریلے قسم کا غصہ کسی بھی موقع پر جائز نہیں اور بعد میں جب ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ بھی چل جاتا ہے کہ فلاں موقع پر ہم غصے میں تھے اور وہ کوئی مناسب رویہ نہیں تھا، مناسب طریقہ نہیں تھا۔

سحر: یعنی اس چیز کا احساس ہمیں تب ہوتا ہے جب غصہ ٹھنڈا ہو چکا ہو۔

ڈاکٹر صداقت علی: اچھا جب یہ حقیت ہم اچھی طرح سے سیکھ لیں جو کہ بہت آسان نہیں ہے سیکھنا کیونکہ غصہ میں رعب بھی بہت ہوتا ہے تو غصہ ہمیں خود یقین دلاتا ہے کہ یہ جو تم کر رہے ہو یہ تم بالکل ٹھیک کر رہے ہو اور اس چیز کو سمجھنے کے لیے اتنی ہی سمجھ بوجھ چاہیئے ہو گی جتنی کہ ہمارے دماغ میں پوری طرح سے گہری بات اترنے کے لئے ضروری ہو محض ایک دفعہ یہ بات سن لینے سے، ایک دفعہ بات بتا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ہمیں جیسے وہ اشتہارات والے بار بار اشتہار چلاتے ہیں اور پھر بالاآخر ہم ان کی بات مان کر چیز خرید لیتے ہے تو سب سے پہلا قدم تو یہ ہے کہ ہم سمجھ لیں کہ غصہ حرام ہے یہ کسی بھی موقع پر جائز نہیں ہوتا اور جب ہمیں لگتا ہے کہ غصہ بالکل جائز ہے اور اس وقت جو ہماری سمجھ بوجھ ہے جو فہم و فراست ہے وہ بھی سمجھوتہ کیے ہوتی ہے۔ ہمارے دماغ کی لوڈشیڈینگ ہوئی ہوتی ہے غصہ کے دوران یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گا کہ ہمارا غصہ جائز ہے یا نہیں تو یہ غصہ میں آنے سے پہلے روزمرہ زندگی میں اگر ہم ایک بات اچھی طرح سے سمجھ لیں جیسے ہم کہتے ہیں کہ لال بتی نہیں کاٹنی، چاہے ہمیں جلدی ہو، چاہے رات کے دوبجے ہوں، چاہے ہمیں ائیرپورٹ پہنچنا ہو، چاہے ہمیں دفتر پہنچنا ہو تو ہمیں لال بتی نہیں کاٹنی، اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا، اگر ہم ایسا کچھ اپنے ذہن میں بیٹھا لیں جیسے اس چیز کا کلمہ پڑھ لیں، جیسے اسے ایمان کا درجہ دے دیں۔

محسن نواز: لیکن یہ جو فیصلہ کریں گے ہم جب ہم غصہ کی کیفت میں نہ ہوں

ڈاکٹر صداقت علی: فیصلہ اسی وقت اچھا ہو گا جب ہم کسی بھی جذباتی کیفیت میں نہ ہوں چاہے وہ غصہ کی کیفیت ہو چاہے خوشی کی ہو، چاہے نفرت کی ہو، چاہے کسی خوف کی کیفیت ہو، تو اس دوران کیے جانے والے تمام فیصلہ جذباتی ہو کر نہ کریں۔

سحر: یعنی جب ہم جذباتی طور پر بہتر نہ ہوں تو اس وقت کوئی بھی فیصلہ دیر پا نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ کام کرے گا اور نہ ہی ہم اس پر چل سکیں گے۔

محسن نواز: اچھا سحر اس سے پہلے کے ہم وہ بہت دلچسپ کلپ جو آپ بہت ڈھونڈ کے لائی ہیں چلیں میرے ذہن میں ڈاکٹر صاحب ایک سوال آیا ہے کہ غصہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انسان وہ غصے میں یا پھر مذاق میں سچ بولتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: نہیں شچ تو انسان شعوری طور پر بولے، ارادتََا بولے تو اس کا ہی فائدہ ہو گا، غصے میں بولا ہوا سچ تو دوسرے کو ناراض ہی کرے گا۔

سحر: غصے میں بولی ہوئی بات کو ہم زبان سے پھسلے ہوے الفاظ کہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: وہ لوگ جو عام طور پر لوگوں کے دل دکھانے سے پرہیز کرتے ہیں تو جب ان کا پیمانہ صبر بھر جاتا ہے اور وہ نہیں رہتے تو غصے میں پھٹ پڑتے ہیں پھر جو ان کے اندر کی سچائیاں ہیں وہ باہر آ جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سچ بولنے کے لیے ہمیں غصے کی ضرورت ہے۔ رہا غصے میں انسان سچ اس وجہ سے بھی بولتا ہے جو کہ تکلیف دہ سچ ہوتا ہے ایک تلخ سچ ہوتا ہے جو دوسروں کو تنگ کرنے والا ہوتا ہے وہ اس لئے کہتے ہین کہ سچ بولنے کے لئے جب طاقت کی ضرورت ہوتی ہے تو غصہ وہ طاقت فراہم کرتا ہے بجائے اس کے کہ یہ سچ جو ہے وہ اپنے حسن اخلاق سے بولا جائے۔ جب ہم غصے میں سچ بولتے ہیں کہ جو تو ہم سمجھے کہ جو غصے کی ایک طاقت توانائی ہے جو کہ ایک بکھری ہوئی طاقت ہے جو سیلاب کی طرح ہے جو طوفان کی طرح ہے جو سونامی کی طرح ہے تو وہ اس طرح کی سچائی جس کے ساتھ اتنے سخت ٹیڑھے ہوں توانائی کے وہ شاید دوسروں کے لئے قابل قبول نہ ہوں لہذٰا سچ بولنے کی جو مشق ہے وہ ہمیں غصے کے بغیر ہونی چاہیئے اس لئے اگر سچ بولنے کی ضرورت پیر کو ہے تو غصہ ہمیں جمعرات کو آئے گا تو پھر تو ہم سچ کو دبائے بیٹھے ہیں نا۔

محسن نواز: پھر آ پ کے چہرے پر بارہ ہی بجے رہیں گے کیا خیال ہے سحر وہ کلپ ہے بہت شوق سے آپ لے کر آئی تھیں تو میرا خیال ہے کہ دیکھتے ہیں وہ پھر اس کے بارے میں بات کرتے ہیں ڈاکٹر صداقت علی سے۔

کلپ؛۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سحر: اچھا تو ڈاکٹر صاحب آپ نے کلپ دیکھا اس میں جو صورتحال تھی وہ آپ کے سامنے ہے اس میں کافی مشہور فلمسٹار تھے جس میں مادھوری ڈکشت اور شاہ رخ خان جیسے اداکار دیکھنے میں آئے۔ یہ فلم بھی بہت زبردست تھی۔ اس میں دکھایا گیا کہ شاہ رخ خان کو غصہ ہی آتا رہا۔ ہر بات کو غصے سے ڈیل کر کے بعد میں افسوس ہوتا تھا کہ نہیں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ اس نے خود اچانک تھپڑ مارنے والا فیصلہ لیا۔ غصے پر قابو کرنے کے لیے جیسا کہ آپ نے کہا کہ ہم فورأ سے فیصلے نہیں لیتے تو یہ تو اس ٹائم بہت مشکل ہوتا ہے کہ آپ سوچیں کہ نہیں مجھے ابھی فیصلہ نہیں لینا۔ غصہ آیا پھر شرمندگی ہوئی اور سب کو ناراض کر دیا بہن، بھائی، سالے اور سب کو۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں سوچے سمجھے بغیر جب ہم کچھ کرتے ہیں اور آدھے سچ کو پورا سچ سمجھنے لگتے ہیں۔ آدھا سچ صرف اتنا تھا کہ اس کے پرس میں سے صرف پانچ ہزار روپے نکالے گئے باقی جو خالی جگہ کو اس نے پر کیا وہ کوئی پورا سچ نہیں تھا۔ جب ہمیں شک ہوتا ہے تو پھر ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ واقعی ہی ایسا ہو چکا ہے، سچ کو یقین کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ لیکن شک کو یقین کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔ جب ہمیں شک ہو تو ہمیں کہنا چاہیئے کہ مجھے شک ہے جب ہمیں وہم ہو یعنی شک کے علاوہ ایک چیز وہم ہوتی ہے جس میں ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ یہ چیز ہو نہیں سکتی لیکن مجھے وہم آ رہا ہے کہ کہیں ایسا ہوا نہ ہو یا کسی نے ایسا کیا ہے۔ جب وہم ہو تو کہنا چاہیئے کہ مجھے وہم ہو رہا ہے یا مجھے بد گمانی ہے۔ یا مجھے آپ کے بارے میں بدگمانی ہوتی ہے کہ آپ نے یہ کیا ہے۔ اس پر دوسرا کہتا ہے کہ بڑے افسوس کی بات ہے آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں نے ایسا کیا ہے اب آپ کہیں گے کہ میں نے کونسا کہا ہے کہ مجھے یقین ہے مجھے تو صرف بدگمانی ہے۔ آپ نے کہہ دیا کہ میں نے نہیں کیا تو نہیں کیا۔ لیکن جب ہمیں پورا یقین ہوتا ہے تو ہم کہتے نہیں کہ مجھے پورا یقین ہے۔

سحر: لیکن جب ہم کسی سے کوئی بات چیت کرتے ہیں مثال کے طور پر کہ مجھے لگتا ہے اچھا آپ کے پاس تو میرا پرس نہیں ہے؟ دکھائیں گے ذرا تو اس سے اس انسان کو غصہ آ جاتا ہے کہ جس پر ہمیں شک ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صدا قت علی: دیکھیں یہ تو ایک قاعدے قانون کی بات ہے آپ شک کی بات پر بھی یہ نہیں کہتے کہ مجھ ذرا پرس دکھا دیں بلکہ آپ ان سے کہتے ہیں کہ ایسے ہی مجھے وہم ہو رہا ہے۔ اگر وہم پیدا ہو تو کہنا چاہیئے کہ مجھے ایسا لگتا ہے تاکہ بعد میں آپ اپنے آپنے آپ کو بچا سکیں کہ دیکھیں میں نے نہیں کہا تھا کہ مجھے یقین ہے بلکہ مجھے وہم ہوا تھا یا مجھے ایسا محسوس ہوا تھا لیکن جب آپ کو یقین ہوتا ہے تو آپ کہتے ہیں کہ یقین ہے تو اس طرح چلتے ہیں لوگ آپ کے لفظوں پر یقین کرنے لگتے ہیں کہ بلاوجہ الزام نہیں لگاتے، یہ بلاوجہ نہیں کہتے مجھے یقین ہے۔ جب شک ہوتا ہے شک کہتے ہیں اور جب یقین ہو تو یقین کہتے ہیں ۔ ایک تو اس میں یہ پہلوں سمجھ میں آتا ہے اور دوسرا یہ کہ “انجام کو ذہن میں رکھیں” جیسے ہم کہتے ہیں کہ یہ دنیا میں سب سے مہنگی چیز عقل ہے کہ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آگے کیا ہو گا یعنی آئندہ کیا ہونے والا ہے یہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز ہے۔ اگر آپ کو پتا ہو کہ سونے کی قیمت بڑھنے والی ہے، سٹاک ایکسچینج نیچے جا رہی ہے یا میں یہ بات کروں گا تو اس کے نتیجے میں میرے تعقات خراب ہوں گے یا میں یہ بات کروں گا تو اس کے نتیجے میں تعلقات اچھے ہوں گے یا اگر میں یوں کروں گا تو میرے تعلقات بڑھیں گے۔ میں یوں ہی نہیں کروں گا تو وہ نیچے جائے گے یعنی جتنے اندازے ہمارے صیح ہوں گے۔ تو یہاں سے میں اپنے سفر کا آغاز کر رہا ہوں آگے جا کر مجھے کیا مشکلات پیش آئیں گی تو جب بھی ہمارے اندازے بہتر ہونے لگیں تو ہماری زندگی بہتر ہونے لگتی ہیں۔

محسن نواز: بہت اعلیٰ ڈاکٹر صاحب یہ بتائیے گا کہ بہت دفعہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ غصہ موروثی بھی ہوتا ہے۔ یعنی اگر والدین میں خاص کر اگر والد میں غصہ زیادہ ہے تو لڑکوں میں یہ چیز ہوتی ہے کہ وہ اپنے ولد کو رول ماڈل سمجھتے ہیں اور ان کی نقل کرتے ہیں کیا اس میں وراثت کا بھی کوئی عمل دخل ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: ہاں!جینز میں بھی یہ چیزیں ہوتی ہے لیکن یہ جینز کی وجہ سے پھلتی پھولتی نہیں ہیں جینز بیج کی طرح ہوتے ہیں اگر ان کو سازگار حالات دیں گے جیسے مٹی ہو، نمی ہو، سورج کی روشنی ہو، پانی ہو تو یہ سب چیزیں مل کر اس بیج کو نشوونما دیتی ہیں تو بیج بذات خود کچھ نہیں ہوتا اگر جینز میں غصہ ہے تو اس سے فرق نہیں پڑتا غصہ کو فرق پڑتا ہے جب اس والد کے ساتھ آپ رہتے ہوئے اس سے سیکھتے ہیں کہ غصہ کا اظہار کیسے کرنا ہے جیسے ان ماں باپ کے ساتھ رہتے ہوئے آپ کی جینز بھی پکڑے ہوئے ہیں اور اب آپ ان ماں باپ کو اپنے روئیوں کا مظاہرہ بھی کرتے ہوئے دیکھتے رہے ہیں۔ جنہیں ہم غصہ کے روئیے کہتے ہیں۔

محسن نواز: یعنی وہ بیج پودا تب بنے گا جب اس کے تمام اجزء اس کو ملیں گے؟

ڈاکٹر صداقت علی: بس وہ نظریات بیج میں ہیں جو غصے کو پروان چڑھاتے ہیں جب آپ کے نظریات آپ کو کہتے ہیں کہ اس بات پر آپ کو غصہ کرنے کا حق حاصل ہے یا آپ کا حق بنتا ہے غصہ کرنے کا یا آپ غصہ کریں گے تو آپ کوئی خطرہ نہیں ہیں جیسے ملازموں کے ساتھ اگر آپ غصہ کریں گے تو آپ کو لگتا ہے کہ کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن ایک بہت بڑا نقصان ہو جاتا ہے ملازموں کے ساتھ غصہ کرنے میں کہ وہ آپ کو بڑی نیٹ پریکٹس کرا دیتے ہیں یعنی آپ ملازموں کے ساتھ اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں اپنے رشتوں کے جو کہ پھر اکٹھے اور کڑوے ہو جاتے ہیں تو اس وجہ سے ہمیں نیٹ پریکٹس کرنی ہی نہیں چاہیئے جس گاؤں نہیں جانا تو اس کا پتا پوچھنا نہیں چاہیئے تو یہ جو لوگ ہمیں غصے کا موقع دیتے ہیں جو کہ ظائم لوگ ہوتے ہیں یہ غصے میں ہمیں ماہر بنا دیتے ہیں اور یہ ہمیں خود کچھ نہیں کہتے بڑے معصوم ہوتے ہیں، بےضرر ہوتے ہیں لیکن یہ ہمیں کسی ایسے شیر کے منہ میں لے جاتے ہیں جو ہمیں کھا سکتے ہیں۔