فرح سعدیہ: صبح بخیر آپ سب کیسے ہیں؟ آج ہمارے ساتھ ہیں ڈاکٹر صداقت علی۔ یہ ولنگ ویز کے سی۔ای۔او ہیں اور ایڈکشن کے علاج اور فیملی کاؤ نسلنگ کے ماہر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کیسے ہیں آپ؟
ڈاکٹر صداقت علی: میں بالکل ٹھیک ہوں۔

فرح سعدیہ: ہم نے ایڈکشن پر بات شروع کی ہوئی تھی۔ آپ نے بتایا تھا دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو زندگی میں کچھ نہیں کرتے اور ایڈکشن کا شکار ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو زندگی میں بہت کچھ حاصل کرتے ہیں تب ایڈکشن کا شکار ہوتے ہیں۔ کچھ طریقے بھی بتائے تھے کہ بچا کیسے جا سکتا ہے؟ آج ہم بات کریں گے کہ کیا کیا جائے اگر کوئی ایڈکشن کا شکار ہو جاے تو کیا احتیاطی تدابیر ہیں۔
ڈاکٹر صداقت علی: پہلے تو ہم تھوڑا پچھلا دہرائیں گے کہ آپ ردعمل دینے والے نہ ہوں۔ ہمیشہ عمل جنم لے، ردعمل جنم نہ لے، دوسرا نتائج پر نظر رکھیں۔

فرح سعدیہ: مطلب؟ ایڈکشن کا شکار بندہ یا فیملی؟
ڈاکٹر صداقت علی: کوئی بھی بندہ جو مستقبل میں ایڈکشن سے بچنا چاہتا ہے۔ رد عمل کرنے والا نہ ہو کھپ ڈالنے والا نہ ہو۔ نتائج پر نظر رکھنے والا ہو۔ اس کی زندگی میں کچھ ترجیحات ہوں اپنے آپ کو اور دوسروں کو برابر سمجھیں۔ نہ اپنے آپ کو کم تر سمجھے نہ دوسروں کو۔ بات سننے والا ہو۔ اکیلے سے گول کرنے والا نہ ہو۔ ٹیم پلیئر ہو اور کچھ سیکھتا رہے۔ جس بندے میں یہ ساری خوبیاں ہوں گی وہ کبھی کسی ایڈکشن کا شکار نہیں ہو گا۔ ایڈکشن سے مراد نشے کی ایڈکشن یا عادتوں کی ایڈکشن ہے۔ اس کی زندگی اچھی بھلی مزے کی گزرے گی۔

فرح سعدیہ: یعنی عادتیں اور رویے دو چیزیں ہیں۔ اب رویے پیدا کیسے کیے جا سکتے ہیں؟
ڈاکٹر صداقت علی: یہ ذہنی نقشے ہوتے ہیں۔ زندگی گزارنے کے سٹائل ہوتے ہیں۔ جیسے کوئی بندہ کھپ ڈالتا ہے تو اس کا کام بن جاتا ہے۔ یا کوئی بندہ نتائج کی پرواہ نہیں کرتا تو نتائج خراب نکلتے ہیں۔ دوسرے اس کی مدد کر کے نتائج کو ٹھیک کرتے ہیں۔ اس سے عادت پڑ جاتی ہے۔ ترجیحات نہ رکھنا۔ ہیرو بننے کا شوق ہو کہ اکیلا کوئی ایسا کام کروں کہ دنیا میں دھوم مچ جائے۔

فرح سعدیہ: توان سب پر عمل کر کے ہم بری عادتوں سے بچ سکتے ہیں؟
ڈاکٹر صداقت علی: لوگ ابھی سے پلان کریں تو ایڈکشن سے بچ جائیں گے۔ دنیا میں آگے ایڈکشن بہت آنے والی ہے۔ ایڈکشن بہت بڑا خطرہ بن کر آنے والی ہے۔ دنیا تیزی سے گھوم رہی ہے۔ سٹریس بہت زیادہ آ رہے ہیں۔ خبریں بہت آ رہی ہیں، بری خبریں بہت آ رہی ہیں۔

فرح سعدیہ: اب جن لوگوں کو ایڈکشن ہو گی ہے وہ کیا کریں؟ لوگ کہتے ہیں کے یہ عادت فی الموت ہے۔
ڈاکٹر صداقت علی: اگر کوئی ایک بار ایڈکشن کا شکار ہو جائے تو اس کے لیے گھریلو ٹوٹکے کام نہیں کرتے۔ کچن میں پکائے جانے والی ٹوٹکے کام نہیں کرتے۔ آپ کو کسی ماہر کی خدمات لینی پڑتی ہیں۔

فرح سعدیہ: اگر کوئی چھوٹی سی ایڈکشن جیسے سگریٹ نوشی میں مبتلا ہو جائے تو اس کے لیے بھی؟
ڈاکٹر صداقت علی: پلیز اسے چھوٹی سی ایڈکشن نا کہیں۔ یہ برا مان جائے گی۔ یہ دنیا کی بڑی ایڈکشن میں سے ایک ہے۔ سگریٹ کو چھوڑنا، کوکین کو چھوڑنا اور کھابہ گیری کو چھوڑنا، ایک جیسی ذہانت چاہتی ہیں اور اس کے لیے اتنی ہی محنت چاہیئے۔

فرح سعدیہ: فرض کر لیتے ہیں کہ خدا نخواستہ کوئی بچہ 80 فیصد لوگوں میں سے ہے تو متبادل ذرائع کون سے ہونگے؟
ڈاکٹر صداقت علی: متبادل ذرائع یہ ہو سکتے ہیں کہ ہمیں اس کے اردگرد کے سماجی حالات پر کام کرنا ہو گا جیسے اس کی صحبت کیسی ہے۔ اگر آپ کا بیٹا سگریٹ کی ڈبی لا کر دیتا ہے تو آپ یہ تقاضا کریں کہ فلاں فلاں دوست جو سگریٹ پیتے ہیں آپ ان کو چھوڑ دو۔ اگر کوئی یہ کر سکتا ہے جو کہ سگریٹ چھوڑنے کے پروجیکٹ کا ایک حصہ ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے ۔ آپ اس سے تقاضا کریں کہ سگریٹ کے بارے میں انٹرنیٹ سے ڈھونڈ کر لاؤ کہ اسے کیسے چھوڑتے ہیں۔ خود سے ایک کام دے دیا جائے۔ انٹرنیٹ پر سگریٹ چھوڑنے سے متعلق مختلف مواد مختلف صورتوں میں مل سکتا ہے اسے ایک مشق بنائیں۔ یہ ایک کام ہے جسے آپ ناپ تول سکتے ہیں۔ خالی سوکھے وعدوں سے کچھ نہیں ہوتا یہ جو نو عمر بچے والدین سے وعدے کر کے چلے جاتے ہیں اور والدین مطمئن ہو جاتے ہیں تو یہ صرف ایک دن کا اطمینان ہے۔

فرح سعدیہ: آپ ان سے یہ لکھواؤں کہ سگریٹ کیوں بری ہے اور اسے کیوں چھوڑنا چاہیئے؟
ڈاکٹر صداقت علی: اسے کہیں کہ ایک آرٹیکل لکھے۔ جس میں وہ تفصیل سے بتائے کہ اگر وہ سگریٹ نہیں چھوڑے گا تو اس کا کیا حشر ہو گا۔ اس کی تصویر وہ ایسے کھینچے جیسے ناولوں میں ہیروئن خاتون کا نقشہ کھینچا جاتا ہے ۔ وہ بچہ پوری تفصیل سے لکھے جس سے آنکھوں کے سامنے تصویر کھنچ جائے۔ اسے ہم کہتے ہیں کہ اپنے خراب ہوتے ہوئے مستقبل کو دیکھنا۔ اس سے بچنے کا ایک مثبت جذبہ ملتا ہے۔ پھر مہارت کے بارے میں بات کریں کہ سگریٹ پینے سے جو خوشی ملتی ہے وہ اور کس طرح سے ملے۔ وہ اپنا کوئی متبادل سکون کیسے ڈھونڈے گا کیونکہ ایڈکشن میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ وقتی طور پر مزہ آتا ہے مگر دائمی طور پر انسان اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے یہ ایک محبت نفرت کا ملا جلا رشتہ ہے۔ بچہ جب بھی کھانسی کرتا ہو گا تو وہ کہتا ہو گا کہ سگریٹ ایک بری چیز ہے مگر جب کش لگاتا ہو گا اور دماغ کے 14 طبق روشن ہوتے ہونگے تو یہ ایک مزہ کی چیز ہے۔ سگریٹ میں ایک اتنا مضبوط نکوٹین ہوتا ہے کہ نہ لینے والے جیسے ماں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ بچے کو اس سے کیا ملتا ہے۔

فرح سعدیہ: تو کیا ماں 2, 4 کش لگا کر دیکھے کہ کتنا مزہ ہے؟
ڈاکٹر صداقت علی: نہیں! اگر ماں سائنسدان ہے تو بھی اسے یہ تجربہ نہیں کرنا چاہیئے۔ جیسے ایک سائنسدان تجربہ کر رہا تھا کہ کتنی افیون کھانے سے بندہ مر جاتا ہے پھر انہوں نے جتنی افیون کھائی اور اس کے بعد مر گئے تو اس سے انہیں یہ پتہ نہیں چلا کہ کتنی افیون سے بندہ مر جاتا ہے۔

فرح سعدیہ: لیکن اس کے ساتھ اور بھی بہت سے کام سکون کے لیے کرے وہ جیسے واک کرنا، ورزش کرنا، جم کی ورزش سے وہی ہارمون خارج ہوتے ہیں جو سگریٹ سے خارج ہوتے ہیں۔ تھرل قسم کی کھیلیں جن سے ہمیں وہ مزہ اور کک ملتی ہے ۔
ڈاکٹر صداقت علی: موڈ مینجمنٹ کی طرف آئیں۔ کیا بچہ موڈ مینجمنٹ کی طرف آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں سگریٹ چھوڑ دونگا؟ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں ایسا نہیں کرونگا تو اس نے کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا۔ اس کے لئے وہ کوئی مدد حاصل نہیں کرتا اور سب کو بتانے پر آمادہ نہیں ہوتا جب تک کوئی زبان سے اقرار نہیں کرتا، جب تک کوئی اپنی کسی ایڈکشن کو چھپاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے ابھی دل سے ارادہ نہیں کیا وہ اس کو بچا رہا ہے اور اسے عزیز ہے اور جب کوئی سر عام سب کو بتاتا ہے کہ میں یہ کر رہا ہوں تو پھر اس کو ایڈکشن عزیز نہیں ہوتی۔ وہ اپنے آپ کو ایڈکشن سے علیحدہ کر چکا ہوتا ہے اور اسے یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہیں گے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اب میں اس سے علیحدہ ہوں۔

فرح سعدیہ: فرض کریں کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم یا ہمارے اردگرد کوئی اس میں مبتلا ہے تو پھر ہم کیا کریں؟
ڈاکٹر صداقت علی: پہلے تو اس کی انگلیوں پر ناچنا چھوڑ دے۔ بعض اوقات ہم غصہ کر کے خاموش ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اپنی مرضی سے کر رہے ہیں۔ اصل میں وہ ایسا چاہ رہا ہوتا ہے ہمیں اکسا رہا ہوتا ہے کہ ہم ناراض ہو جائیں۔ تم روٹھے ہم چھوٹے والی بات ہو جائے اس میں گھر کے افراد کچھ رد عمل دیتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ردعمل ایک ہی ہے کہ مجھے تو پرواہ نہیں ہے۔ جو یہ ردعمل دے رہے ہوتے ہیں تو وہ اس کے ڈیزائنر بھی ہیں اور یہ ایڈکشن میں مبتلا شخص ہی ہوتا ہے۔

فرح سعدیہ: تو اس پر کیا کریں؟
ڈاکٹر صداقت علی: سب سے پہلے آپ اپنی مرضی سے ذہنی طور پر الگ ہو جائیں مگر ایکشن میں رہیں آپ کے دماغ کا وہ حصہ جو اس فیملی ممبر کے بارے میں جاننے کے بعد تپ جاتا ہے اسے تھوڑا ٹھنڈا رکھیں اور اس حصہ کو اجاگر کرنا شروع کریں جو سوچ بچار کرتا ہے سمجھ بوجھ کرتا ہے، نتائج پر نظر رکھتا ہے، جو ڈیزائن کرتا ہے۔

فرح سعدیہ:
کالر سے بات کرتے ہیں جن کی کال کے بعد ہم نے یہ سیریز شروع کی۔ نگینہ آپ کیسی ہیں۔
کالر: میں بالکل ٹھیک ہوں اور آپ کا بہت بہت شکریہ۔ میرا بیٹا مجھ سے وعدہ کرتا ہے اور سگریٹ چھوڑ بھی دیتا ہے۔ مجھے اس نے ڈبی واپس کی سگریٹ کی اور پھر لائیٹر بھی واپس کر دیا، مگر ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں کہ وہ چھوڑ دے تو میں کیا کروں؟ مجھے ٹپس بتائیں؟

فرح سعدیہ: جی ہمارے ساتھ رہیں۔ ڈاکٹر صاحب نگینہ ایسی ماں ہے جس کا بیٹا 17 سال کی عمر میں سگریٹ پینا شروع ہو گیا کبھی چھوڑ دیتا ہے کبھی شروع کر دیتا ہے۔ اب وہ کیا کریں؟
ڈاکٹر صداقت علی: ان کا سٹائل دیکھیں۔ وہ سگریٹ کی ڈبی لا کر دے رہا ہے اور پھر لائیٹر لا کر دے رہا ہے اس سے ماں مطمئن ہو جاتی ہے۔ یہ چیزیں تو روزانہ ہمارے گھروں میں ہوتی ہیں۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ سگریٹ کی ڈبی لا کر آپ کر دے۔ یہ تو اوپر اوپر سے آپ کو خوش کرنے کی کوششیں ہیں۔ اصل بات کوئی اور ہے۔ ہم نہیں مانتے کہ اگر کسی کو کوئی بری عادت پڑی ہو تو وہ فوراََ اپنی قوت ارادی سے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ قوت ارادی سے کسی بری عادت کو چھوڑ دینا، ایسا صرف 4 فیصد لوگ کر سکتے ہیں اور 16 فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ڈوبتے تیرتے رہتے ہیں یعنی اگر ان کی قوت ارادی کام کرتی ہے تو تھوڑا بہتر ہو جاتے ہیں۔ قوت ارادی کم ہوتی ہے تو سست ہو جاتے ہیں۔ 80 فیصد لوگوں میں قوت ارادی نہیں ہوتی ۔