اینکر پرسن : آج ہمارے ساتھ شاملِ گفتگو ہیں ڈاکٹر صداقت علی جو بہت اچھے کاؤنسلر بھی ہیں اور میرج ایکسپرٹ بھی۔ آج بھی ان کے ساتھ بہت مفید گفتگو کی جائے گی۔ بہت ہی دلچسپ سوال یہ ہے کہ چونا لگانا زیادہ آسان ہے یا مکھن لگانا؟ تو چونا لگنے یا دھوکے سے کس طرح سے بچا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: ساری دنیا بدل گئی ہے تو ہمیں بھی بدل جانے کی ضرورت ہے۔ ان بیس سال میں اتنی تبدیلیاں آئی ہیں جتنی پچھلے سو سال میں نہیں آئی تھیں۔ تو وہ جو ہدایتیں ہیں یا عقل و دانش کی باتیں ہیں جو سو سال پہلے کام آتی تھیں وہ اب تھوڑی پڑ رہی ہیں۔ چونا لگنے کا جو کام ہے ہر طرف سے جاری ہے۔ گھر، دفتر ہر جگہ ہی چونا لگنے کا خطرہ ہے۔ ہماری کیفیت “مشتری ہوشیار باش” کی سی ہے کہ ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں جتنے چونا لگانے والے ہیں وہ کسی اصول کے مطابق یا اقدار کے مطابق نہیں چلتے۔ وہ آنکھیں بند کر کے ان گائیڈڈ میزائل کی طرح چلتے ہیں۔ اگر ہم کچھ نہ کریں آنکھیں بند کر کے پڑے رہیں اور کوئی احتیاط نہ کریں تو یہ بات یقینی ہے کہ ہمیں چونا لگ جائے گا۔ عام طور پر تاثر یہی ہوتا ہے کہ ہمیں غیروں سے محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ چوروں اور ڈاکوؤں کا خوف دلایا جاتا ہے لیکن درحقیقت ہمیں اپنوں سے بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ کوئی اجنبی ہی نقصان پہنچائے گا یہ ضروری نہیں اپنے بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خبریں سنیں۔ کل مرضی کے خلاف شادی کرنے پر ایک ماں نے بیٹی کو جلا دیا تھا۔ یہ کوئی اِکا دُکا واقعات نہیں۔ پچھلے دو ماہ میں بہت تواتر سے یہ واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔

اینکر پرسن: یہ بہت افسوسناک واقعات ہیں جو پچھلے دو مہینے میں پیش آئے ہیں۔ ایک وہ جس میں ماں نے بھگانے میں مدد کی تھی اور ایک جس میں ماسڑ صاحب اچھے خاصے عمر کے تھے اور اس سے شادی سے جوان لڑکی نے انکار کر دیا تو اس کو بھی مار دیا گیا۔

ڈاکٹر صداقت علی: ہم یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی بدی کی قوت اس فرد کے اندر کارفرما ہے جو یہ غلط کام کر دیا ہے۔ دراصل یہ ذہنی بیماریاں ہوتی ہیں جو فرد کو برائی کی طرف راغب کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ منشیات ہے، لالچ ہے یا لوگوں کی تربیت کا فقدان ہے۔ لوگ کسی قاعدے کو نہیں سیکھتے۔ اکثر کوئی غلط کام اچانک سرزد ہو جاتے ہیں۔ پہلے کوئی ایک کام غلط کرتے ہیں پھر اس کو نبھانے کے لیے دوسرا غلط کام کرتے ہیں اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے باہر سے نہیں آتے یہ آپ کے اردگرد کے لوگ ہوتے ہیں جو یہ کام کرتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ خود ہم اپنی حفاظت کرنا کیسے سیکھیں؟ بنیادی بات ہے کہ میری چالیس سال کام کی تاریخ میں میں نے بہت کچھ دیکھا۔ اچھا، برا، تکلیف دہ مگر کچھ باتیں عقل کی بھی سیکھیں۔ کچھ نہ کچھ دنیا کی سمجھ آنےلگی۔ کچھ پکا پتہ چلنا شروع ہو گیا کہ یہ یوں ہی ہے۔ جیسے پہلے وقتوں میں کہا جاتا تھا کہ کر بھلا سو ہو بھلا یا ایمانداری بہترین حکمت عملی ہے۔ لیکن یاد رکھیں ایمانداری آپ کریں گے لیکن دنیا میں سب اس پر عمل کرتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے۔ چونکہ دنیا میں دوسرے لوگ فاؤل کرتے ہیں تو آپ کی آنکھ میں پہچان ہونی چاہیئے کہ کوئی میلوں دور سے بھی اگر بری نیت سے چلا آ رہا ہو تو آپ کو اس کی پہچان ہونی چاہیئے اور بر وقت تیاری کر کے رکھیں تاکہ کوئی آپ کو دھوکہ نہ دے۔ ہمارے اردگرد بھی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو ہمیں دھوکہ دیتی ہیں۔ مثلاً کوئی پراڈکٹ ہمیں نہیں چاہیئے پھر بھی ہمیں مجبور کیا جا سکتا ہے کہ ہم وہ خرید لیں۔

اینکر پرسن: جی! یہ بہت اہم بات ہے جس میں ان ڈائریکٹ چونا لگایا جاتا ہے۔ تھوڑا سا ہمیں تشہیر کے بارے میں بتائیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: آپ نے دیکھا ہے کہ اشتہار کے پس منظر میں چیزوں کو کتنا خوبصورت کر کے دکھایا جاتا ہے۔ صابن بیچنا ہے تو اس کے پیچھے موتیوں کی مالا، ریشمی کپڑے اور خوبصورت ماڈل ایک طرح سے تو چونا لگانے کی بات ہو رہی ہے لیکن آپ کو اتنی سمجھ ہونی چاہیئے کہ آپ درست انتخاب کر سکیں۔ اس طرح آپ دیکھیں کہ غلط چیزوں کو بڑھاوا دیا جاتا ہے جیسے کریڈٹ کارڈ والے کبھی نہیں چاہتے کہ فُل پیمنٹ کی جائے وہ ہمیشہ آپ کو ہاف پے منٹ کے لیے کہیں گے۔ اس کی سہولت تو ہوتی ہے لیکن مہینے بعد جب بل آتا ہے تو آپ حیران رہ جاتے ہیں۔ پھر وہ آپ سے کہتے ہیں کہ پانچ یا دس فیصد ادائیگی کر دیں اور اس طرح آپ پھنستے چلے جاتے ہیں۔ سود کے دباؤ میں جب آپ آ جاتے ہیں تو آپ زومبی بن جاتے ہیں اور انگلیوں کے اشارے پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح صرف باہر کے لوگ نہیں گھر کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف اپنوں کو اہمیت نہ دیں بلکہ ان لوگوں کو بھی اہمیت دیں جو آپ کے ساتھ کام کرتے ہیں یا آپ کے لیے کام کرتے ہیں۔ مچھلی بے شمار پانی پیتی ہے ضرورت اس کو پانی کی نہیں ہوتی وہ پانی پی کر نکال دیتی ہے اس میں سے آکسیجن حاصل کر لیتی ہے۔ ہم بھی بے شمار لوگوں سے ملتے ہیں لیکن ان میں سے ہمیں اچھے برے کی پہچان ہونی چاہیئے اور نقصان دہ لوگوں کو اپنی زندگی سے نکال دینا چاہیئے۔ منتشر کر دینا چاہیئے اور اچھے لوگوں کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہییے۔

اینکر پرسن: دوستوں میں تو یہ چناؤ ممکن ہے۔ لیکن خاندان کے افراد کے لیے یہ کیسے ممکن ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دور کے رشتے داروں میں بھی آپ یہ کر سکتے ہیں لیکن اہل خانہ کے معاملے میں اگر آپ محتاط ہو جائیں، ہوشیار باش ہو جائیں۔ اگر کوئی آپ کو مکھن لگائے تو ہوشیار ہو جائیں کہ یہاں کوئی سلپری کام ہے۔ اگر آپ ایک ناجائز بات نہ مانیں تو آپ کامیاب ہوں گے۔ اگر آپ کا تین سال کا بچہ زمین پر ٹانگیں مار کر بات منوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو آپ اُس کے اس رویے کو تقویت دے رہے ہیں۔ جس چیز کو آپ تقویت دیں گے وہ چیز آپ خود بڑھا رہے ہیں۔ اگر آپ مستحکم ہیں جو غلط ہے اس کو قبول نہ کریں اور صحیح کو قبول کریں اور تقویت دیں۔ جب کوئی اچھا سلوک کرتا ہے تو اس کو پھر آپ انعام دیں، آپ سب کو انعام دینے کے پابند نہیں ہیں، اپنے اہل خانہ میں سے بھی آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کون آپ کی زندگی کو اچھا بنا رہا ہے۔ دیکھیں ہمیں زندگی سے پیار ہوتا ہے پر زندگی کی ہر چیز سے پیار نہیں ہوتا، ہمیں لوگوں سے پیار ہوتا ہے لیکن سب لوگوں سے پیار نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے آپ سے پیار ہوتا ہے لیکن اپنے ہر پہلو سے پیار نہیں ہو سکتا۔ ہماری آپ کی دنیا میں کوئی تاریک پہلو بھی ہوتا ہے۔ وہاں چراغاں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنکھیں موند کر پڑے رہیں گے تو خرابیاں بڑھتی رہیں گی۔ خود فریبی سے نکلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اینکر پرسن: ہمارے ساتھ ہی بُرا کیوں ہوتا ہے؟ ہمارے ساتھ کے لوگوں کے ساتھ کیوں بُرا نہیں ہوتا؟

ڈاکٹر صداقت علی: اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ مجھے ہی کیوں پروموشن نہیں ملتی؟ میں ہی کیوں ترقی نہیں کر رہا؟ میری ہی زمین پر قبضہ کیوں ہو جاتا ہے؟ میرے ہی بہن بھائی مجھے کیوں تنگ کرتے ہیں؟ میرے ہی کرایہ دار مکان خالی کیوں نہیں کرتے؟ میرے ساتھ ہی زیادتی کیوں ہوتی ہے؟ دراصل ہمارے اندر ہی کوئی مسئلہ ایسا ہوتا ہے۔ اگرچہ ہم یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم غلط نہیں کر رہے۔ ہم بہت نائس آدمی ہیں۔ لیکن بعض اوقات ایسی غلطیاں کر رہے ہوتے ہیں جو سائنسی طور پر غلطیاں ہیں لیکن ان کو بہت اچھا سمجھا جا رہا ہوتا ہے تو ایک کڑوا گھونٹ اگر ہم پی لیں یا ایک خنجر اپنی طرف بھی ہم گھونپ لیں۔ سچائی کا جو ہمیں یہ بتائے کہ دیکھو تم لوگوں کے ساتھ جو کرتے ہو وہ اس کے نتیجے میں یہ کرتے ہیں۔ درحقیقت ہم لوگوں کو خود teach کر سکتے ہیں کہ تم ہمارے ساتھ کیسا سلوک کرو۔ ہم لوگوں کو بتا سکتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ آپ نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہو گا کہ وہ کہیں بیٹھ کر دُکھ بھری کہانی سنا رہے ہوں گے کہ دیکھو اس نے میرے ساتھ یہ برا سلوک کیا اور وہ بُرا کیا اور پھر کہتا ہے کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ تو ہم کہتے ہیں کہ دیکھو تمہارے ساتھ ہی بُرا ہو گا کیوں کہ تمہارے اندر ایک چیز ہے۔ اس پر وہ اور بھی چراغ پا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کچھ نہیں ہو سکتا جو سچ کو بالکل سننا نہیں چاہتے۔ ہم خود بھی زندگی میں بہت غلطیاں کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی قدر نہیں کرتے جو ہمارے حقیقی خیر خواہ ہیں اور ان لوگوں کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں۔

اینکر پرسن: کیسے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی فیملی اور اردگرد کے لوگ آپ کے خیر خواہ ہیں یا پھر وہ ایسے ہی آپ کو چونا لگا رہے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سیکھنے کے تیار رہیئے۔ اگر ہم یہ سوچیں گے کہ ہمیں سب پتہ ہے تو ہم ڈوب جائیں گے۔ سیکھنے کے لیے تیار ہیں۔ سیکھنے میں صرف یہ نہیں کہ ہم کھانا پکانا سیکھتے ہیں یاگانا گان، ڈرائیو کرنا، کام کرنا ہی نہیں بلکہ ہم تعلقات کو بہتر بنانا بھی سیکھ سکتے ہیں۔ یہ بھی باقاعدہ جاننے کی ضرورت ہے کہ دوسرے بندے کو اندر سے کون سی چیز تحریک دیتی ہے۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا۔ تو پھر اس سے محتاط رہنا ہے۔ یا کوئی کہتا ہے کہ میں خود غرض ہوں، دھمکیاں دینے والے لوگ یا پھر ایسے لوگ جو آپ کو بہت ستا کر تنگ کر کے کوئی فائدہ حاصل کرتے ہوں۔ بہت دفعہ چھوٹے موٹے جھگڑے ہو جاتے ہیں لیکن ہم ہی کیوں جا کر ماحول کو بہتر بنانے کے لیے معافی مانگتے ہیں۔ تو یہ چیز فعال نہیں ہے۔ اگر آپ نے غلطی کی ہے تو کھل کر معذرت کریں لیکن اگر آپ نے غلطی نہیں کی تو پھر معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وقتی امن کی خاطر ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔ کیونکہ وقتی امن میدانِ جنگ میں جا کر ختم ہوتا ہے۔ کچھ لوگ آ کر ہم پر رعب ڈالنا شروع کر دیتے ہیں، شور مچاتے ہیں اور ہم ان کی خواہش پوری کرتے ہیں تو ہم ان کو یہ سکھا رہے ہوتے ہیں کہ شور مچانا ہی بہترین عمل ہے۔ علم ہونا چاہیئے۔ علم ہی طاقت ہے۔ علم حاصل کرنا بہت آسان ہے۔ کوئی سوال ہو آپ گوگل پر سوال لکھ کر جواب حاصل کر سکتے ہیں کہ یہ کوئی دھوکہ تو نہیں ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ آپ کو علم ہونا چاہیئے کہ لوگ کس طرح آپ کو جذباتی طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لوگ آپ سے قرضہ مانگنے آ جائیں گے اور پھر واپس نہیں دیں گے۔ آپ سے آپ کی چیزیں مانگیں گے اور تنگ کریں گے تو آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ ان کو کیا جواب دینا ہے۔

اینکر پرسن: واپس مانگنا مشکل بھی ہو جاتا ہے ناں۔ یہ لحاظ انگریزوں میں نہیں ہے، وہ لوگ ایسا کرتے بھی نہیں ہیں۔
ڈاکٹر صداقت علی: اپنی چیزیں کھو کر واپس مانگتے رہنا اس کو ہم ایڈکشن بھی کہتے ہیں۔ Addiction میں بھی ہم اچھے بھلے ہوتے ہیں لیکن اپنے موڈ مزاج کو کسی چیز جیسے سگریٹ یا کسی اور چیز کے حوالے کر دیتے ہیں۔ جواء یا ورزش کے تابع کر دیتے ہیں اور بعض اوقات اچھے کام بھی ہم Addiction کے طور پر کر رہے ہوتے ہیں تو ہمارے دماغ میں جب dopamine ریلیز ہوتا ہے تو ہمیں جوش بھری خوشی محسوس ہوتی ہے۔ جب بھی ہماری زندگی میں خوشی اور جوش کا موقع ہو گا تو ہم خوش ہوں گے ناں۔ لیکن جب اسی خوشی کو ہم سگریٹ یانشہ آور چیز کے سپرد کر دیتے ہیں، ان پر انحصار کرتے ہیں وہی چیز جو ہماری اپنی تھی وہ کسی کو دے دی اب اس پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ ہے Addiction بہت سے لوگ ایسے تعلقات پال لیتے ہیں جس میں اس قسم کا استحصال پایا جاتا ہے۔ اس کو ذرا سمجھنا چاہیئے۔ اتنا کافی نہیں کہ آپ زندگی میں ترقی اور کامیابیاں حاصل کریں بلکہ ضروری یہ ہے کہ آپ ان کامیابیوں اور ثمرات کا تحفظ کر سکیں۔ اس کے لیے نالج، تحریک، مہارت، اچھے لوگوں میں گھرے رہنا اور کوئی گرو رکھنا اور اپنے ماحول Space اور چیزوں کو استعمال کرنا جیسے آج کل جدید ٹیکنالوجی آ گئی ہے تو اس سے دور مت بھاگیں۔ اس کا اچھا استعمال کریں۔ موبائل یا انٹرنیٹ کو Addictive نہ بنائیں بلکہ اس کے ثمرات سے فائدہ اُٹھائیں۔ آج کل ان لائن ہر چیز کا پتہ چل جاتا ہے ۔جیسے ثمرات ہیں ایسی چیزوں کے، آج کل روزانہ ٹی وی پر ایسی چیزیں آتی ہیں جو سبق آموز ہو سکتی ہیں لیکن آپ کہتے ہیں کہ یہ میرے گھر میں نہیں ہو سکتا۔ اگر کہیں کوئی نقصان نظر آ رہا ہے تو یہ نہ سوچیں کہ جو بجلی کہیں گری ہے یہ میرے گھر میں نہیں گر سکتی۔ لہٰذا ان سب چیزوں سے فائدہ اُٹھائیں۔