ڈاکٹر صداقت علی: یہ میں آپ کے سوال سے ہنسا ہوں لیکن میں آپ کو بتاؤں ریسرچ جو بتا رہی ہے کہ طلاق کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی کو یہ خیال ہو کہ معاشرے میں بہت طلاق ہو رہی ہے۔

ٖفرح سعدیہ: اچھا! کہ قابل قبول ہے۔ کہ کوئی نہیں خیر ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اگر یہ خیال یا ایسے دو تین خیال ہیں کہ طلاق کوئی اتنی بڑی بات نہیں معاشرے میں اب عام بات ہے۔

فرح: اچھا ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صداقت: دوسری بات یہ کہ ہمارے خاندان میں بھی ہو رہی ہے۔

فرح: اچھا۔

ڈاکٹر صداقت علی: اگر ہمارے خاندان میں طلاق بالکل نہ ہوئی ہو قرب وجوار میں قریب یا دور بھی تو پھر طلاق کے امکان بالکل نہیں ہوتے۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: طلاق۔۔۔

فرح سعدیہ: وائرس سے پھیلنے والی بیماری کی طرح ہے یہ؟

ڈاکٹر صداقت علی: یعنی یہ سوچ کہ طلاق ہو سکتی ہے یہ امقانات ہیں۔ اگر کسی لڑکی کی دو تین سہیلیوں کو طلاق ہو جائے تو اُس کا بھی دل چاہنے لگتا ہے۔

فرح سعدیہ: دل چاہنے لگتا ہے۔۔؟

ڈاکٹر صداقت: جی طلاق کے لیے۔۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ طلاق کا خیال میاں بیوی کی زندگی میں آتا ہے۔

فرح سعدیہ: ہر ایک کی؟

ڈاکٹر صداقت علی: ہر ایک کی زندگی میں آتا ہے۔ اِس کا تعلق ماحولیاتی عوامل سے اتنا نہیں ہوتا۔
یہ سوچ کا ایک بیچ ہے اور اس پر طلاق کا خیال آتا ہے اور جن صورتوں میں لوگوں کے ذہن میں طلاق کا خیال آتا ہے تو بہت سے لوگ طلاق میں نہیں جاتے۔کچھ لوگ طلاق میں چلے جاتے ہیں یہ اور عوامل ہوتے ہیں۔ اِس کا حالات سے تعلق نہیں ہوتا یہ ایک رن۔وے بھی ہے یعنی جو لوگ سوچ میں جگہ جگہ سے بھاگتے ہیں وہ لوگ نباہ کی پالیسی پہ نہیں چلتے۔ مثلاً طلاق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ذہن میں جو مینٹل میپ ہے وہ نباہ کا نہیں ہے۔ مثلاً اگر کوئی خاتون اپنے گھر میں ملازموں کو فارغ کرتی ہے یا پھر ڈرائیور کو فارغ کرتی ہے۔ سیکورٹی گارڈ کو فارغ کرتی ہے یا کوئی شخص اپنے ماتحتوں کو فارغ کرتا ہے اور یہ رجحان بڑھتا جاتا ہے تو پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ اپنے بہن بھائیوں سے بھی دور ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ماں باپ سے بھی دور ہو جاتا ہے۔ اُس کے لیے دوری قابل قبول ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے بچوں سے بھی دور ہو سکتا ہے اور وہ اپنے خاوند یا بیوی سے بھی دور ہو سکتا ہے۔ یہ ایک سوچ کا نقطہ نظر ہے۔ جو آپ کو تھوڑے سے زیادہ کی طرف چلاتا ہے۔

فرح سعدیہ: بالکل صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: انسان کے ذہن میں جو بہت ہی زبردست صلاحیت ہے وہ یہ ہے کہ ہم جس نقطے پر جس مرکز پر کام شروع کرتے ہیں۔وہ ہماری کوشش کیے بغیر بڑھتا رہتا ہے جیسے نیوٹن کا پہلا قانون ہے نا کہ کوئی چیز ایک دفعہ حرکت میں آ جائے تو پھر وہ رکتی نہیں جب تک اُسے کوئی روک نا دے۔ اسی طرح ہمارے ذہن میں جو کوئی خیال آ جاتا ہے تو پھر وہ رکتا نہیں چاہے وہ اچھا ہو چاہے بُرا ہو۔ وہ رکتا نہیں وہ چلتا رہتا ہے۔ جب تک اُسے کوئی روک نہیں دیتا۔

فرح سعدیہ: آپ کی اِس فلسفی کو اگر اُٹھا کر میں روگ والے فلسفے کے اوپر ملا دوں تو صورت حال کچھ عجیب سی نہیں لگتی۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments