فرح سعدیہ: مطلب پھر کیسے یہ ایک سلسلہ ہے آپ کو دکھ بھی بڑے عرصے سے ہے۔ روکیں گے کیسے؟ جو آپ نے کہا۔ طریقے سیکھیں۔ ہمیں اُس دکھ کی کیفیت سے، اپنی خود ترسی میں سے، ایک خود اذیتی میں سے نکلنے میں وہ کون سے طریقے ہیں جو سیکھنے سے مدد ملے گئی۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیے صدیوں سے یہ خیال رہا ہے کہ ہمیں اپنے لیے نہیں دوسروں کے لیے جینا چاہیے۔

فرح سعدیہ: بالکل۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ چیز روگ کو جنم دیتی ہے اور یہ حرکت میں آیا ہوا ہے ایک فارمولا کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ ہمیں دوسروں کے بارے میں اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے خود غرض کے لفظ سے اور وہ نرگیست کی جو بات آتی ہے اُس سے لوگ کتراتے ہیں لیکن اگر ہم بدلنا چاہتے ہیں تو ہم کہتے ہیں do the opposite جب بھی ہم بدلنا چاہتے ہیں کسی چیز کے حوالے سے تو وہ کہتے ہیں کہ do anything other than that particular thing جیسے ہم شراب چھوڑنا چاہتے ہیں تو پھر شراب کے علاوہ جو بھی دنیا میں کام ہے وہ کرنا شروع کر دیں۔ اگر drugs تو جو بھی drugs کے علاوہ کام ہے۔ اگر وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو جو بھی اُس کے علاوہ کام ہے۔

فرح سعدیہ: صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: اگر روگ سے بدلنا چاہتے ہیں تو پھر الٹا کریں جو پہلے سے کر رہے ہیں جو کسی کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑے ہوئے ہیں تو اپنے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائیں۔ یعنی اپنے لیے بہتری کے کام کرنے شروع کر دیں۔ ہر کام کا الٹا کرنا شروع کر دیں۔ جس سے محبت کرنی ہے نفرت اور جس سے نفرت کرنی محبت یہ جو سیکھنے کا کام ہے تحریک اِسے ہی کہتے ہیں۔ ایک تحریک کا مطلب ہے کسی چیز کو متحرک کرنا اور پھر اُس کے ساتھ ساتھ آپ کو وہ نسخے چاہیئے۔ آپ کو علم چاہیئے۔ وہ آپ کو مہارت چاہیئے۔

فرح سعدیہ: صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: پھر اُس مہارت کی مشق چاہیئے۔

فرح سعدیہ: تھوڑا سکھائیں نہ وہ مہارتیں کیا ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: اچھا یہ جو مہارتیں ہوتی ہیں جو آپ کو اپنی پرواہ کرنا سکھاتی ہیں۔ اچھا علم وہ ہے جو مہارت والا ہے۔ علم اور مہارت یہ دو بہن بھائی ہیں۔ اِن دونوں کے ساتھ چلنا ہو گا۔ سب سے پہلے علم ہونا چاہیئے کہ جب ہم اپنا خیال رکھتے ہیں تو یہ کسی طرح سے کوئی گناہ کی بات نہیں ہوتی۔

فرح سعدیہ: صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: کوئی بڑی بات نہیں ہوتی چاہے کہ ہم اُس دوران کسی کو دکھ دیں۔ جب ہم اپنا خیال کرتے ہیں تو ہم بھی لوگ ہوتے ہیں۔ہم بھی انسان ہوتے ہیں۔

فرح سعدیہ: ہمارا بھی حق ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: ہمارا بھی حق ہوتا ہے۔ اس میں ہم کسی کا حق مار کے اپنے آپ کو نہیں دیتے ہم جب اپنا حق اپنے آپ کو دیتے ہیں تو اِس سے بات شروع ہوتی ہے۔ تو جب ہمیں علم ہو جاتا ہے کہ ایسا کرنا کوئی گناہ کی بات نہیں ہوتی۔ ایسا کرنا کوئی بُری بات نہیں ہوتی۔ اپنا خیال رکھنا ہمیں مضبوط کرتا ہے ہمیں مضبوط بناتی ہے، توانا بناتی ہے۔ پھر ہم دوسروں کی مدد بروقت کر سکتے ہیں گھبرائے بغیر۔ panic میں آئے بغیر ہم مدد کر سکتے ہیں۔

فرح سعدیہ: صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: پھر یہ جو ہم مشقیں کہتے ہیں نا اِس میں ایک چیز ہوتی ہے جیسے ہم ڈیلی بریٹ پریکٹس کہتے ہیں۔ جو ہم کسی ماہر کی نگرانی میں کرتے ہیں۔

فرح سعدیہ: صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: ہم اُسے کہتے ہیں دیکھو میں یہ کر رہا ہوں اور تم دیکھو اور مجھے بتاؤ کہ میں یہ ٹھیک کر رہا ہوں یا میں یہ ٹھیک نہیں کر رہا ہوں۔

ٖفرح سعدیہ: صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: بہت چھوٹی چھوٹی کمزوریاں ہوتی ہیں جس سے بڑا فرق پڑتا ہے جیسے کہ کوئی فاسٹ باؤلر ہے تو اُس کا کوچ اُسے دیکھے گا اور وہ باؤلنگ کرے گا اور اُسے بتائے گا کہ کہاں ایک چھوٹی سی سپلٹ سیکنڈ میں تم غلطی کرتے ہو۔ کیسے تم رائز کرتے ہو بال پھینکنے سے پہلے اور بعد کیسے تم فال کرتے ہو غلطی اِس میں ہے اور بال پھینکتے ہوئے تم سانس کیسے لیتے ہو غلطی اِس میں کہاں ہے۔ اسی طرح جب ہم تعلقات کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو رول پلے کر کے ہم دیکھتے ہیں۔ ایک فرضی رشتہ دار بنا دیتے ہیں کسی کا جو اداکاری کا ماہر ہوتا ہے اور وہ بتاتا ہے پھر اُس بندے کو کہ کیسے ری ایکٹ کرنا ہے اور کیسے پرو۔ایکٹ کرنا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments