فرح سعدیہ: صبح بخیر جناب آج میں آپ سے پوچھا ہے کہ معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟ مرد، عورت یا ساس۔ ان تینوں پر آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ اس کے علاوہ بھی رائے بھیج رہے ہیں مثلا اسلام سے دوری۔ آپ ان ہی تینوں میں ڈھونڈیں کہ آپ کے خیال میں مرد زیادہ ذمہ دار ہے، عورت زیادہ ذمہ دار ہے یا ساس زیادہ ذمہ دار ہے۔ یہ آپ نے آج بات کرنی ہے اسی کے اوپر ہم غور کر رہے ہیں۔ آپ سپیس۔ایم۔ڈبلیو۔ایف۔ ٹائپ کر کے اپنی رائے 2886 پر بھیج سکتے ہیں۔ میرے ساتھ ہیں ڈاکٹر صداقت ولنگ ویز کے سی۔ای۔او ہم بات کر رہے ہیں جو ہمیں مختلف دکھ، روگ، غم اپنوں سے مل جاتے ہیں تو پھر ہمیں کیسے نمٹنا ہے ان کے ساتھ۔ کیسے جان چھڑانی ہے اُن سے؟ کیسے خوش زندگی بسر کرنی ہے؟ تو ڈاکٹر صاحب آپ نے بتایا کہ اس کے لیے آپ کو مدد کی ضرورت پڑے گی۔ آپ کو کچھ چیزیں سیکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ کچھ چیزیں دیکھ کر آپ سیکھیں گے کچھ طریقے آپ کو سیکھنے پڑیں گے۔ کیا جو لوگ ابھی آپ کو دیکھ رہے ہیں اور فوری طور پر آپ تک نہیں پہنچ سکتے یا کسی ایسے ادارے تک انہیں کیا کرنا چاہیئے؟ کہاں سے شروع کرنا چاہیئے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیے نقطہء آغاز جو ہے وہ اِس طرح ہو سکتا ہے کہ اِن لوگوں کے ساتھ رابطہ کریں جنہوں نے اپنی زندگی میں روگ پہ قابو پایا اور بعد میں بلندیوں کو چھوا ایسے لوگ آپ کے اردگرد بہت ہوں گے۔ جو ماضی میں کسی مصیبت میں وہ مبتلا تھے روگ لگا ہوا تھا دکھوں بھری زندگی تھی لیکن انہوں نے اُس بیر یر کو توڑ کر اپنی زندگی کو بہترین بنا لیا تو ایسے لوگوں کی صحبت میں قربت میں جانے سے آپ کو اُن کی عادتیں سمجھنے اور اپنانے کا موقع ملے گا اور اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ اُس نے کسی معاملے میں کیسے کامیابی حاصل کی تو وہ دل بھر کے یہ کہانی سنانا چاہے گا۔

فرح سعدیہ:صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: تو ایک تو یہ آپ کو تلاش کرنا چاہیئے پھر اپنے اردگرد کوئی سیانا آدمی کوئی ایسا شخص جو assertive ہو جو حق سچ کی بات کر سکے۔ اُن لوگوں کے پاس جانے سے گریز کریں جو لوگ آپ کی مرضی کی بات کرتے ہیں حق سچ بات نہیں کرتے۔ یعنی ایسے لوگ جو ہے وہ بہت کاری چوٹ لگاتے ہیں کاری ضرب لگاتے ہیں جو آپ کے مطلب کی بات کر دیتے ہیں۔

فرح سعدیہ: ہاں جو کہیں۔ ہاں ہاں آپ ہی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ آپ کو صحیح آئینہ نہ دکھا سکیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: وہ آپ کو بہت زیادہ ڈینائل میں دوبارہ دھکیل دیتے ہیں دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو سچے دوست ہوں ہواری نہ ہو اور اگر آپ کے پاس ایسے سچے دوست نہ ہوں تو آپ انہیں بنا سکتے ہیں یعنی اپنے جو پہلے سے موجود دوست ہیں جن میں سچ کہنے کی طاقت نہیں ہے تو آپ اُن سے خود بات کر سکتے ہیں۔ آپ انہیں یہ طاقت دے سکتے ہیں کہ میں آپ سے حق سچ کی بات کی توقع رکھتا ہوں آپ یہ فکر نہ کریں کہ میں ناراض ہو جاؤں گا یا مجھے بُرا لگے گا۔ آپ مجھے سچی سچی بات بتائیں میں یہ راستہ اختیار کرنا چاہتا ہوں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments