فرح سعدیہ: میرے ساتھ ہیں ڈاکٹر صداقت علی ولنگ ویز کے سی۔ای۔او۔
ولنگ ویز ایک ایسا ادارہ ہے جہاں ایڈکشن کے مریضوں کا کامیاب علاج کیا جاتا ہے۔ ایڈکشن کے ساتھ ساتھ مختلف ذہنی اور نفیساتی امراض کا علاج اور مریضوں کی کاؤنسلنگ بھی کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر صداقت علی سے آپ کی ملاقات ہر جمعرات کو ہوتی ہے۔ ہماری آج کی گفتگو کا موضوع ہے دکھ۔ ایسی تکلیفیں جس میں ہمارا کوئی تعلق نہیں ہوتا ہم ذمہ دار نہیں ہوتے، ہمارا کوئی قصور نہیں ہوتا لیکن وہ ہمیں ملِ جاتے ہیں ایک سوغات کی طرح، ایک تحفے کی طرح اپنے کسی پیارے سے۔ اب دکھوں کی اِس گٹھڑی کا ہم نے کیا کرنا ہے اُسے کندھے پر اُٹھانی ہے یا اُسے پھینکنا ہے یا اُسے سر پر سوار کرنا ہے یا اُسے دل پر بوجھ کی طرح رکھنا ہے کیا کرنا ہے؟ کیسے اُس کے ساتھ جینا ہے؟ یہ ہمارا آج کا موضوع ہے۔ آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو آپ بات کر سکتے ہیں۔
اسلام وعلیکم ڈاکٹر صاحب۔

ڈاکٹر صداقت علی: وعلیکم اسلام۔

فرح سعدیہ: کیسے ہیں آپ ڈاکٹر صاحب؟

ڈاکٹر صداقت علی: الحمداﷲ جی۔

فرح: یہ جس غموں کی گٹھڑی کی میں بات کر رہی ہوں ہمیں تحفے میں مل گئی ہے اب اس کا کیا کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: جیسے ہم روگ کہتے ہیں جو ہمیں دوسروں کے ساتھ معاملات کو طے کرنے میں ملتا ہے۔ یہ اس وقت ملتا ہے جب دوسرے مدد نہیں چاہتے اور ہم زبردستی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے پھنسے رہنا چاہتے ہیں کیونکہ اُن کو اِس میں مزہ بھی آتا ہے۔ ہم ایسے حالات میں ماں باپ کی حیثیت سے یا بیوی یا خاوند کی حیثیت سے یا کسی دوست کی حیثیت سے وہ کام کرنے لگتے ہیں جو کہ دوسرا نہیں چاہتا۔ جب ہم اپنی حدوں کو نہیں پہنچانتے تو روگ لگ جاتا ہے۔ اب ایک دفعہ روگ لگ جائے تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں پتہ ہو کہ روگ لگ گیا ہے۔ پھر ہم اپنی زبان سے دوسروں کے سامنے کم از کم اتنی دفعہ اقرار کریں کہ ہمیں ڈینائل سے نکلنے میں مدد ملے۔ ہم کسی بھی راز دار کو جس سے ہم رازداری کی باتیں کرتے ہیں یا کسی بھی دوست کو ہم بارہا کہیں کہ یہ چیز جو ہے یا معاملہ ہے اس سے ہمیں لگتا ہے کہ روگ لگ کیا ہے۔

فرح: صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: اچھا اپنی ذات کے بارے میں یہ کہنا کہ روگ لگ گیا ہے کافی مشکل ہوتا ہے۔ میرا کئی کلائنٹ سے واسطہ پڑتا ہے جن کی زندگی بہت زیادہ دکھوں میں گھری ہوتی ہے تو جب میں کہتا ہوں کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو روگ لگ گیا ہے تو وہ کہتے ہیں نہیں نہیں ایسی تو کوئی خاص بات نہیں ابھی تو کچھ ایسا نہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ کہیں ا یسا ہو نہ جائے۔

فرح سعدیہ: ہاں جی۔

ڈاکٹر صداقت علی: ابھی تو کچھ نہیں بگڑا۔ ڈولے بیرا دا ہالے کُج نہیں گیا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ڈینائل ہے۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے۔ کسی چیز کو تسلیم نہ کرنا۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ تسلیم نہ کرنا۔

فرح سعدیہ: بہادری دکھاتے رہنا۔ نہیں جی ہمیں نہیں فرق پڑتا۔ اسے برداشت کرنے کی تو بہت ہمت ہے مجھ میں۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ جو روگ ہے یہ کیفیت کا نام ہے یہ بیماری نہیں ہے لیکن اِس سے آگے بیماریاں لگ سکتی ہیں۔

ٖفرح: ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ ایک کیفیت کا نام ہے یہ ایک جنون کا نام ہے جس میں ہمیں مزہ آتا ہے اندر ہی اندر مزہ آتا ہے۔ مظلوم ہونے کا بھی ایک اپنا ہی مزہ ہے ایک اپنا ہی لطف ہے۔