اینکر: لاہور کے قریب کھڈیاں میں جعلی پیر جن نکالنے کے نام پر لڑکی کی جان لینے کے درپے ہو گیا۔ کامونکی کی لڑکی رشتہ ہونے پر دم کروانے کے لیے بہن کو لائی۔ جعلی عامل نے جن کا سایہ بتایا اور تشدد شروع کر دیا بال کھینچے، ڈنڈے مارے، زمین پر ناک رگڑوائی۔ لڑکی کی چینخ و پکار، منت سماجت بھی کسی کام نہ آئی۔ لڑکی کی حالت غیر ہوئی تو جعلی عامل بھاگ گیا۔ دنیا نیوز نے آواز اٹھائی تو پولیس بھی حرکت میں آئی اور جعلی عامل کو حراست میں لے لیا۔ عامل نے تسلیم کیا کہ لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا جو کسی صورت جائز نہیں۔

عامل: اسلام میں یہ چیزیں جائز نہیں لیکن جب لڑکی نے بدتمیزی کی، جب ہم نے لڑکی سے کہا کہ ہاتھ پکڑو تو لڑکی نے گالی گلوچ شروع کر دیا تھا اور اس نے جو بدتمیزی کی وہ تو دکھائی نہیں گئی۔

اینکر: ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیئے اور نہ ہونا چاہیئے، تشدد میں شامل جعلی عامل کے بھائی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ایک انسان کے ساتھ جو ظلم آپ چاہیں کریں لیکن دین اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے اور نفسیات کیا کہتی ہے، ان دونوں معاملات پر بات کرنے کے لیے ہمارے ساتھ موجود ہوں گے معروف مفتی عبدالقوی صاحب جبکہ سٹوڈیو میں ہمارے ساتھ ہیں ڈاکٹر صداقت علی صاحب۔ مفتی صاحب بہت بہت شکریہ آ پ کے وقت کا۔ جعلی پیروں کے متعلق لوگ جانتے ہیں اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے لیکن پھر بھی لوگ ان کے جال میں الجھ جاتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے؟

مفتی عبدالقوی: پہلے تو میں یہ عرض کروں گا کہ ان کے لیے جعلی پیر کا لفظ استعمال نہ کیا جائے۔ پیر ایک مقدس لفظ ہے اور برصغیر میں جو اسلام ہے اسلام کو اللہ نے جو نعمتیں دی ہوئی ہے پیروں اور مشائخ کے حوالے سے ہیں۔ بہرحال جعلی پیر بدنصیب نے جو کردار ادا کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ قرآن وسنت سے تو میں بعد میں راہنمائی لوں گا پہلے خود انسانیت کی تناظر میں دیکھتا ہوں کہ اس گدھے عامل کو پتا ہے کہ انسانیت کے اندر اللہ نے سب سے زیادہ احترام کس کو دیا ہے۔ اس خوش نصیب کو دیا جس کے سینے میں اللہ کا قرآن موجود ہے جس کے سینے کے اندر کلمہ طیبہ کا نور موجود ہے اور وہ بچی جو بچاری معصوم ہونے کے حوالے سے جب اس کے پاس آئی اور اگر اس کے اوپر کوئی اثرات تھے۔ ایک حقیقت ہے کہ جنات ہیں اللہ کا قرآن بھی ہمیں بتاتا ہے۔ احادیث میں بھی ہم دیکھتے ہیں میرے نبیؐ بھی جنات کے ہاں خطاب کرنا ان کو وعظ ونصیحت کرنا احادیث مقدس میں آتا ہے کہ سات جگہ پر حضورؐ نے جنات کو وعظ و نصیحت کی جس طرح انسانوں کو وعظ ونصیحت کی۔ آج کا مشاہدہ بھی یہ بتاتا ہے بہر حال یہ اللہ کی مخلوق ہے۔ لیکن اللہ نے انسان کو جو شرف بخشا ہے کہ موجود ملائکہ اولاد آدم ہے۔ موجود جنات جو ہیں اولاد آدم ہے۔ آج کا جاہل عامل جو ہے ان کو جنات کو نکالنے کے لیے وہ انداز اختیار کر رہا ہے، جو غیر اخلاقی اور غیر انسانی بھی ہے جس کے اندر ظلم جس کے اندر تشدد ہے۔ جس کے اندر انسانیت کی احترام کے اندر بےاحترامی کی کیفیت آ رہی ہے، تو یقیناً جب عقل سلیم ان چیزوں کو نہیں مانتی تو یقیناً اللہ کے قرآن کے مطابق بھی نہیں احادیث مقدس کے مطابق بھی نہیں۔ قرآن مجید کی آیات موجود ہیں۔ احادیث کے اندر جنات کے بارے میں حضور نے جو کچھ فرمایا وہ کتب احادیث کے اندر موجود ہے۔ میرا خود تعلق خانقاں شریف سے ہے۔ الحمداللہ بہت سارے جنات کے معاملات ہوتے ہیں تو ہم قرآنی آیات سے علاج کرتے ہیں۔ احادیث کو سامنے رکھ کر جنات کے اخراج کا معاملہ ہوتا ہے۔ چونکہ غلبہ اللہ نے انسان کو دیا ہے اولاد آدم کو دیا ہے سب شفا اللہ کے قرآن کے اندر موجود ہے۔ حضورؐکے فرامین کے اندر موجود ہے۔ اسماء حسنہ کے اندر موجود ہے۔ اس طرح کے جعلی عامل جب تشدد کرے گا تو میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ یہ تشدد نہ خلافت راشدہ میں تھا ،نہ ہی حضورؐ کے زمانے میں تھا اور نہ ہی اسلامی ریاستوں میں تھا۔ نہ ہی اسلامی تعلیم کے مطابق ہے یہ خالصتاً ظلم ہے، جبر ہے۔ جس کا نہ انسانیت سے تعلق ہے اور نہ اخلاقیات سے تعلق ہے اور نہ اس کا اسلام سے تعلق ہے۔

اینکر: پھر بھی مفتی صاحب ایسے لوگ معاشرے میں پروان کیسے چڑھ جاتے ہیں۔ یہ سوال ہم آپ کے سامنے رکھیں گے مگر پہلے سٹوڈیو میں موجود ماہر نفسیات ڈاکٹر صداقت صاحب سے یہ سوال کرنا چاہوں گی کہ ڈاکٹر صاحب آپ کے پاس ایسے مریض جن پر یہ شبہ کیا گیا ہو کہ ان میں آسیب کا شکار ہوں لیکن آپ کے علاج سے وہ ٹھیک ہو جاتا ہو۔ آپ نے Convince کیا ہو؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیے یہ تو عام سی بات ہے روزانہ سائیکاٹرسٹ کے پاس مریض تو آتے ہیں ہمارے پاس بھی آتے ہیں اور مریض پہلے جعلی عاملوں کے پاس جاتے ہیں۔ یہاں یہ بھی کہوں گا کہ عامل ہوتے ہی جعلی ہیں۔ اس میں کوئی سند تو ہوتی نہیں اور نہ کوئی بنیادی طریقہ سٹینڈرڈائزیشن کا نہ کوئی رجسٹریشن ہے۔ جیسے ڈاکٹر کی رجسٹریشن ہوتی ہے پہلے وہ سند یافتہ ہوتے ہیں اس کے بعد ان کو رجسٹر کیا جاتا ہے اس کے بعد ان کو کام کرنے کی باقاعدہ پروانہ دیا جاتا ہے تو یہ جتنے بھی عامل ہوتے ہیں یہ جعلی ہوتے ہیں اور ان حالات میں اگر ہم غور سے دیکھیں تو لوگ پہلے ان کے پاس جاتے ہیں اور جب بیڑہ غرق ہو جاتا ہے اور بہت برے حالات ہو جاتے ہیں تو پھر ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں یہ تو پندرہ سے بیس منٹ کا کام ہے جن نکالنا کسی کا جو کہ جن نہیں ہوتا دراصل یہ ایک مرض ہوتا ہے شیزوفرینیا کہتے ہیں اسے اور بعض اوقات بائی پولرڈس آڈر کا معاملہ ہوتا ہے بعض اوقات ہسٹیریا کا معاملہ ہوتا ہے۔ تو یہ ساری چیزیں تو دس پندرہ منٹوں میں مریض جو ہے وہ بہت بہتر ہو حالت میں آ جاتا ہے اور اہل خانہ کو پتہ چل جاتا ہے کہ اصل معاملہ جن بھوت کا ہوتا تو یہ ایک انجکشن یا دوا دینے وہ دینے سے یہ ٹھیک نہ ہوتا۔ درحقیقت جن بھوت جادو ٹونہ یہ کوئی چیز نہیں ہوتا۔ لوگ جو ہیں ان چیزوں پر بہت اعتقاد رکھتے ہیں۔ یہ نظر لگ جاتی ہے، بددعا لگ جاتی ہے۔ جو ایسی چیزیں ہوتی ہیں یہ زندگی کو کمزور کرنے والی بات ہے، زندگی کے سفر کو خراب کرنے والی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنٹفک زندگی جس کے مطابق آج کل ہم زیادہ تر زندگی گزارتے ہیں۔ سیل فون کا استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ الیکٹرانک چینلز ہیں۔ سوشل میڈیا ہے۔ گاڑیاں ہیں، ہوائی جہاز ہیں۔ تو اس دور میں جب ہم ایک ساتھ یہ سب کچھ کر رہے ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ ایسے ضعیف الاعتقاد جو عقیدے ہوتے ہیں وہ ہماری زندگی کو ڈسٹرب کرتے ہیں۔

اینکر: ڈاکٹر صاحب یہاں opinion کا تھوڑا clash ہے۔ مفتی صاحب کہہ رہے ہیں کہ جنات وجود رکھتے ہیں۔ سورۃ جن قرآن پاک میں ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ جادو، ٹونہ یا جنات کچھ نہیں ہوتے۔ کیا جنات انسانی زندگی میں مداخلت کر سکتے ہیں؟ اگر انسان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں تو اس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے؟ ایسے بہت سے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھنے والی بات یہ ہے کہ جب سائنس کہتی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا تو ہم سائنس کے حوالے سے بات کر رہے ہوتے ہیں اور سائنس اور مذہب دو الگ چیزیں ہیں۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ آج کے زمانے میں زندگی گزارتے ہوئے جو بھی عقیدے ہم کلچر سے لیتے ہیں یا تاریخ سے لیتے ہیں اُن کو سائنس کے حوالے سے تھوڑا پرکھنے کی ضرورت ہے۔

اینکر: بالکل سائنس کے حوالے سے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صاحب آپ ساتھ رہیئے گا۔ مفتی صاحب کے سامنے اگلے سوال رکھیں گے لیکن لوگوں کا کیا کہنا ہے۔ وہ سنتے ہیں۔
سوال نمبر 1: میں جاننا چاہتی ہوں کہ جنات کا وجود ہے یا نہیں؟
سوال نمبر 2: اس دنیا میں جنات ہیں۔ اچھے ہیں یا برے ہیں؟ مجھے اس کا جواب چاہیئے۔
سوال نمبر3: ہر گھر میں جنات ہوتے ہیں۔ اگر ہوتے ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟
سوال نمبر 4: جنات اس دنیا میں ہوتے ہیں یا نہیں؟
سوال نمبر5: جنات کا وجود ہے یا نہیں؟
سوال نمبر 6: جن لوگوں پر سایہ ہوتا ہے وہ ایسی کیا حکمت عملی اپنائیں کہ وہ اپنی جان بچا سکیں؟
سوال نمبر7: جنات اگر ہیں تو ہم انسانوں کو کس شکل میں نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

اینکر: جی مفتی صاحب! آپ نے سوالات سنے جو لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں۔ ان کی رہنمائی فرمائیں۔

مفتی عبدالقوی: محترم کہہ رہے تھے جناب سائنس اور سائنس کا مطلب ہے علم اور میں خود اس بات کا قائل ہوں کیونکہ میں ہمیشہ وہ بات کرتا ہوں جو حقیقت پر مبنی ہوتی ہے اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا یا اپنے کانوں سے سنا۔ مشاہدے کی بات کرتا ہوں۔ میں نے الحمداﷲ یورپ کے اندر جا کر ایسے لوگوں کو دیکھا کہ وہاں کے لوگوں کے اوپر جنات کے اثرات تھے۔ لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ ہم خوش نصیب لوگ ہیں کہ کوئی مسئلہ بھی ہمارے سامنے رکھا جائے تو اس کا جواب اﷲ کے قرآن میں موجود ہے۔ حضور ﷺ کے فرامین میں بھی موجود ہے اور عقل و حکمت سے حوالے سے بھی ہم اس کا جواب سائنس کے مطابق بھی دے سکتے ہیں اور علم کے مطابق بھی دے سکتے ہیں۔

اینکر: اچھا مفتی صاحب۔ آپ جواب تو سکتے ہیں لیکن غیر شرعی کاموں پر ابھارنے والے لوگوں کا محاسبہ نہیں کر سکتے۔ علماء کرام یہ فریضہ سر انجام نہیں دے سکتے کہ جعلی عاملوں کا محاسبہ ہی کر لیں۔

مفتی عبدالقوی: بالکل آپ کی بات ٹھیک ہے۔ میں اس کے اندر ذمہ دار ٹھہرتا ہوں۔ حکومت کو بھی اس طرح کے جتنے عامل ہیں اور جس طرح یہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں میرے بھائی کہ عامل ہوتا ہی وہی ہے جو جعلی ہو۔ یہ جتنے عامل ہیں جو جعلی بن کر اس طریقے سے قرآن کا نام استعمال کر کے، دین کا نام استعمال کر کے لوگوں کے اوپر تشدد کر رہے ہیں۔ ان کو سو فیصد بَین کر دیا جائے۔ پورے پاکستان کے اندر۔ آج بھی پاکستان کے اندر الحمداﷲ قرآن سنت کے حوالے سے ایسے علماء موجود ہیں، ایسے مشائخ موجود ہیں، ایسے اولیاء اﷲ کی اولادیں موجود ہیں جو آج بھی قرآنی آیات سے، احادیث مقدس کے ذریعے سے نظر بدہوں، آسیب ہوں، جنات ہوں یا اس طرح کے باقی معاملات اُن کا علاج کرتے ہیں۔ الحمداﷲ انسانیت کو اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ ہم سائنس کا اور علم کا بھی انکار نہیں کرتے۔ آج آپ ڈاکٹروں کے پاس بھی جائیں۔ جو اﷲ نے علم ڈاکٹروں کو دیا ہے اُن کے ذریعے بھی علاج کروائیں۔ باقی نظر بد حق ہے۔ میرے نبی رحمتﷺ کا فرمان ہے۔ جنات کے حوالے سے قرآن حکیم کے اندر، اگر آپ دیکھیں تو بائبل کے اندر، تورات کے اندر دیکھیے۔ اُن کے اندر بھی قرآن کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے۔ خود یورپ کے اندر میں نے ایسے افراد کو دیکھا ہے جن پر جنات کے اثرات تھے اور الحمداﷲ ہم نے اُن کو اس سے نجات دلائی۔

اینکر: چلیں۔ یہی سوال مفتی صاحب، ڈاکٹر صاحب سے سامنے رکھ لیتے ہیں۔ مفتی صاحب اسلام دروازے بند نہیں کرتا تحقیقات و علم کے لیے۔ لیکن آپ نے دیکھا شیزوفرینیا کے مریضوں کو، بائی پولر ڈس آرڈر کے مریضوں کو، آپ نے ہسٹریا کے مریضوں کو دیکھا کیا مماثلت ہوتی ہے ان میں اور آسیب کا شکار ایک انسان میں۔ ہمیں بتائیں ڈاکٹر صداقت علی صاحب۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں ہمارے سائنسی عقیدے کے مطابق یہ آسیب ، وہم ، بددعا یا نظر لگنا یہ کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ یہ انسان کے دماغ کی کمزوری یا بیماری کی شکل ہو سکتی ہے اور تھوڑی سی کاؤنسلنگ کے ساتھ اور بعض اوقات دوا دینے کے بعد تبدیلیاں تیزی سے آنا شروع ہو جاتی ہیں اور درحقیقت یہ پرانے زمانے کی بات ہے۔ ہزاروں سال پرانا زمانہ جب لوگوں کو حقیقت کا پتہ نہیں تھا تو لوگ بیماریوں میں مبتلا ہوتے تھے تو وہ سمجھتے تھے کہ اُن کو نظر لگ گئی ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ چونکہ بیماریوں کا علاج بھی سامنے آ رہا ہے اور بیماریوں کو establish بھی کیا جاسکتا ہے تو پھر یہ نظر لگنا، بد دعا کا ہونا یا اس طرح کی چیزیں یا جادو ٹونہ یا تعویذ ہونا۔ آج کی دنیا میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ کسی سائنس دان کو نظر نہیں لگتی۔ کوئی سائنسدان ان چیزوں پر اعتماد نہیں کرتا۔ وہ cause and effect پر اعتماد کرتا ہے۔ جیسے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ “انسان کے لیے بس وہی ہے جس کی وہ سعی کرتا ہے ” اور انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا پھل پاتا ہے اس دنیا میں بھی اور آئندہ دنیا میں بھی وہ اپنے کیے کا پھل پائے گا۔ جیسا وہ کرے گا ویسا وہ بھرے گا اور یہ جو کمزور اعتقاد کے لوگ ہیں وہ زیادہ تر بے چارے سادہ لوگ ہوتے ہیں جو زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ نہیں ہوتے۔ وہ دائیں بائیں سے ایسی باتیں سنتے ہیں تو وہ جیسے غرض مند دیوانہ ہوتا ہے۔ تو وہ دیوانہ وار ان لوگوں کی طرف چلے جاتے ہیں جو بالکل ان پڑھ لوگ ہوتے ہیں۔ جن کو مذہب کا بھی کوئی علم نہیں ہوتا۔ جن کو قرآن پاک کا بھی علم نہیں ہوتا۔ جو شرح کے بھی پابند نہیں ہوتے۔ سب سے پہلے لوگوں کو دیکھ لینا چاہیئے کہ جس شخص کے پاس گئے ہیں تو کیا وہ شرح کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ یہ تمام لوگ جو ہیں بدقماش لوگ ہوتے ہیں۔ ان کو سزا ملنی چاہیئے اور ان کے کاروبار کو فوری بند کرنا چاہیئے یہ غیر قانونی مجرمانہ کاروبار ہے اور اس کے اوپر قدغن ہونی چاہیئے۔

اینکر: بہت شکریہ آپ کا ڈاکٹر صداقت علی صاحب اور مفتی عبدالقوی صاحب آپ لوگوں نے دنیا نیوز کے لیے وقت نکالا شکریہ۔