فرح سعدیہ: اسلام وعلیکم کیسی ہیں آپ؟

کالر: و علیکم اسلام، اﷲ کا شکر ہے، آپ کیسی ہیں؟

فرح سعدیہ: بالکل ٹھیک اﷲ کا شکر، فرمائیے؟

کالر: جی میں نے ڈاکٹر صاحب سے بات کرنی تھی۔

فرح سعدیہ: جی جی

کالر: اسلام وعلیکم ڈاکٹر صاحب

ڈاکٹر صداقت علی: واعلیکم اسلام جی

کالر: جی میں نے یہ بتانا تھا کہ مجھے چھپکلی دیکھنے سے بلکل ڈر نہیں لگتا۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے، زبردست

کالر: اس کو میں دیکھ لیتی ہوں برداشت کر لیتی ہوں۔ لیکن میں چاہتی ہوں کہ اسے ماروں اور باہر پھینک دوں تاہم میں مری ہوئی چھپکلی نہیں اٹھا سکتی۔

فرح سعدیہ: اچھا

کالر: تو یہ میں چاہتی ہوں کہ جیسے وہاں بھی یہ کچن میں آ گئی ہے اور بچہ اگر ڈر رہا ہے تو میں اس کو مار کے اور اس کو اٹھا کے پھینک دوں تو یہ میں ایسا نہیں کر سکتی۔

فرح سعدیہ: اس وقت ہم ایک چھوٹا سا بریک لیں گے۔

فرح سعدیہ: خوش آمدید، آج ہم بات کر رہے ہیں fear and phobias پر اور آج ڈاکٹر صداقت ہمارے ساتھ ہیں ڈاکٹر صاحب سلمٰی کہہ رہی ہیں کہ انہیں اندھیرے سے ڈر لگتا ہے اور ثناء کہہ رہی ہیں میری بہن کو لڑکوں سے ڈر لگتا ہے۔ پھر یہ کہ میں کسی سے اپنی پرسنل باتیں شیئر کر لوں تو مجھے خدشہ رہتا ہے کہ کہیں وہ کسی کو بتا نہ دے ۔ ایک اور کالر نے کہا کہ انہیں cholestro phobic ہے اور elevator lift سے ڈر لگتا ہے۔ ایک اور خاتون کہہ رہی ہیں کہ کسی کے سامنے اچانک میں اعتماد کھو دیتی ہوں؟ یہ سب ہم آپ کو اگلے پروگرام میں بتائیں گے آج ابھی صرف چھپکلی کے متعلق سوال کا جواب ہی دے پائیں گے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں خاتون نے بتایا کہ وہ چھپکلی کو برداشت تو کر لیتی ہیں لیکن ان کو اس سے کراہیت محسوس ہوتی ہے میں آپ کو بتاؤں کہ کراہیت اور ڈر دونوں کلوز کزن ہیں۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: ان کو ہم colonial cousins بھی کہتے ہیں۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: پیچھے ان کا گھر ایک ہی ہوتا ہے اور ہم کئی دفعہ کراہیت کو مثبت اور ڈر کو عموماً منفی سمجھتے ہیں۔ لیکن کراہیت کا جو پہلو ہے وہ چھپکلی میں یا اور چیزوں میں آتا ہے۔ خواتین اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ انہیں کاکروچ سے ڈر لگتا ہے۔ جب کہ دنیا میں کبھی کسی کاکروچ نے کسی خاتون کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، بس یہ سب perceptions ہیں۔ عام طور پر گھروں میں کراہیت والے کام کرنے کو ہم کسے کہتے ہیں؟

فرح سعدیہ: مردوں کو

ڈاکٹر صداقت علی: مرد ملازموں کو کیونکہ مرد جو ہے وہ بہادر ہوتا ہے۔

فرح سعدیہ: ملازم بھی مرد کو بلائیں گے عورت کو نہیں بلا سکتے۔ کیونکہ وہ ہم سے بھی زیادہ ڈرے گی۔

ڈاکٹر صداقت علی: عورت بھی آئے تو کر لیتی ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا

ڈاکٹر صداقت علی: کیونکہ مہذ ب معاشروں میں جس میں لوگ زیادہ اعلی درجے کے کام کرنے لگتے ہیں ایسے کراہیت والے کام نہیں کرتے۔

فرح سعدیہ: اچھا refined ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: refined ہو جاتے ہیں تو پھر وہ گندگی یا کراہیت والے کام نہیں کر سکتے تو جو کام ہم روزانہ نہیں کر سکتے۔ جیسے اگر ہمیں مزدوری کرنے کی ضرورت ہے ہو تو ہم نہیں کرتے تو ہم gym چلے جاتے ہیں۔

فرح سعدیہ: تو پھر یہ کیا کریں؟

ڈاکٹر صداقت علی: اسی طرح اس کیلئے بھی ہمیں وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے اور یہ سب چیزیں اب سیکھنے کی ہیں جیسے کل کے زمانے میں صرف جم جانا فیشن تھا تو ہو سکتا ہے آنے والے وقت میں کبھی fear and phobia کی ٹریننگ بھی فیشن ایبل ہو کیونکہ اس سے اتنی Mental Energy Liberate ہوتی ہے کہ ہم بہت سارے دیگر کام کر سکیں۔

فرح سعدیہ: بالکل صحیح۔ بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب آپ ساتھ رہے۔ خواتین آپ ساتھ رہیے گا یہ جو سارے آپ کے میسج ہیں میں وعدہ کرتی ہوں ان کو ہم اگلے پروگرام میں شامل کریں گے اس پر باقاعدہ آپ کو strategies اور guidelines بتائیں گے کہ انہیں کیسے ڈیل کرنا ہے۔ اپنا بہت سا خیال رکھیے گا۔ دعا یہی آپ کی ہر صبح خوش گوار ہو اور خوش گوار صبح کا انجام بخیر ہو۔ ملیں گے انشاء اﷲ پھر اور اس وقت تک اﷲ خافظ۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments