فرح سعدیہ: خوش آمدید
ہمارے ناظرین سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کراچی سے مس سلمہ سلطان کا کہنا ہے کہ واقعی خواتین پیٹ کی بہت ہلکی ہوتی ہیں اور 47 گھنٹے بات کو راز رکھنا مشکل عمل ہے، عبدالرحمن صاحب کا کہنا بھی یہی ہے کہ خواتین کیلئے راز رکھنا ناممکن سا کام ہے۔ جبکہ مس صباء تو اس کے برعکس کہہ رہی ہیں، اسی طرح اور لوگوں کے کمنٹس بھی کچھ ملے جلے ہی ہیں۔ آپ کی اس پر کیا رائے ہے؟
آج کے پروگرام میں ہم بات کریں گے کہ Fear and Phobias کیا ہیں اور کوشش کریں گے کہ یہ جان سکیں کہ بہت سارے خوف جو کہ ہمیں لاحق رہتے ہیں ان کی وجہ اور ان پر ماہرانہ رائے لے سکیں۔ اس موضوع پر آج بات کرنے کیلئے ہمارے ساتھ مُلک کی مشہور معروف شخصیت ڈاکٹر صداقت علی موجود ہیں، ڈاکٹر صاحب ہمارے پروگرام میں اکثر شرکت کرتے رہتے ہیں، آپ یقیناً ان سے واقف ہوں گے جو کہ ولنگ ویز کے CEO ہیں۔
اسلام وعلیکم، ڈاکٹر صاحب آپ کیسے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: وعلیکم اسلام ، الحمدوللہ میں خیریت سے ہوں!

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب، یہ خوف ہوتی کیا چیز ہے یہ کہاں سے آ جاتی ہے؟

ڈاکٹرصداقت علی: خوف ایک ایسا جذبہ ہے ،جس کی انسان میں باقاعدہ گنجائش رکھی گئی ہے۔ کیونکہ دورِ قدیم کا انسان جنگلوں میں درندوں کے ساتھ اجتماعی زندگی گزارتا تھا۔ جب انسانوں اور درندوں کے آپس کے مفادات میں تضاد آ جاتا تو اکثر انسان کو درندوں سے بھاگنا یا لڑنا پڑتا تھا۔ ان دونوں ہی صورتوں میں اس کو مضبوط جسمانی و عصابی طاقت درکار ہوتی تھی۔ ایسے موقع پر ایک قدرتی نظام کے باعث انسانوں کے اندر Aderaline Gland ایسی رطوبت خارج کرتا تاکہ خون کی گردش اعصاب میں تیز ہو جائے اور انسان بھاگنا یا لڑنا چاہے تو باآسانی لڑ سکے۔ لہذا ڈر وہ جذبہ ہے جو قدرتی طور پرانسان نے سیکھا ہوا ہے۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب آپ کی گفتگو سے مفید معلومات جاننے کو ملیں کہ ڈر کی یہ کیفیت ایک مثبت عمل ہے، یعنی ڈر ہمارے اندر ایک تحریک پیدا کرتا ہے۔ آج دور جدید میں جہاں ایسے خوف تو اپنا وجود کھو چکے ہیں تو کچھ لوگ وجہ بے وجہ ڈر، خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔
جیسے کسی نے سوال کیا ہے کہ مجھے موت سے ڈر لگتا ہے اور اگر میں ذرا سا بھی موت کے بارے میں سوچوں تو میری طبیعت بگڑنے لگتی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے ابھی ہارٹ اٹیک ہو جائے گا، ایسی کیفیت مجھ پر میری والدہ اور آنٹی کی وفات کے بعد ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب دیکھیں چیزیں اچھے مقاصد کیلئے شروع ہوتی ہیں اور بدلتے بدلتے بربادی کی طرف گامزن ہو جاتی ہیں۔ جیسے کہ یہ ڈر جان بچانے اور اپنے دفاع کیلئے تھا۔ پھر انسانوں نے انسانوں کو راہ مستقیم پر رکھنے کیلئے ڈرانا شروع کیا جیسے اگر تم غلط کام کرو گے تو پھر تمہیں اس کا بڑا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ مستقبل قریب میں یا آئندہ ابدی زندگی میں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور آئندہ کی زندگی کا بھی تصور دیا گیا ہے یہ اور یہ بتایا گیا ہے کہ دیکھو اس زندگی کے بعد ایک اور بعد کی زندگی بھی ہے۔ جب ہزاروں سال پہلے انسان کو انسانوں سے بچانے کیلئے باقاعدہ نہ کوئی حکومتیں تھیں نہ کوئی منتخب عدالتی نظام تھا نہ کوئی پولیس کا وجود اور نہ ہی کوئی مہذب معاشرے کا تصور تھا تو اس دور میں انسان، انسان کومطیع اور فرمابردار رکھنے کیلئے خوف کا ہی سہارا لیتا تھا تاکہ اس کا جاہ و جلال، رعب و دبدبہ مخالف پر برقرار رہے اور وہ اطاعت گزاری میں ہی اپنی عافیت سمجھے۔

فرح سعدیہ: اچھا ڈاکٹر صاحب اکثر اوقات ہم اپنے بچوں کو بھی ڈراتے رہتے ہیں آپ کی اس پر ماہرانہ رائے کیا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: آج تو ہم چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی بغیر سوچے سمجھے یہ کہ دیتے ہیں کہ باہر نہ جانا تمہیں اللہ مارے گا یا ابھی کوئی ہوا بھرولا آ جائے گا یا کوئی بابا پکڑ کر لے جائے گا۔

فرح سعدیہ: طالبان پکڑ لے گا۔

ڈاکٹر صداقت علی: یا طرح طرح کی کوئی سوچیں اور نئے نئے الفاظ بننا شروع ہو گئے ہیں۔

فرح سعدیہ: جدت آتی جا رہی ہے اس خوف میں بھی!

ڈاکٹر صداقت علی: جی!

فرح سعدیہ: لیکن ڈاکٹر صاحب اب اس خوف کا ہمیں سامنا یا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟