ڈاکٹر صداقت علی: یہ سب ماضی میں رہنے والی باتیں ہیں۔ اور غیرت کے وہ جو تصورات خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں ہیں ان تصورات کے مطابق جب ہم زندگی گزارتے ہیں اور ایک دوہرا معیار قائم کرتے ہیں۔ میں صرف ان وانٹڈ کی بات کر رہا ہوں میں نفرت کی بات نہیں کر رہا کہ والدین اپنی بیٹیوں سے ضروری نفرت ہی کرتے ہوں گے لیکن بہت زیادہ روشن خیال والدین بھی بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر نہیں سمجھتے ایک طرح سے وہ خسارے میں رہتے ہیں اپنی بیٹی کو پرایا دھن سمجھتے ہیں۔ وہ خسارے میں رہتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ بیٹی کو بیاہے گا وہ اپنے داماد کو اپنا بیٹا نہیں سمجھے گا۔ میں سمجھتا ہوں یہ بہت خسارے کا کام ہے کیونکہ پہلے آپ اپنی بیٹی کو قبول نہیں کرتے پھر اپنے داماد کو بھی قبول نہیں کرتے پھر آپ چیزوں کو کھوتے چلے جاتے ہیں۔

فرح سعدیہ: بالکل صحیح اچھا ڈاکٹر صاحب یہاں ایک چیز بہت اہم ہے ایک ہی ماحول میں فرض کیا چار بچے ہیں وہ سب بھی تو اس ماحول میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک کیوں باغی ہوتا ہے؟ اس کو کیوں لگتا ہے کہ یہ موزوں ہے میں یہاں پر نہیں رہ سکتا؟

ڈاکٹر صداقت علی: بالوجی یعنی انسانوں کے جسم میں جوانجن ہوتے ہیں وہ بعض اوقات جلدی گرم ہو جاتے ہیں بعض کے ذرا ٹھنڈے ہوتے ہیں ان کے ذہن میں تپش بہت ہے اردد گرد کے ماحول میں جب ایسی چیزیں آتی ہیں تو پھر انہیں ایسا لگتا ہے کہ انہیں یہاں سے دور بھاگ جانا چاہیئے کیونکہ دور کے ڈھول ویسے بھی سہانے ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ یہاں سے چلے جائیں گے تو کوئی ٹوکا ٹاکی نہیں ہو گی کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا۔ آزادی ہو گی اور پھر وہ Fairytails بھی ہیں کہ جو گھروں سے بھاگتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ہزاروں میں سے ایک نامور ہو جاتا ہے اور وہ جب بھی انٹرویو دیتا ہے وہ بتاتا ہے کہ میں جب 14 یا 16 سال کی عمر میں گھر سے بھاگ گیا تھا یا بھاگ گئی تھی۔ پھر دیکھیں میں نے کتنی ایمپائر کھڑی کی لیکن ہزاروں جو اس کے بدلے فضاء میں ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جاتے ہیں گھروں سے نکلنے کے بعد۔گلیاں جو ہیں یہ بہت تکلیف دہ جگہ ہیں گھروں کے مقابلے۔ میں والدین کیسے بھی ہوں ان کے مقابلے میں دوسرے لوگ کچھ زیادہ مہربان نہیں ہو سکتے اگر والدین اپنی بچیوں کو برابر کی حیثیت نہیں دیتے تو معاشرے میں چلنے پھرنے والی کسی خاتون کو بھی لوگ عزت دینا کوئی ضروری نہیں سمجھتے۔ یہ ذرا احتیاط برتنی چاہیئے۔ کہ جب گھر سے قدم نکالتے ہیں تو ایسا نہیں ہے کہ آپ آسمان سے گر کے کھجور میں اٹک جائیں۔ آپ کو یہ سو دفعہ پہلے سوچنا چاہیئے اور شائستہ راستے اختیار کرنے چاہیئے۔ اپنے جذبات کے اظہار کے طریقے سیکھنے چاہییں۔ کسی مہربان رشتے دار کو ڈھونڈنا چاہیئے۔ ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی رشتہ دار بزرگ ایسا ضرور ہوتا ہے جو مشکلات میں ان کی مدد کرتا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments