فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب ایک کالر کو شامل کریں گے۔ اسلام علیکم کیا حال ہے آپ کا۔

کالر: وعلیکم اسلام جی میرا بیٹا ہے۔ اس کا بہت اچھا resultآیا ہے۔ امریکن سکول میں پڑھتا ہے اس کے ٹیچر، اس کے دوست سبھی اس سے خوش ہیں۔ لیکن دو مہینے سے وہ با لکل چپ ہو گیا ہے۔ گھر میں بھی کسی سے بات ہی نہیں کرتا۔ میں نے اس کاؤنسلر سے بات کی تھی سکول میں اور ان سے کہا تھا کہ معلوم کریں کہ سکول میں کہیں Bullying تو نہیں ہو رہی۔ گھر میں صرف میں ہوتی ہوں اور میری بیٹی ہوتی ہے جو کہ Dietician ہے۔ شوہر کا کاروبار ہے تو وہ زیادہ تر باہر ہی ہوتے ہیں۔

فرح سعدیہ: آپ نے خود پوچھنے کی کوشش کی کیا وجہ ہوئی؟

کالر: جی وہ کچھ بھی نہیں بتاتا صرف اتنا ہے کہ ہم نے جب عید پر پروگرام بنایا تھا تو اس وقت وہ نہیں جانا چاہتا تھا تو میں نے اس سے کہا کہ بیٹا دیکھو تمھاری وجہ سے سارے پروگرام بنتے ہیں کہ آپ اکیلے ہو۔ میرے چھ بچے ہیں الحمدولللہ سب ایک ساتھ ہی بڑے ہوئے دو باہر پڑھ رہے ہیں ایک کی شادی ہو گئی ہے۔ تو مجھے پتا تھا کہ وہ اکیلا ہے اور گھر میں ایک دم اتنی محبت اور رونق کے بعد پھر وہ اکیلا ہو گیا۔

فرح سعدیہ: آپ ساتھ رہیئے۔ ابھی تک آپ نے جو factors بتائے ہیں انہیں مد نظر رکھتے ہوئے آپ کو حل بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹرصاحب کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں جتنی بھی ماحولیا تی وجوہات ہیں وہ تو میرا خیال ہے کہ والدہ دیکھ چکی ہوں گی کیونکہ ان کا بیٹا ہے اور نوجوان ہے تو والدین کے درمیان اور بیٹے کے درمیان بات چیت تو ہوئی ہو گی اور انہوں نے ہر پہلو سے پوچھ لیا ہو گا کہ انہیں کوئی تکلیف سکول یا گھر کی طرف سے نہیں ہے تو مجھے لگتا ہے کہ کہیں سے کوئی ماحول میں تکلیف نہیں ہے۔ اچھا جب ہم سوچتے ہیں کہ کوئی خوش نظر آ رہا ہے یا کوئی افسردہ نظر آ رہا ہے تو ہم ہمیشہ سوچتے ہیں کہ وجہ اس کے ماحول میں ہو گی وجہ اس کے تعلقات میں ہو گی یا ایسے حالات ہوں گے۔ ایسا ضروری نہیں بغیر کسی بیرونی وجہ کے بھی نوجوان اور بڑی عمر کے لوگ خوش بھی ہو سکتے ہیں افسردہ بھی ہو سکتے ہیں اور بغیر وجہ کے جو خوشی اور افسردگی ہو گی تو یہ بے پناہ ہو گی اور کئی دفعہ ہمارے ارد گرد لوگ بغیر وجہ کے بہت زیادہ خوش نظر آتے ہیں ہم اسے بھی نارمل سمجھتے ہیں اور جو بغیر وجہ کے بہت افسردہ نظر آتے ہیں تو ہم انہیں ناشکرا سمجھتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا یہ موڈ ڈس آڈر ہوتے ہیں۔ بچے میں ڈیپریشن ہو سکتا ہے۔

فرح سعدیہ: کسی وجہ کے بغیر بھی ہو سکتی ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: جو کسی وجہ سے ہوتی ہے ہم اسے Reactive Depression کہتے ہیں اور جو بغیر وجہ کے جو ہمارے خیال میں کسی وجہ کے بغیر ہے وہ بالوجیکل ہوتی ہے جو کہ اندر سے پیدا ہوتی ہے اور یہاں مشکل یہ پیش آتی ہے کہ ہمیں سمجھ لینا چاہیئے کہ پہلے یہ بیماری ذرا بڑی عمر میں ہوتی تھی اب کیونکہ نوجوان ذرا آگاہ ہونے لگے ہیں تو اس لیے موڈ ڈس آرڈر اب چھوٹی عمر میں ہوتے ہیں۔

فرح سعدیہ: کیا اس کے کوئی لیبارٹری ٹیسٹ ہیں۔ جس کے نتیجے میں پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شخص اس مرض میں مبتلا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: نہیں ابھی تک ایسے کوئی ٹیسٹ جس سے اینڈوجینس ڈیپریشن کا پتہ لگایا جا سکتا ہو لیبارٹری میں میسر نہیں ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments