فرح سعدیہ: ہم بات کر رہے ہیں اسی طرح کے اکیلے پن پہ جہاں پر آدمی راہ فرار اختیار کرتا ہے اور خاص طور پر لڑکیاں۔ میں نے آپ سے جو سوال کیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب جیسا کے نارمل حالا ت میں دیکھا جائے تو آدمی کہتا ہے کہ مجھے اگر میرے گھر والے مجھے نہیں سمجھ پا رہے۔ باہر ایک آدمی کیسے سمجھے گا جس کو ابھی پوری طرح میرا پتہ ہی نہیں ہے۔ ان کے ساتھ میں اچھی طرح نہیں رہ پا رہا لیکن بعض اوقات ہمیں لگتا ہے کہ وہ جو شخص ہے وہ ہم سے بہت پیار کرتا ہے اور ہم اس کی خاطر سب کچھ چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ کیوں ہوتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں بات یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنا ضروری نہیں یہ کہاں بھاگے جا رہا ہے؟ یہ ایک خود اعتمادی ہوتی ہے کہ یہ شاید کسی چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ جتنا بھی برا سلوک کریں گے تو یہ کہیں بھاگے نہیں جا رہے لیکن ایک وقت آ جاتا ہے کہ لوگ بھاگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جبکہ باہر لوگوں سے ہم جب ملتے ہیں تو لوگ اپنے چہرے پر ایک بہروپ رکھ کے ہم سے ملتے ہیں۔ کیونکہ ایک چھوٹا سا Interaction دن میں مختلف لوگوں کے ساتھ ہمارا جب ہوتا ہے۔ تو ہم اس دھوکے میں آ جاتے ہیں کہ جتنے اچھے طریقے سے وہ ہم سے بات چیت کر رہا ہے تو شاید یہ ان کی عادت ہو گی۔ تو ایسا نہیں ہوتا وہ ایک چھوٹے سے مقصد کے لیے وقتی interaction میں صرف ہوتا ہے ۔اور جب لوگ ایک لمبے رشتے میں منسلک ہوتے ہیں ۔ تو ان کا جو اصل ہے وہ کھل کے سامنے آنے لگتا ہے۔ جیسا کے ماں باپ کا اولاد کے ساتھ اور اولاد کا ماں باپ کے ساتھ رویہ بہت ہی عزت و احترام اور پیار اور محبت سے بھرا ہونا چاہیئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر آپ کو کوئی چیز غلط نظر آ رہی ہے تو آپ اس پر خاموش رہیں آپ اچھے طریقے سے بات کر سکتے ہیں لیکن rude ہونے کی ضرورت نہیں بے عزت کرنے کی ضرورت نہیں۔خاموشی میں جانے کی بھی ضرورت نہیں اور verbal violence میں جانے کی بھی ضرورت نہیں تو اس کے لیے ہمیں جذبات کے اظہار کا طریقہ آنا چاہیئے۔ غصے کے اظہار کا طریقہ آنا چاہیئے۔ کہ ہم لفظوں میں اپنے غصے کو بیان کر سکیں۔ تو آج کل کے جو Teenager ہیں جو کے سبھی انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں آج زمانہ ہے ایسا کہ اگر کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو اس مسئلے کو کوئی نہ کوئی نام یا فقرہ دے کر اگر آپ ا نٹرنیٹ پر گوگل سرچ میں لکھتے ہیں تو جو بھی آپ کا پرابلم ہے اس کو کسی نہ کسی چھوٹے لمبے درمیانے سوال کی شکل میں لکھ دیں تو آپ کو حل آئیں گے۔ میں آپ کو بتاؤں میں پچھلے دنوں ایک شعر جو مجھے صیح طریقے سے یاد نہیں تھا تو جیسا مجھے یاد تھا میں نے ویسا لکھ دیا۔ تو اس کے بارے میں مجھے بڑی تفصیل میں بتایا گیا کہ اس شعر کی ترتیب کیا ہے اور کہاں کہاں کسی ادیب نے اسے استعمال کیا۔

فرح سعدیہ: لیکن ڈاکٹر صاحب جن لوگوں کہ پاس انٹرنیٹ کی سہلولت نہ ہو وہ کیا کریں؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں وہ نقصان میں ہیں۔ آج کے زمانے میں اگر کسی کی تعلیم معیاری نہیں ہے یعنی obsolete تعلیم ہے جو کہ روایتی ہمارے سکولوں کالجوں میں جو تعلیم دی جاتی ہے اس کا بڑا حصہ obsolete ہے تو اگر اسی تعلیم میں سے لوگ گزر رہے ہیں روایتی یا صرف مذہبی تعلیم یا cultural education میں سے گزر رہے ہیں تو یہ سب کچھ ماضی سے تعلق رکھتا ہے۔ آج کے پرابلم کا حل یہاں نہیں ملتا۔ اس کے لیے ہمیں کچھ نئے رحجانات کی ضرورت ہے نئے ذرائع کی ضرورت ہے اور انٹرنیٹ اس میں سے ایک ذریعہ ہے جو کے آپ کی رہنمائی کر سکتی ہے یونیورسل اصولوں کے مطابق۔ آج کی دنیا کی جو wisdom ہے وہ جو accumilated wisdom ہے، اس کے مطابق زندگی گزارنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ورنہ تو وہ سارا جذباتی جو ہم نے فلموں ڈراموں یا پھر ناولوں سے سیکھا ہوتا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments