فرح سعدیہ: واہ! اور ہمارے صدور کی جو باتیں ہیں یہ آن ریکارڈ ہیں کہ 6:00 بجے کے بعد میرے کسی فیصلے کو حتمی نہ سمجھا جائے۔

ڈاکٹر صداقت علی: جی! تو اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں کہ جن لوگوں کو سمجھ دار سمجھا جاتا ہے کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں وہ لوگ شراب نوشی نہیں کرتے۔

،فرح سعدیہ: ہمارے کامیاب آفسران کو کیا مصیبت ہوتی ہے ڈاکٹر صاحب وہ اچھا آفیسر ہو نہ ہو انہوں نے یہ علت(شراب نوشی) ضرور پالنی ہوتی ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: یہ کوئی پرانی غلط فہمیاں ہیں کہ ایسا پہلے امریکہ ہوتا تھا کہ ہر اعلی عہدیدار بندہ شراب پیتا تھا۔ لیکن 1920ء سے انہوں نے ایک منصوبہ پر کام شروع کیا کہ سب سے پہلے تو وہ منصوبہ یہ تھا کہ امریکہ میں شراب بالکل بند کر دی جائے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔

فرح سعدیہ: جیسے ظاہری طور پر ہماے ہاں ہے کہ شراب عام نہیں مل رہی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: شراب کا جو نظام ہمارے ہاں 70’s میں آیا تو وہاں 1920ء میں آیا پھر 1933ء میں انہوں نے اس قانون سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے۔ کیونکہ انہیں پتہ چلا کہ اس طرح کام نہیں بنے گا۔ گھروں میں شراب بننا شروع ہو گئی۔ تو انہوں نے کہا کہ ایک لمبے منصوبے پہ کام کرنا پڑے گا۔ تو پھر انہوں نے 100 سالہ منصوبہ بنایا اور اس میں اب ہر سال کل بجٹ سے کئی گنا زیادہ رقم وہ اس بات پہ خرچ کرتے ہیں کہ امریکہ میں شراب کا کام نہ ہو اور اس کے نتیجے میں اب شراب میں بہت کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ عام اندازے کے مطابق امریکہ میں جو ایوریج شراب پینے کے رحجان کو اگر دیکھا جائے تو ایک ایوریج امریکن پرسن جو کہ اٹھارہ سال سے بڑی عمر کا ہے تو ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو شراب پیتے اور نہیں پیتے تو جب ایوریج نکالتے ہیں جو سب کو شامل کر کے نکالتے ہیں تو یہ سالانہ 2.2 گیلن شراب وہ پیتے ہیں اور 30 سال پہلے 1980ء میں یہ 4.4 گیلن تھی۔ یعنی شراب کی جو مقدار امریکہ میں جو ٹوٹل استعمال ہوتی ہے۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب بحیثیت قوم وہ اگر پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں تو کوئی نہ کوئی تو بات ہو گی کہ وہ ہم سے بہتر ہیں کامیاب ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: ظاہری سی بات ہے جیسے وائٹ ہاؤس میں کسی کی بھی تواضع شراب سے نہیں ہو گی۔ امریکہ کے تمام سرکاری مہمان اگر امریکہ میں شراب پیئیں گے تو پھر اُس کا بل وہ اپنی جیب سے ادا کریں گے وہاں کوئی بھی بِل شراب کے زمرے میں ادا نہیں کیا جائے گا۔ لیکن آج جو ہم بات کرنا چاہتے ہیں خالی الکوحل کی بات نہیں ہے کیونکہ ماضی میں ہمیشہ زیادہ تر ہم بات کرتے ہیں بلیک اینڈ وائٹ کی کہ یا کوئی الکوحلک ہوتا ہے یا پھر کوئی الکوحلک نہیں ہوتا اور جو الکوحلک ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ شراب پینے کے لیے ٹوٹلی ان فٹ ہے۔ جیسے ڈایابیٹک اَن فٹ ہو جاتا ہے۔ ہم یہاں سب پینے والوں کی بات کر رہے ہیں جس میں، میں نے آپ کو بتایا کہ امریکہ میں % 56 لوگ اب پیتے ہی نہیں ہیں۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب آپ بار بار امریکہ کی بات کر کے دل نہ جلائیں آپ بتائیں کہ اب ہم کیا کریں؟

ڈاکٹر صداقت علی: کیونکہ ہم ٹرینڈ کو فالو کرتے ہیں ہم نے پینا بھی اُن کے پیچھے ہی شروع کیا تھا ہمیں چھوڑنا بھی اُن کے پیچھے ہی چاہیئے اور اس میں میں آپ کو بتاؤں کہ اس کے بعد بہت بڑی تعداد لوگوں کی ہے جو ’لورسک ڈرنکن‘ پر ہے۔ ’لورسک ڈرنکن‘ وہ ہوتی ہے جو ڈبلیو۔ایچ۔او پہلے کہا کرتی تھی کہ تجویز کردہ الکوحل یعنی روزانہ کتنی الکوحل ہونی چاہیئے۔ اچھا تجویز کردہ کے لفظ کو انہوں نے تبدیل کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ تجویز کردہ کا لفظ تو بڑا خطرناک ہے تو اب اسے وہ ڈرنکنگ وارننگ کہتے ہیں چونکہ خواتین میں شراب کا اثر ذرا زیادہ ہوتا ہے کیونکہ جو شراب پی جاتی ہے جسم میں اس کا اثر خون میں ہوتا ہے وہ جسم کے وزن کے حساب سے ہوتا ہے کیونکہ خواتین چونکہ مردوں سے وزن میں کم ہوتی ہیں پھر مردوں کے معدے میں ہی کچھ شراب میٹابولائز ہو جاتی ہے تو وہ اثر نہیں کرتی جبکہ خواتین میں یہ تھوڑی شراب بھی زیادہ اثر کرتی ہے۔ وہ پہلے کہا کرتے تھے کہ اب اس کا کوئی فائدہ ہو گا لیکن اب دنیا میں کوئی بھی سائنسدان نہیں مانتا کہ شراب کا کوئی فائدہ ہو سکتا ہے۔

فرح سعدیہ: آپ کا ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو کہتے ہیں کہ ہم ذرا پیتے ہیں تو فریش ہو جاتے ہیں تھک جاتے ہیں تو انرجی آ جاتی ہے۔ ہم زندگی کی بہت ساری حقیقت کو زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے ایک فلسفہ یہ بھی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments