ڈاکٹر صداقت علی: میں اسی کے بارے میں ایک بات کرنے لگا ہوں آپ کو پتہ ہے ایک بندہ صبح سے تھکا ہوا شام کو گھر آتا ہے تو حقیقت میں وہ تھکا ہوا ہے اور اگر وہ شراب پیتا ہے تو اس کے دماغ کو یہ میسج ملتا ہے کہ وہ تھکا ہوا نہیں ہے حقیقت میں اس کو کچھ نہ کچھ ٹینشن ہے یا کچھ نہ کچھ سوچ بچار کے معاملات کو اسکو نظرٖ ثانی کرنی ہے اس کو شراب اس کو میسج دیتی ہے کہ تمہیں کسی قسم کی دنیا داری کی پریشانی ہی نہیں ہے اچھا اب ایک بندہ جو تھکا ہوا ہے اور اس کو میسج مل رہا ہے کہ وہ تھکا ہوا ہی نہیں ہے اور وہ ریلکس ہے تو وہ اور شراب میں کلوریز ہوتی ہے انرجی ہوتی ہے اور بلیک انرجی ہوتی ہے بلیک انرجی وہ ہوتی ہے جو فوراََ مل جاتی ہے اور وہ اسٹور نہیں ہو سکتی اسے خرچ ہونا ہے یہ بلیک منی کی طرح ہے جسے آپ سٹور نہیں کر سکتے۔ بنک نہیں بھیج سکتے جائداد نہیں خرید سکتے آپ نے کہیں نہ کہیں تو پھیکنا ہے تو یہ جو بلیک انرجی ہے اسے استعمال ہونا ہوتا ہے تو شراب پی کے وہ دوبارہ نئے سرے سے تیار ہو کے گھر سے کہیں جانے کی تیاری کر لیتے ہیں اور پھر پارٹیز کا تصور اور یہ سلسلہ رات لیٹ تک چلتا ہے اور خیال ہی نہیں آتا کیونکہ آپ کو انرجی مل جاتی ہے یہ سارا جھوٹ جو شراب شام کو دیتی ہے تو اس سے لائف کا جو تال میل ہے وہ خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے رات کو دیر سے سونا ہے تو صبح دیر سے اٹھنا ہے تو پھر اس کے کام کاج کا حرج ہو گا اسے وہی صبح پریشانی ہو گی صبح ہی صبح جھوٹ بولنے پڑے گے بہانے لگانے پڑے گے تو جو لمبے عرصے کیلئے نقصان ہے اور یہ نقصان میں آپ کو بتاؤ چائے کافی سے بھی بالکل ہو گا۔ اگر کوئی شام کو چائے کافی پینا چاہے گا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے جسم کو یہ میسج دینا چاہ رہا ہے کہ وہ تھکا ہوا نہیں ہے اور اس کو نیند نہیں آ رہی ہے تو قدرتی نیند نہیں آئیگی کیونکہ بارہ گھنٹے اثر رہتا ہے چائے کافی کا تو رات کو وہ بڑی دیر سے سوئے گا اس کو سونے کا دل ہی نہیں چاہے گا اور اس سے وہ لائف میں گڑ بڑ کی سائیکل ٹریگر ہو گی اور جو بندہ رات کو دیر سے سوئے گا اور صبح دیر سے اٹھے گا نہ وہ خوش نظر آئے گا نہ خوش ہو گا۔ نہ اس سے لوگ خوش ہوں گے۔ نارمل سائیکل آپکی ڈسٹرب ہو جائیگی۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments