ٖفرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب، آج کل انیس بیس سال کے بچے بھی شراب نوشی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس بارے میں کیا کیا جائے؟

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہوں گا کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے یہاں جتنے بھی اچھے اسکول ہے انگلش میڈیم وہاں یہ بالکل عام دیکھنے میں آتا ہے کہ انیس سال کی عمر تک کثرت سے میچورٹی میں ڈرنکنگ اسٹارٹ کر چکے ہوتے ہیں اور اسکول میں اس بارے میں کسی قسم کا اہتمام نہیں کیا جاتا کہ شراب نوشی کے خلاف کوئی ایجوکیشن دی جائے۔ بلکہ اسکے برعکس کچھ ایسے پروگرام شام میں رہتے ہیں جس میں ڈرنکنگ ٹیچرز کے سامنے بھی ہو رہی ہوتی ہے اور اسٹوڈنٹ یہ جو سیکھتے ہیں ٹین ایج میں ارلی ٹین ایج میں یہ بہت بڑی وجہ بن جاتی ہے شراب نوشی کی کیونکہ ٹین ایج ڈرنکنگ جو ہے اسمیں سب سے زیادہ امکانات ہوتے ہیں الکوحلزم کے یعنی پانچ گناہ زیادہ چانسس ہوتے ہیں اگر کوئی ٹین ایج میں ڈرنکنگ شروع کرے گا تو اسکے الکوحلزم بننے کے چانسس دوسرے لوگوں سے پانچ گناہ زیادہ ہوتے ہیں سب سے پہلی بات ہے ان کو چاہیئے کہ ان کے والدین کو بتا دیں لیکن جب یہ والدین کو بتائیں گے تو والدین کو بہت برا لگے گا ان کا بتانا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ زیر عتاب ہوں گے جب یہ بات کریں گے ان کو جھٹکا پہلا ملے گا لیکن اگر آپ کسی کے ہمدرد ہیں تو آپ اپنا فکر نہیں کرتے دوسرے کا فکر کرتے ہیں۔
یہ جو ہمارے پاس موبائل فون ہے یہ بڑی کارآمد ڈیوائس ہے ہم جانتے ہے تو اس میں جب بھی آپ کسی کو ڈرنکنگ کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں جس کا ڈرنکنگ کا مسئلہ ہو تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کی ڈرنکنگ کے بعد ہوش میں آنے کے بعد اس سے جب آپ بات کرتے ہیں تو زبانی بات نہ کریں بلکہ ان کے سامنے وہ ویڈیو رکھ دیں اور اگر اپنے آپ کو کوئی ڈرنک کی حالت میں دیکھ لے تو اس کے طوطے اڑ جاتے ہیں اس کا بہت برا حال ہوتا ہے ایک جھٹکا لگتا ہے بہت احساس ہوتا ہے کیونکہ جو لوگ ڈرنکنگ میں بہت بری حالت میں تماشا بنے ہوتے ہیں تو بعد میں جب وہ اپنی ڈرنکنگ کے بارے میں خود سوچتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ اسوقت بڑی پرنسلیٹی بنی ہوئی تھی ان کی اور وہ بہت اچھا چل پھر رہے تھے اور بہت اچھا بول رہے تھے جب کہ وہ بہت ایسی عجیب و عریب چیزیں کر رہے ہوتے ہیں جس سے بہت تماشا لگا ہوا ہوتا ہے لوگ بعد میں جھجک کی وجہ سے اس کو فیڈ بیک بھی نہیں دیتے۔

فرح سعدیہ: اچھا ڈاکٹر صاحب اگر والدین کہ پتا چل بھی جاتا ہے تو آپ کوئی تجویز کریں گے کہ والدین کو کیا کرنا چاہیئے؟

ڈاکٹر صداقت علی: والدین کو خود کونسلنگ میں جانا چاہیئے کیونکہ یہ سب سے پہلا کام جو شروع ہو رہا ہے۔ اس کے بعد وہ خاموش ہو جاتے ہیں وہ روٹھ جاتے ہیں وہ منہ موڑ لیتے ہیں بچے سے اور بچے کو اس سے کافی سہولت ملتی ہے کہ پہلے کے نسبت آزادی مل جاتی ہے۔

فرح سعدیہ: تو وہ روٹھے ہم چھوٹے ۔۔۔۔

ڈاکٹر صداقت علی: جی ہاں تو یہ بات ہو جاتی ہے یہ اس میں سب سے پہلے والدین کو کونسلنگ میں جانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے غم و غصہ پہ قابو پا سکیں وہ ڈرنکنگ کے بارے میں سائنسی باتیں کر سکیں بجائے اسکے کہ وہ وعدہ لے کر بھول جائیں اس مسئلے کو تو یہ جو باتیں جو اب ہم کر رہے ہیں جس کے اندر ڈرنکنگ کے حوالے سے بہت ساری انفارمیشن ہے تو ہم پہلی بات پہ واپس آتے ہیں کہ جو ڈبلیو۔ایچ۔او پہلے کہا کرتی ہے وہ ڈرنکنگ تجویز کردہ ہوتی تھی
تو انہوں نے بتا دیا کہ اب وارننگ ہے لو رسک ڈرنکنگ کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کم رسک لیتے ہوے نظر آ رہے ہوں تو اس کا مطلب مرد دو ڈرنک عورت ایک ڈرنک لے رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کم رسک لے رہے ہیں۔

فرح سعدیہ: یہ بڑی تعداد ہے لوگوں کی جو کہتے ہے ہم کوئی زیادہ تو نہیں پیتے یہ ایک آدھ پیک مطلب تھوڑا سا۔

ڈاکٹر صداقت علی: ان کی زندگی غیر منظم ہو جاتی ہے غیر منظم زندگی ان کو زیادہ پینے پر مجبور کرے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments