ٖ ڈاکٹر صداقت علی: تو پہلے یہ جو لو رسک ڈرنکنگ جسے کہا جاتا ہے کہ اس میں ڈرائیونگ کر سکتے ہیں مگر سائنسدان کہتے ہیں کہ سیف ڈرائیونگ آپ صرف اس صورت میں کر سکتے ہیں کہ اگر آپ کہ بلڈ میں الکوحل کا لیول زیرو ہے۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب! ڈرائیونگ کرتے گاڑی کو ٹکر مار دی یا خود مر گیا یا مار دیا ایک وہ ہے دیکھیئے کتنی ڈسٹربنس خاندان میں ہوتی ہے ایک ایسا شحض جو شام کو دو تین پیک لگا لیتا ہے جس کا کسی کو پتہ بھی نہیں چل رہا صرف اسے یا گھر والوں کو پتہ ہے نہ وہ سو رہا ہے وقت پہ نہ وہ کھا رہا ہے وقت پہ نہ اس کے سونے بیٹھنے اٹھنے جاگنے کا معمول وہ ہے شام کو جب پورا اہل خانہ جس پورے دن کی روٹین کے بعد جس مینٹل لیول یا جس موڈ میں ہے اس کا موڈ اور ٹیمپرامنٹ سے فرق ہے نہ اس کا سونے کا دل چاہ رہا ہے یہ ایک تباہی ہے ٹوٹل ڈزاسٹر ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: کیونکہ اس کا موڈ مزاج کا فرق ہے ایلی ویٹڈ موڈ بہت اچھا ہے تو وہ اپنے گھر میں نہیں رہنا چاہے گا وہ باہر کسی ایسی جگہ پارٹی میں جانا چاہے گا جہاں دوسرے لوگوں کے ساتھ اسکا موڈ میچ کرتا ہے جب کوئی شام کو زیادہ پر اعتماد ہوتا ہے کیونکہ شراب پی کہ تھوڑا سا اعتماد زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے تو رسکی فیصلے کرنے لگتا ہے کیونکہ ہم خوشی میں زیادہ پر اعتمادی میں بہت رسکی فیصلے کرتے ہیں غلط فیصلے کرتے ہیں جس پہ بعد میں عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور اس حوالے سے میں یہ بات جو کر رہا ہوں کہ جو ’لو رسک ڈرنکنگ‘ ہے یہ بھی انسان کی زندگی کو غیر منظم بنا دیتی ہے اور جب بھی کوئی ڈرنکنگ کرتا ہے تو حقیقت میں اس کو ضرورت ہوتی ہے کونسلنگ کی۔ لیکن یہ الٹرنیٹ ٹو کاوٗنسلنگ ہے یہ جو ڈرنکنگ ہے یہ کاوٗنسلنگ کا الٹرنیٹ سمجھ کے زندگی میں ڈالتے ہیں جس میں کوئک فکس ہے ایک بٹن دباتے ہی سب کچھ صیحح ہو جاتا ہے جبکہ کاوٗنسلنگ میں آپ اپنے دماغ کی صلاحیتوں سے سب کچھ بہتر بنا سکتے ہے اور اس میں رسک کوئی نہیں ہے۔

فرح سعدیہ: میں نے بہت سارے لوگوں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ اس نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا اس لیے میں پیتا ہوں کیا ایسا بھی ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: یہ پھر آگے شروع ہوتا ہے پہلے جب ’لو رسک ڈرنکنگ‘ ہوتی ہے اور پھر گلے شکوے دوسرے لوگوں سے ہوتے ہیں اختلافات ہوتے ہیں کثرت سے ہوتے ہیں ہر کوئی چک چک کرتا ہے تو پھر ڈرنکنگ تھوڑی بڑھ کے تھری فور فائیو تک جاتی ہے تو اسکو ہم ’ہائی رسک ڈرنکنگ ‘کہتے ہیں پہلے تو میں بتاؤں کہ ڈرنکنگ میں جو ایک ڈرنک ہوتا ہے یہ پندرہ سی سی الکوحل ہوتی ہے چاہے وہ اتنی مقدار ہو لیکوڈ کی یا تھوڑی مقدار ہو پندرہ سی سی الکوحل اس میں ہے تو وہ ایک ڈرنک ہے۔ بییر میں لکوحل کی مقدار کم ہوتی ہے الکوحل کی جیسے سات فیصد لیکن اور مختلف قسم کی شرابیں جس میں پینتس چالیس پرسنٹ یا ا س سے بھی زیادہ مقدار ہوتی ہے تو یہ چیزیں ہوتی ہیں’ہائی رسک ڈرنکنگ‘ میں جب کوئی چلا جاتا ہے تو یہ اس وجہ سے جاتا ہے کہ Environmental cues and triggers پھر اس میں بہت ساری مائنڈ لیس ڈرنکنگ ہوتی ہے مائنڈ لیس ڈرنکنگ وہ ہوتی ہے جو اپنے ادارے سے کرتا ہی نہیں وہ دوسرے لوگ جو آفر کرتے ہیں کسی موقع پہ مہمان نوازی کے حوالے سے یا کوئی افسر اپنے ماتحت کو ڈرنکنگ آفر کرتا ہے تو منع نہیں کر سکتا تو اسے ہم مائنڈ لیس ڈرنکنگ کہتے ہیں پھر ڈرنکنگ کی ایک قسم ہے جسے ہم ڈمب ڈرنکنگ کہتے ہیں۔

فرح سعدیہ: اچھا ڈاکٹر صاحب افسر اگر ماتحت کو کہے کہ یہ گناہ کرو تو ماتحت نہیں کہہ سکتا کہ سوری اکیلے کرو۔

ڈاکٹر صداقت علی: بہت مشکل ہے ایک Assertiveness اگر کسی نے نہیں سیکھی ہوئی تو کسی افسر کو نہ کرنا شراب کے حوالے سے تو اس مطلب ہے کہ آپ ترقی نہیں چاہتے اس کا مطلب ہے کہ آپ زیر عتاب آ سکتا ہے کیونکہ جو لوگ شراب پیتے ہے وہ اسے اپنے ایمان کا درجہ دیتے ہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بے ایمان سمجھتے ہے جو شراب نہیں پیتے وہ پھر ان کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر پاتے ان کے ساتھ دوستیاں نہیں بنا پاتے تو ایسے لوگ جو شراب نہیں پیتے ان کی دوستیاں ان لوگوں کے ساتھ بننا خاصہ مشکل ہو جاتی ہیں جو شراب پیتے ہیں تو اس سے یہ ایک بہت بڑی کہاوت بھی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ شراب کو ایک سٹگما کی نظر سے بھی دیکھا جاتا ہے۔

فرح سعدیہ: اللہ تعالی نے بہت ساری چیزوں سے منع کر دیا ہے اس میں فائدہ بہت کم ہے آپ نے نہیں پینی یہ حرمت ہے حدود شراب یا کوئی نشہ والی چیز پی کر نماز پر نہ جاؤ نماز وہ چیز ہے کہ ہر حال میں پڑھنا لازمی ہے شراب اور نشہ والی چیز کے ساتھ آپ نماز کے قریب بھی نہ جاوٗ۔ آپ کی نماز آپ اپنے پاس رکھو۔

ڈاکٹر صداقت علی: آپ جو بھی کہہ رہی ہیں وہ درست ہے لیکن ہم ایک ڈاکٹر کے نقطہ نظر سے ایک سائنس کے حوالے سے ہم جب بات کر رہے ہیں تو ہم عموما لوگوں کو سائنٹفک فیکٹ سے آگاہ کرتے ہیں اور اس میں مورال ویوز مکس نہیں کرتے کیونکہ جن لوگوں کو شرا ب کا مسئلہ ہے۔

فرح سعدیہ: لیکن میں آپ کو بتاؤں اگر اخلاقی طور پر جس دن ہم نے بڑا اچھا فیصلہ کیا جیسا کہا گیا ہے جناب رات کو ٹن ہو کے اس میں حدیث بھی قرآن بھی ہے فلسفہ بھی ہے بڑا اچھا صحیح فیصلہ سنا یا گیا ہے رات کو ٹن ہو گے بڑی اچھی پالیسی بنائی گئی ہے رات کو ٹن ہو کے تو جب تک ہم اس اخلاقی برائی کو برا سمجھنا برا کہنا نہیں شروع کریں گے ہم ان لوگوں سے پا ک نہیں ہو سکیں گے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے پہلی بات تو یہ ہے جو کچھ آپ کہہ رہی ہیں ایسے ہوتا ہے لیکں اگر آپ کسی کو شراب کے معاملہ میں کوئی مدد دیتے ہیں تو آپ مذمت کر کے یا اس طرح کی بات کر کے یا فتو ی دے کہ نہیں کر سکتے آپ کو کسی سے بات چیت کا آغاز کر نے کیلئے ایسا انداز اختیار کرنا پڑے گا جو دوسرے کیلئے قابل قبول ہو جو دوسرے وصول کرے جو بات کہہ ہے وہ سن سکے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments