فرح سعدیہ: سہیل صاحب آپ سے کچھ پوچھنا چاہ رہے ہے جی اسلام علیکم سہیل صاحب کیسے ہیں فرمائیے!

کالر: اسلام علیکم جی میں ڈاکٹر صاحب سے بات یہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ اگر شراب جو ہے اس سے ہماری جسم پہ کیا اثرات ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ ہمارے معدہ پر کیا اثرات ہیں باقی پھپیھڑے، گردہ ٹھیک ہے ان کے علاوہ اگر یہ خطرناک ہے تو پھر بھی ہمارے ملک میں اسلام میں اس کی ممانیت بھی ہے لیکن پھر بھی ہمارے یہاں یہ اتنی کھلے عام یہ استعمال ہو رہی ہے کہ اس کو روکنا جو ہے وہ نا ممکن سا لگ رہا ہے دیکھیئے ہم چھوٹے چھوٹے شہروں میں میرا تعلق ایک چھوٹے سے قصبہ سے ہے یہاں تک یہ عام ہو گئی ہے کہ شراب بنیادی طور پر شراب ہے اور دوسرا ایک ھومیو پیتھک میڈیسن ہے جو ہومیو پیتھک میں استعمال ہوتی ہے وہ بھی لوگ شراب کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اس کو کوپی کے نام سے جانا جاتا ہے کہ کوپی دے دے جی دو سو ڈھائی سو میں عام سیل ہو رہی ہے اور یہاں سولہ سال پندرہ سال کا بچہ بھی اس کو ڈرنک کرتا ہے اور ان کا موقف یہ ہے کہ جی ہماری خوراک اچھی ہضم ہوتی ہے ہماری چہرہ کی رنگت لال ہو جاتی ہے اس کو پینے سے۔ گوشت کھاتے ہیں تو ہماری باڈی میں انرجی بہت زیادہ آتی ہے ہمارے چہرہ کا رنگ بالکل سرخ ہو جاتا ہے تو کیا یہ فیکٹ واقعی ہے یا نہیں ہے ہمارے معاشرہ کی یہ حالت دیکھ کہ رونا آتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: جیسا کہ ہم بات کر رہے تھے کہ لو رسک ڈرنکنگ اس سے زندگی غیر منظم ہوتی ہے اور اس سے زیادہ یعنی دو تین ڈرنک سے زیادہ جو بھی پئے گا تو وہ بیماریوں کو دعوت دے گا اور ایسی بیماریوں کی تعداد تین سو چوبیس ہے۔

فرح سعدیہ: دو تین ڈرنک سے کم بھی اگر پئے گا ڈاکٹر صاحب جس بندہ کی گھریلو زندگی نہیں ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: وہ غیر منظم زندگی جس کے اثرات جو ہیں وہ معاشرتی طور پر پڑے گے معاشرت پر پڑیں گے اور جب اس سے زیادہ کوئی کرے گا تو اس کو پھر باقاعدہ جسمانی بیماریوں کا سامنا پڑے گا سیروسس کی بات آپ سنتے ہیں فیٹی لیور کی آپ بات سنتے ہیں دل کی بیماریاں بلڈ پریشر یہ ساری چیزیں ہائی کولیسڑول یہ ساری چیزیں جو ہیں شراب سے ہوتی ہیں لیکن شراب ہمارے ساتھ دس ہزار سال سے ہے اور یہ عرب میں ایجاد ہوئی تھی اور یہ قدرتی طور پر بنتی تھی اور لوگ اسے مختلف ادوار میں استعمال کرتے رہے مختلف مقاصد کیلئے جیسے کسی زمانہ میں اسے سردی کیلئے بھی استعمال کیا جاتا تھا لیکں تو اب سردی کیلئے آپ کے پاس کمبل ہے ہیٹر ہے گرم کپڑے ہیں اور ابھی اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ماڈرن ہونے کی نشانی یہ ہے کہ وہ شراب پیتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ شراب تو دس ہزار سال پرانی چیز ہے تو ہر وہ شخص جو شراب پیتا ہے تو وہ ماڈرن ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا ماڈرن ہونے کی نشانی یہ ہے کہ آپ اپنی لائف کی تنطیم نو کریں آج کے تقاصوں کے مطابق آپ کاوٗنسلنگ کے لیے جائیں اور اپنی سٹریس کو دور کرنا سیکھیں۔

فرح سعدیہ: وہ یہ کہہ رہے ہیں نظام ہضم درست ہو جاتا ہے خوراک ہضم ہو جاتی ہے چہرہ کی رنگت لال ہو جاتی ہے اور لالی لوگوں کو بڑی اچھی لگتی ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: کوئی نظام ہضم اس سے ٹھیک نہیں ہوتا نظام ہضم اس سے خراب ہوتا ہے انسان کا معدہ شراب کے Irritent کو برداشت نہ نہیں کر سکتا یعنی انسان کے معدہ میں باقادہ سوجن ہوتی ہے جو لوگ نئی نئی ڈرنکنگ شروع کرتے ہے ان کا معدہ انکو وامنٹنگ کر کے بتاتا ہے کہ یہ چیز پسند نہیں لیکن جب وہ اسے ڈھٹائی سے استعمال کرتے رہتے ہیں تو معدہ بھی ڈھیٹ ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے آقا کے پیچھے چلتا ہے یعنی آپ کے پیچھے چلتا ہے لیکن وہ اندر اندر بیمار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا! ایک دفعہ انجنئیرنگ یونیورسٹی میں فنکشن تھا تو انہوں نے مجھے انوائٹ کیا۔ وہاں پہ یقین کریں حالت یہ تھی کہ وہ سب تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد جا رہے تھے کسی کارنر میں کسی سائیڈ میں اور لگا کر آ رہے تھے اور میں کہہ رہی تھی کہ یار یہ مستقبل کے معمار ہیں مطلب انک ے ہاتھوں سے پل اور برج کیا بننے ہیں جو اپنے آپ کو نہیں بنا پا رہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے اکثر اسی طرح ہوتا ہے کہ شراب کی مقدار کو ایک خفیہ جگہ پر رکھا جاتا ہے پارٹیز میں تو اس کا مطلب ہے کہیں ان کے دماغ میں یہ خیال ہوتا ہے کہ کوئی کام ہم ٹھیک نہیں کر رہے تو اس طرح جو مختلف قسم کی ڈرنکنگ ہے جن پر ہم نے بات کی تو ایک ہارم فل ڈرنکنگ ہوتی ہے یعنی جس سے ہارم سامنے آتے ہیں اب ہم وہ الکوحلزم کا لفظ زیادہ استعمال نہیں کرتے کیونکہ وہ ایک محدود طبقہ کو ہوتی ہے اور جب ہم Alcoholism کا لفظ زیادہ استعمال کرتے ہیں تو لاگ پوٹ آف ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم اپنی آپ پر کوئی ذمہ داری لینا نہیں چاہتے ہم اپنی موٹاپے کی ذمہ داری نہیں لیتے ہم کہتے کپڑے چھوٹے ہو گئے ہیں ہم کبھی نہیں کہتے میں موٹا ہو گیا ہوں تو اسی طرح کوئی گلاس ہم سے ٹوٹ جائے تو ہم یہ کبھی نہیں کہتے کے یہ گلاس ہم نے توڑا ہے ہم کہتے ہیں کہ یہ ٹوٹ گیا ہے تو اسی طرح جب ہم کسی کو کہتے ہیں کہ یہ الکوحلک ہے یا پرابلیم ڈرنکر ہے تو وہ نہیں مانے گا اگر آپ پوچھتے ہیں کہ آپ کو کیا مسائل پیش آ رہے ہیں ڈرنکنگ کے مسئلے پہ تو وہ کافی مسائل بتائیں گے لیکن اگر آپ کہیں کی آپ پرابلم ڈرنکر ہے یا آپ شراب کو ایبوز کرتے ہیں تو وہ نہیں مانیں گے۔ اگر آپ کہیں گے کے آپ شراب پہ ڈیپینڈنٹ ہے آپ کی زندگی کا دارومدار یا آپ کی زندگی شراب کے ادر گرد گھوم رہی ہے تو یہ نہیں مانیں گے بہت سا وقت شراب پہ لوگ خرچ کر رہے ہوتے ہیں ان کو پتہ نہیں چلتا کیونکہ آہستہ آہستہ آنے والی تبدیلیوں کو ہم محسوس نہیں کر پاتے۔ ہارم فل ڈرنکنگ وہ ہے جس سے نقصان ہوتا ہے جیسا کہ ہارم فل ایٹنگ کو پہلے اوور ایٹنگ کہا جاتا تھا obesity کہا جاتا تھا اب اسے وہ نہیں کہا جاتا اب ہارم فل ایٹنگ کہا جاتا ہے جو کھانے سے نقصان ہو اسے ہارم فل ایٹنگ کہیں گے۔

فرح سعدیہ: اب ہارم فل ڈرنکنگ کا مطلب ہے کتنی ڈوز کی آپ بات کر رہے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: ہارم فل کا مطلب یہ ہے کہ مرد کیلئے دو ڈرنک سے زیادہ جو بھی ہے وہ ہارم فل ہیں اور دو ڈرنک سے کم جتنا بھی ہے وہ لو رسک ہیں۔ اچھا اب آپ اپنی زندگی میں کتنے رسک لینا چاہتے ہیں یہ آپ کی اپنی مرضی پر ہے اور اکثر کسی کی مثال دے کر کہتے ہیں کہ دیکھو وہ شراب پیتا ہے وہ سگریٹ پیتا ہے اس کی کتنی لمبی عمر ہیں تو بات یہ ہے کہ آپ exceptions کے پیچھے نہیں چلتے، کوئی exception ہو سکتا ہے پر آپ تو اصولوں کے پیچھے چلتے ہیں لوگ بہت دفعہ لال بتی کاٹتے ہیں اور انہیں کچھ بھی نہیں ہوتا لیکن کیا آپ ان کے پیچھے چلیں گے یا آپ ان کے پیچھے چلے گے جو زندگی میں زیادہ رسک نہیں لینا چاہتے ضروری نہیں ہے جو زندگی میں شراب پئے گا یا سگریٹ پئے گا وہ فورا ہی پھڑک کے مر جائے گا ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا اگر کسی کو پتہ ہو کہ اگلا ڈرنک پینے سے میں مر جاؤں گا تو اگلا ڈرنک وہ کبھی بھی نہیں پئے گا۔ زندگی میں ذیادہ تر جو ہے وہ دوسرے لوگ کہتے رہتے ہیں وہ بے شک کہتے رہیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک کہ انکا دل نہیں کہتا اسلئیے جب بھی ہم کسی سے بات کرتے ہیں تو ہم الفاظ کے چناؤ بہت سوچ سمجھ کہ کرتے ہیں اور ٹھنڈے طریقہ سے مناسب وقت میں بات کرتے ہیں جب کوئی دوسرا بات سننے کی پوزیشن میں ہو۔ زیادہ تر لوگ کسی سے شراب کے بارے میں بات کرتے ہیں جب کوئی شراب پی رہا ہوتا ہے تو بات کرنی چاہئے شراب پینے سے پہلے یا شراب پینے کے بعد جب اثرات اتر جاتے ہیں تب کسی بات ہوتی ہیں۔

فرح سعدیہ: شراب پینے کے تقریبا آتھ نو دس گھنٹے بعد جب وہ ہینگ اوور سے بھی نکل گیا ہوتا ہے؟

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments