فرح سعدیہ: آج ہم ولنگ ویز کے سی۔ای۔او ڈاکٹر صداقت سے کچھ باتیں کریں گے جو ہر گھر میں بلکہ ہر دوسرے گھر میں عام مسئلہ ہے شراب نوشی کا، اس سے پیدا ہونے والے مسائل کیا ہیں اور کسطرح ان پر قابو پایا جائے۔ السلام علیکم !

ڈاکٹر صداقت علی: وعلیکم السلام

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب یہ جو شراب نوشی کے مسائل ہیں ان پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیے! ہم شراب نوشی کی بات کریں تو ہمارا یہ تصور ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ ہمارے ہاں زیادہ نہیں ہوتا ہے۔ لیکن ایسی بات نہیں ہے۔ یہ مسئلہ اب امریکہ سے زیادہ ہے یہ بڑی عجیب بات ہے۔ اب بہت ہی سادہ سی بات ہے ۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں امریکہ کی نسبت زیادہ تعداد میں لوگ اب شراب پیتے ہیں۔ ویری سٹرینج۔ بہت سے لوگ شاید مجھ سے اتفاق نہ کریں۔ لیکن یہ اعدادو شمار ہیں اور یعنی آپ یہ سجھ لیں کہ % 46 لوگ امریکہ میں اب ایسے ہیں جنہوں نے زندگی میں کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا۔ % 10 وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی شراب پی اور پھر چھوڑ دی تو یہ % 56 ٹوٹل بنتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ میں وہ لوگ شراب نہیں پیتے جو اعلی عہدہ پر فائز ہیں۔ مثلاً امریکہ میں اگر آپ بیوروکریٹ کے بارے میں عام طور پر سوچیں تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ شراب نہیں پیتا ہو گا یا سیاست دانوں کے بارے میں سوچ آئے تو آپ سوچیں گے کہ یہ شراب نہیں پیتا ہو گا یا کوئی جنرل، کوئی ڈاکٹر، کوئی پولیس والا، انجینئر۔