فرح سعدیہ: جناب ڈاکٹر صاحب کی کہانی، آپ کی جنت اور دوزخ۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیے! ہم دنیا میں اکثر دنیا کا ذکر کرتے ہیں یا پھر جنت کا ذکر کرتے ہیں یا دوزخ کا۔ یہ تو ایک کہانی ہے۔ ایک بڑے میاں کا دل چاہا کہ جنت یا دوزخ میں جانا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ پہلے جنت اور دوزخ کا ماحول دیکھ لیا جائے۔ جنت اور دوزخ ہوتا کیا ہے؟ تو انہوں نے کچھ لوگوں سے فرمائش کی کہ مجھے کسی طریقے سے جنت یا دوزخ کا نمونہ دکھا دیا جائے تو ایک سیانے نے حامی بھری اور ان کو ساتھ لے کر چلا گیا۔ سب سے پہلے وہ دوزخ میں گئے اور دوزخ کا منظر دیکھا جو کہ ایک بڑی سی ٹیبل پر لوگ آمنے سامنے بیٹھے ہیں اور ٹیبل پر انواع و اقسام کے کھانے چنے ہیں اور رنگ رنگ کے پکوان ہیں جن میں سے بڑے مزے کی خوشبوئیں اٹھ رہی ہیں۔ لیکن پھر بڑے میاں نے دیکھا کہ وہ جو لوگ بیٹھے ہیں، وہ بہت کمزور ہیں اور ان کے رنگ پیلے پڑے ہوئے ہیں۔ وہ نحیف و نظار ہیں، ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے ہوئے ہیں تو وہ حیران ہوا کہ یہ لوگ اتنے اجناس کی موجودگی میں، کھانے پینے والی چیزوں کی موجودگی میں اتنے کمزور کیوں ہیں؟ یکایک اس کی نظر پڑی کہ ان سب کو چھ، چھ فٹ لمبے چمچے فراہم کیے گئے تھے، جن سے کھانا کھانا تھا اور قدرتی طور پر چھ فٹ لمبے چمچ سے وہ کھانا اپنے منہ میں نہیں ڈال سکتے لہٰذا وہ بھوکے پیاسے بیٹھے ہوئے تھے۔ تو بڑے میاں نے اس سیانے کو کہا کہ اچھا مجھے اب تم نے یہ دوزخ کا نمونہ دکھایا ہے تو مجھے اب ذرا جنت کا نمونہ بھی دکھا دو تو وہ اس کو لے کر جنت میں چلا گیا۔ جنت میں جب وہ گیا تو وہاں بھی وہی منظر تھا کہ ایک بہت بڑی ٹیبل ہے، لوگ آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں اور وہاں بہت کھانے ہیں، پکوان ہیں، خوشبوئیں اٹھ رہی ہیں لیکن جب اس کی نظر لوگوں پر پڑی تو وہ بہت تگڑے تھے، صحت مند تھے، ان کے سرخ وسفید رنگ تھے اور وہ مسکرا رہے تھے تو پھر اس نے غور سے دیکھا تو ان کے پاس بھی چھ، چھ فٹ لمبے چمچے تھے۔ اچانک اس نے دیکھا کہ ایک صاحب نے اپنا ایک چمچ اٹھایا اور ایک پلیٹ میں سے کچھ کھانا لے کرسامنے بیٹھے ہوئے دوسرے اپنے ساتھی کے نزدیک چمچہ کیا کہ وہ اس میں سے کچھ کھا لے، تو اس نے وہ چمچے سے کھانا کھا لیا اور وہ مسکرا دیا، شکریہ ادا کیا۔ پھر اس نے اپنا چمچہ اٹھایا اور اسی طرح اپنے سامنے والے کے منہ میں ڈالا۔ تو بڑے میاں ایک دم سن کر بڑے حیران ہوئے۔ کہتے، مجھے واپس دوزخ میں لے جاؤ تاکہ میں ان لوگوں کو بتا دوں کہ تم لوگ بے بس نہیں ہو، تم اپنے آپ کو نرِش کر سکتے ہو۔ تم اپنی پرورش کر سکتے ہو۔ وہ اسے لے کر واپس چلا گیا ادھر تو جب وہاں گیا تو جا کہ اس نے دیکھا کہ وہ اسی طرح بیٹھے ہوئے ہیں، مایوسی کی حالت میں۔ تو وہ ان سے مخاطب ہوا ایک سے اور کہا کہ تم بے بس نہیں ہو، تم چاہو تو اپنے یہ چمچے سے یہ سامنے والے اپنے ساتھی کو کھانا کھلا دو۔

فرح سعدیہ: ایک دوسرے کو کھانا کھلا سکتے ہو۔ ہاں

ڈاکٹر صداقت علی: تو اس نے کہا یہ تم کیا کہہ رہے ہو، میں اس گھٹیا، ذلیل انسان کو کھانا کھلاؤں۔ میں خود بھوکا مر جاؤں گا لیکن اس گھٹیا، ذلیل انسان کو کبھی کھانا نہیں کھلاؤں گا۔ یہ میری طرف سے تڑپ تڑپ کر مر جائے، چاہے اس عمل میں، میں بھی مر جاؤں لیکن اس کے لیے میں کچھ نہیں کروں گا۔ اگر آپ دیکھیں گھروں میں ہر گھر میں ماحول ایسا بنا ہوا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو گھٹیا، ذلیل، بے غیرت اور پتا نہیں کیا کیا کہتے ہیں کہ وہ۔۔۔۔۔۔۔ ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ دوسرے لوگ بہت برے ہیں تو وہ اس چیز کو قبول کر لیتے ہیں چاہے خود ان کی اپنی بھی بے عزتی ہو اور جگ ہنسائی ہو۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جو میرا ٹارگٹ ہے، وہ میرا دشمن ہے، اس کو تو میں تباہ کر دوں گا۔