مشکل حالات میں کی جانے والی گفتگو کا ایک اہم جز یہ ہے کہ اس میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ جذبات بھڑکے ہوئے ہیں، دریا بپھرے ہوئے ہیں، کناروں سے باہر بہنے کے لئے تیار ہیں اور لگتا ہے کہ کوئی بم پھٹے گا، پہلے سے ہی فضاء میں سراسمیگی ہوتی ہے اور تیسرا جزو اس میں یہ ہے کہ نفع نقصان کافی اُونچے درجے کا ہوتا ہے۔ اس میں ایک اور چیز بھی کام نہیں کرے گی اُسے ہم کہتے ہیں خاموشی یعنی اگر آپ کوئی بات سنتے ہیں اور ٹُک ٹُک دیکھتے رہتے ہیں تو دوسرا بندہ کہتا ہے کہ میں کوئی عرض کیتی سی۔ جب میں تھوڑا سا سنبھلا اور میں نے زمین پر گرا ہوا اپنا سیل فون اُٹھایا تو دراصل جو پوسٹ میں اس پر دیکھنا چاہ رہا تھا وہ پوسٹ یہ تھی کہ سیل فون بھی بہت بڑا پنگا ہے یہ بات سمجھ آئی ہے؟

ایک ریسرچ ہے جس میں میاں بیوی کو ریسرچ کا نشانہ بنایا گیا اور سینکڑوں میاں بیوی کو جن کا آپس میں بہت جھگڑا رہتا تھا اُن سے پوچھا گیا تو ان میں سے 90 فیصد لوگوں نے بتایا کہ قصور سارے کا سارا دوسرے کا ہے۔ یاد رکھیں کہ احتجاج کبھی ضائع نہیں جاتا۔ اگر آپ احتجاج کرتے ہیں، اپنے جذبات کو بیان کرتے ہیں تو ہمیشہ یاد رکھیئے کہ اس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ آپ کسی کو کوئی بات کہہ دیں تو آپ دیکھیں گے کہ مستقبل میں اُس کا رویہ تھوڑا سا مختلف ہو کر سامنے آئے گا۔ جب ہم جذبات کی زبان بولنا سیکھ لیتے ہیں تو ہم بہت سے دکھوں سے آزاد ہو جاتے ہیں لیکن جذبات کی زبان سیکھیں گے تو ہی بولیں گے یہ خود سے نہیں آتی۔ اس کی علیٰحدہ لغت ہے۔ دنیا میں کوئی نیا ملک بنتا ہے تو اس کی سب سے پہلی خواہش کیا ہوتی ہے؟ آپ اندازہ کریں کہ ملک جو ایک حقیقت ہوتے ہیں، جیتی جاگتی حقیقت ہیں، جہاں لاکھوں کروڑوں انسان رہتے ہیں جب وہ آزاد ہوتے ہیں اور ایک نیا ملک بناتے ہیں تو ان کی سب سے پہلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ کون ملک ہے جو انھیں سب سے پہلے تسلیم کرے گا اس کو وہ کبھی نہیں بھولتے۔ ایڈکشن یعنی علتیں دنیا میں اس لئے بڑھ رہی ہیں کہ وہ وقتی طور پر جذبات کی تسکین کرتی ہیں۔ کاش ہم صحیح طریقوں سے اپنے جذبات کی تسکین کر لیں تو ہمیں ایڈکشنز کی کبھی ضرورت ہی نہ ہو۔ ایک وقت میں جب ہم زیادہ کام کرتے ہیں تو ہم اچھا کام نہیں کرتے لہذٰا جواب تیار نہیں کرتے۔ اس موقع پر صرف سنتے ہیں کہ وہ کہہ کیا رہا ہے، الفاظ کیا ہیں اور اس کے جذبات کیا ہیں اور اس کی ضروریات کیا ہیں اور آپ پھر اس کی جگہ ہو کر سوچیں پر پھر بھی آپ جواب تیار نہ کریں۔ جب آپ بات اچھی طرح سے سن لیتے ہیں تو آپ دوسروں کو صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ میں جو آپ کی تکلیف دیکھ رہا ہوں بہت زیادہ ہے آپ کو مجھ سے بہت زیادہ شکایات ہیں اور ایسا مجھے آپ کے چہرے اور الفاظ سے لگ رہا ہے کہ آپ اس وقت کافی پریشان ہیں۔ مجھے کچھ وقت دیں کہ میں اس پر غور و فکر کروں تو کیوں نہ ہم اس پر کل صبح 10 بجے بات کر لیں۔ اگر اس نے آ کر کہا نہیں تو آپ خود سے مشکل گفتگو کا آغاز کر سکتے ہیں۔ مشکل حالات میں کی جانے والی گفتگو یعنی وہ باتیں ان لوگوں کے درمیان میں ہوتی ہیں جو بہت ہی آسا ن رشتے میں ہوتے ہیں، جو آسان تعلقات میں ہوتے ہیں جیسے ماں باپ اور بچے، میاں بیوی جن کے آپس میں مفادات بھی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو ماضی میں مدد بھی کرتے رہے ہوں تو یہ سوکھے تعلقات میں اور بھی باتیں ہو جاتی ہیں جب جذبات اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اس میں بنیادی عنصر یہ ہوتا ہے کہ آپ کے خیالات نہیں مل رہے ہوتے یعنی آپ کے اندر مختلف رائے ہوتی ہے یعنی وہ چیز جس میں اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ اس کا ایک جزو یہ ہے کہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ جذبات بھڑکے ہوئے ہیں، دریا بپھرے ہوتے ہیں، کناروں سے باہر بہنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اور لگتا ہے کہ کوئی بم پھٹے گا، پہلے سے ہی فضاء میں سراسیمگی ہوتی ہے اور تیسرا جزو اس میں یہ ہے کہ نفع نقصان کافی اونچے درجے کا ہوتا ہے یعنی بات معمولی نہیں ہے ایسا لگتا ہے کہ کوئی بہت بڑا نقصان ہو جائے گا، ناقابل تلافی نقصان ہو جائے گا لہذٰا جو اپنی گفتگو ہوتی ہے اُسے مشکل گفتگو کہتے ہیں۔ انشا اﷲ کبھی اس پر بھی زیادہ روشنی ڈالیں گے کہ اسے شروع کیسے کرتے ہیں اور اختتام کیسے کرتے ہیں اور اسے پھر دوبارہ کیسے شروع کرتے ہیں۔ دیکھیں ایک بات جو آپ نے کہی، اُسی کے زمرے میں یہ بھی ہے کہ جب کوئی آ جاتا ہے اور تنقید کرتا ہے تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب کوئی آ کر توہین بھی کرنا شروع کر دیتا ہے تو پھر آپ اندازہ کر لیں کہ جذبات بہت ذیادہ خراب ہیں۔ جب توہین آمیز رویہ بھی ساتھ ہوتا ہے تو جو رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں وہ بیٹھ جاتے ہیں اور اس کے بعد آپ کا بہت دل چاہتا ہے کہ صفائی دے دیں تو پھر موقع بھی نہیں آئے گا تو آپ بتا دیں کہ میرا کوئی قصور نہیں جو جلتی پر تیل ڈالنے والی بات ہے۔ اگر آپ سننے کی طرف ہیں تو کام نہیں کریں گے اگر آپ اگر سن رہے ہیں تو ایک اور چیز بھی کام نہیں کرے گی اُسے ہم کہتے ہیں خاموشی یعنی اگر آپ کوئی بات سنتے ہیں اور ٹُک ٹُک دیکھتے رہتے ہیں تو دوسرا بندہ کہتا ہے کہ میں کوئی عرض کیتی سی۔

ایک تو یہ کہ آپ نے اپنا دفاع نہیں کرنا خود اور اپنا کوئی وکیل بھی کھڑا نہیں کرنا جو کہ آپ کا دفاع کرے آپ سوچنے کے لئے وقت لے سکتے ہیں کیونکہ اس وقت آپ کو سوچنے کی ضرورت ہو گی کیونکہ جب ہمارے ساتھ تازہ تازہ کوئی واقع ہوا ہوتا ہے تو ہمیں ذرا سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ابھی پرسوں رات کی ہی بات ہے کہ میں چہل قدمی کر رہا تھا واک کرتے کرتے بڑے مزے سے میں جا رہا تھا تو ایک دم مجھے لگا کہ پتہ نہیں کیا ہوا کہ میں آگے جا کر سڑک پر جا گرا کیونکہ میرے پاؤں میں ایک بیرئیر تھا جو آرمی والوں نے نیچے کر کے لگایا ہوا تھا۔ جب میں آگے جا کر گرا تو پہلا خیال مجھے یہ آیا کہ یہ رکاوٹ لگانا کتنی غلط بات ہے۔ دوسرا مجھے خیال آیا کہ میرا پرسوں کا دن بہت اچھا گزرا تھا۔ میرے بچپن کے دو دوست آئے تھے انہیں مجھ سے کوئی کام تھا۔ کئی سال کے بعد بہت اچھا وقت گزرا اور انہوں نے میری کافی تعریف کی انہوں نے کہا کہ آپ ایسے ہوتے تھے، خوبصورت ہوتے تھے تو مجھے لگا کہ نظر لگ گئی ہے جب میں تھوڑا سا سنبھلا اور میں نے زمین پر گرا ہوا اپنا سیل فون اُٹھایا تو دراصل جو پوسٹ میں اس پر دیکھنا چاہ رہا تھا وہ پوسٹ یہ تھی کہ سیل فون بھی بہت بڑا پنگا ہے یہ بات سمجھ آئی ہے؟ کیونکہ میں سیل فون لے کر چل رہا تھا، قصور میرا تھا۔ جب ہم تھوڑا سا اپنے آپ کو موقع دیتے ہیں کہ مجھے اس حوالے سے سوچنے دیں شائد میری طرف سے کوئی غلطی ہو سکتی ہے۔ جب آپ اس طرح کی بات کرتے ہیں اپنے خاوند سے یا بیوی سے یا ماں باپ سے یا اولاد سے کہ مجھے سوچنے دیں تو دوسرے بندے کے پاس کوئی جواب نہیں رہتا کہ نہیں میں نے تمہیں ابھی سزائے موت دینی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اچھا سوچ لو پھر تو اس طرح تھوڑا سا وقت گزرنے میں آپ کو بات سمجھ میں آنے لگتی ہے کہ کسی نہ کسی جھگڑے میں کچھ نہ کچھ ہمارا ہاتھ تو ہوتا ہی ہے اگرچہ بظاہر لگتا ہے کہ سارے کا سارا دوسرے کا ہاتھ ہے۔

ایک تحقیق کی گئی جس میں جس میں میاں بیوی کو ریسرچ کا نشانہ بنایا گیا اور سینکڑوں میاں بیوی کو جن کا آپس میں بہت جھگڑا رہتا تھا اُن سے پوچھا گیا تو ان میں سے 90 فیصد لوگوں نے بتایا کہ قصور سارے کا سارا دوسرے کا ہے تو یہ سب وہ لوگ تھے جن کا گھریلو جھگڑا چل رہا تھا یعنی میاں بیوی کا جھگڑا۔جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں قصور صرف آپ کے شریک حیات کا ہے یا آپ کا بھی کوئی قصور ہے تو 95 فیصد نے کہا کہ نہیں اس میں کوئی شک کی بات نہیں ہے کہ قصور سارا میرے شریک حیات کا ہے تو یقینی طور پراس تحقیق میں وہ دونوں لوگ تھے اس جو کسی مسلئے کا حصہ تھے اور سب نے قصور دوسرے پر ہی ڈالا۔ ہم بات کر رہے تھے جذبات کی۔ اگر ہم جذبات کو صرف تسلیم کر لیں کیونکہ تاریخی طور پر جذبا ت کو تسلیم کبھی بھی نہیں کیا گیا پہلے انسان ویسے ہی بات نہیں کیا کرتا تھا بغیر بات چیت کئے انسان نے لاکھوں سال گزار دیئے اور ابھی یہ کوئی 10 یا 12 سال سے انسان نے بات کرنا شروع کی ہے اور ابھی انسان کی لغت کافی نامکمل ہے اور جذبات کے حوالے سے ہماری لغت کافی ہی کم ہوتی ہے کیونکہ ہمارے گھروں میں جذباتی الفاظ کا استعمال کوئی نہیں ہوتا۔ ہمارے گھروں میں ضرورت کے مطابق الفاظ استعمال ہو رہے ہوتے ہیں جسے ہم ماں بولی کہتے ہیں۔ اس میں کچھ ضرورت کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں جو معاشرے میں بھی استعمال ہو رہے ہوتے ہیں لیکن کچھ ایسے الفاط بھی ہوتے ہیں جو عموماََ گھر میں بولے جاتے ہیں ان میں کوئی جذباتی الفاظ نہیں ہوتے اور جذبات بے شمار ہیں ابھی تک جذباتی الفاظ 256 ایجاد کئے گئے ہیں جو کہ ہمارے جذبات کو اچھی طرح سے اجاگر کرتے ہیں لیکن بنیادی طور پر میں ناراض ہوں، میں خوش ہوں، میں افسردہ ہوں، میں ڈرا ہوا ہوں یہی چار پانچ بار بار آتے ہیں اور ان کے الفاظ کے معنی ہم اچھی طرح سے سمجھ لیں اور ان کی اہمیت کو سمجھ لیں، ہم یہ اچھی طرح پہچان لیں کہ یہ معمولی چیز نہیں ہے، معمولی طاقت نہیں ہے جو ہمارے اندر طغیانی کی طرح چلتی ہے اگر ہم الفاظ کو محض الفاظ سمجھیں تو جذبات کو جو الفاظ ہمارے تک پہنچاتے ہیں ان کو ہمیں بہت اہم سمجھنے کی ضرورت ہے سو اگر میں یہاں آپ سے پوچھوں کہ اس وقت آپ کیا محسوس کرتے رہے ہیں تو آپ کیا کہیں گئے؟ ایک ایک کر کے بتایئے گا! آپ کیا محسوس کر رہے ہیں۔
۰)ہلکا
۰)پرسکون
۰)اچھا

اچھا پورا پورا فقرہ بولیں!جی آپ
۰)ایسا لگ رہا ہے کہ کافی چیزیں تھیں جو میرے دماغ میں تھیں
۰)اچھا لگ رہا ہے
۰)آئی تھی تو بہت زیادہ پریشان تھی، خوفزدہ تھی لیکن اب خوش ہوں۔
۰)میں بہت خوش رہتی ہوں
۰)خود کو پرسکون محسوس کرتی ہوں۔

اچھا میرے پاس سب ہی لوگ آتے ہیں جو خوش باش ہیں اس کا مطلب ہے۔ گڈ لک ٹو می۔
جی آپ کچھ بتایئے گا کہ کیسا محسوس کر رہی ہیں احساسات کیا ہیں غصہ ہے یا غم ہے یا بے چینی ہے۔ جو ہے وہ بتایئے۔
اچھا عمر آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں افسردہ محسوس کر رہے ہیں یا بے چین؟
۰)بے چین

ہا ہا ہا! جی آپ بتایئے
۰)میں سکون میں ہوں لیکن آپ نے ابھی نظر والی بات کہی تو میں بے چین ہو گئی کہ کہیں نظر نہ لگ گئی ہو۔
اچھا! مجھے نظر نہیں لگی!میں آپ کو پکا بتاتا ہوں کہ مجھے با لکل نظر نہیں لگی۔میں خود بہت بڑا نظر بٹو ہوں!
ہا ہا ہا!

نہیں وہ کوئی ایسی بات نہیں تھی نظر کوئی نہیں لگی تھی۔ یہ ایک بہت بڑی کوتاہی ہے۔ اسمارٹ فون بہت زیادہ فائدہ مند چیز ہے لیکن ہم اس سے نقصان بھی اُٹھاتے ہیں۔ ہم اس وقت سمارٹ فون پر توجہ رکھتے ہیں جب ہمیں گاڑی چلانے پر توجہ رکھنے کی ضرورت ہے یا اپنے قریب بیٹھے ہوئے انسان کو توجہ دینے کی ضرورت ہے تو اسمارٹ فون سے دنیا میں اس وقت بہت بڑی تباہییاں بھی آ رہی ہیں لہذا نظر وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔ بہت مہربانی آپ کی اگر آپ نے کچھ سوچا تھا کہ مجھے تکلیف زیادہ ہے اور مجھے واقعی میں تکلیف نہیں ہے کیونکہ رات ہی رات میں اتنی شفایابی ہو گئی کہ الحمداﷲ گھٹنے کے نیچے جو میرا زخم ہے اس کے اوپر سکیپ بھی آ چکا ہے اور میں نے کل بھی اپنی ورزش جو کہ میں عام طور پر کرتا ہوں، وہ کی۔ لیکن سبق مجھے ہمیشہ کے لئے یاد رہے گا کہ سڑک پر چلتے ہوئے کبھی بھی سیل فون نہیں استعمال کرنا۔ یہ بات مجھے سمجھ میں آ گئی ہے مجھے آپ کوئی احساس بتایئے۔ میں جو احساس بتانے کا کہہ رہا ہوں اس کا مطلب حقیقی احساس بتانا ہے جو آج کل آپ کی زندگی میں چل رہی ہو کوئی غصہ، کوئی غم، میں اس کی وجہ نہیں پوچھوں گا، اچھا میں یہ بھی نہیں پوچھوں گا کہ اگر آپ کو غصہ ہے تو کیوں ہے؟ یہ بھی نہیں پوچھوں گا کہ اگر آپ بے چین ہیں تو کیوں ہیں؟ یہ بھی نہیں پوچھوں گا کہ اگر آپ غم زدہ ہیں تو کیوں ہیں؟ میں صرف جذبات جاننا چاہوں گا۔ اگر آپ مجھ سے کبھی بھی حال پوچھتے ہیں تو میرا اس وقت جو بھی احساس ہو گا وہ بتاؤں گا کہ آج میں تھوڑا بے چین ہوں تو آپ پوچھیں گے کہ بے چینی کی کیا وجہ ہے تو میں کہوں گا کہ میں پرسکون محسوس نہیں کرتا کہ اپنی بے چینی کی وجہ آپ کو بتاؤں یا اس طرح کی کوئی بات لیکن میں یہ ضرور بتاؤں گا کہ میں بے چین ہوں، میں یہ بتاؤں گا کہ میں ڈرا ہوا ہوں اور آپ پوچھیں گے کہ کیوں ڈرے ہوئے ہیں تو میں بولوں گا کہ یہ میری کچھ ذاتی سی بات ہے تو میں اگر نہ بتاؤں تو آپ برا نہ منائیے گا لیکن میں اس وقت ڈرے ہوئے جذبات رکھتا ہوں۔ لہذٰا کوئی کچھ آپ میں سے بتائے گا اپنے جذبات کے حوالے سے اور میں نہیں پوچھوں گا یہ میں پہلے ہی وعدہ کر رہا ہوں۔
جی مصطفٰی آپ۔۔۔۔
۰)نیند آ رہی ہے
نہیں یہ تو جذبت نہیں ہیں نا ہا ہا ہا! جذبات بتایئے۔
۰)بہت غصہ محسوس ہو رہا ہے۔
آپ کچھ بتائیں گئے سبطین!
۰)میں خوشی محسوس کر رہا ہوں
اچھا میں کچھ منفی جذبات جاننا چاہ رہا ہوں
۰) بے بسی، بے چینی کا احساس

اس طرح کی کوئی چیز میں جاننا چاہ رہا ہوں اور اس کی وجہ میں نہیں پوچھوں گا۔ میں آج کل کے دنوں کی بات کر رہا ہوں۔ کوئی مجھے بتائے گا کہ کون کن کن جذبات میں سے گزرتا ہے۔
۰)بے بسی
۰)پچھلے دنوں میں بہت بے چین تھا۔

اور آپ نے اس کی وجہ بھی بتا دی۔ وجہ بتانا اگلا مرحلہ ہے یعنی آپ وجہ نہیں بتانا چاہتے تو آپ اس بارے میں بتا سکتے ہیں کہ آپ وجہ بتاتے ہوئے اور بے چین ہو جائیں گے اس لئے دوسرا اصرار نہ کرے یا آپ دوسرے کو اُس کی حدود کی نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ نے مجھے پوچھا ہے کہ کیا حال ہے؟ میں نے کہا کہ میں ڈرا سہما ہوا ہوں تو پوچھتے ہیں آپ کہ کیوں کیا ہوا تو میں کہتا ہوں کہ اگر میں بتاؤں گا تو مجھے اور بے چینی ہو گی تو آپ برا نہ منائیے گا تو اس طریقے سے ہم بات چیت کر سکیں گے جیسے کوئی کسی سے کہتا ہے کہ مجھے کچھ ادھار چاہیئے تو آپ کہتے ہیں کہ نہیں معذرت کے ساتھ میں دے نہیں سکوں گا وہ کہے گا کہ کیوں خیر ہے کیوں نہیں دے سکتے تو کہیں گے کہ کوئی بڑی ذاتی سی وجہ ہے تو میں بتا نہیں سکتا تو اس طریقے سے آپ جھوٹ بولے بغیر ذمہ داری اپنے اوپر اٹھاتے ہیں۔ جب آپ جذبات بیان کرتے ہیں تو آپ دراصل ذمہ دار ہو جاتے ہیں اپنی زندگی کے۔ جیسے آپ بات اپنے جذبات کی کرتے ہیں کہ میاں نے آپ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا، گالی گلوچ کی یا آپ کو ذلیل کیا ہے لفظوں سے تو آپ کہتے ہیں کہ میرا دل بہت دکھتا ہے، یا دل میں لہو بہہ رہا ہے، بڑی تکلیف میں ہوں، میرا دل تڑپ رہا ہے اس طرح آپ اپنے دل کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں اور اپنے آپ کی۔ آپ یہ نہیں کہتے کہ تو میرا بیڑا غرق کر دیا ہے، میں نے کیا حاصل کیا تم سے شادی کر کے، دوسرے کو جب الزام ٹھہرائے گے ایک ایسے بندے کو جو پہلے ہی تنگ کرنے والا ہے تو وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا اگر آپ اپنے جذبات بتائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ پھر بھی کہے کہ مجھے کیا تم بیشک مرو، جیو یا روئے۔ اس طرح کی بات کہے گا لیکن آئیندہ کے لئے محتاط ہو جائے گا۔ یاد رکھیں احتجاج کبھی ضائع نہیں جاتا۔ اگر آپ احتجاج کرتے ہیں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو ہمیشہ یاد رکھیں کہ اس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ آپ کسی کو کوئی بات کہہ دیں تو آپ دیکھیں گے کہ مستقبل میں اس کا رویہ تھوڑا سا مختلف ہو کر سامنے آئے گا۔ لہذٰا ضروری نہیں کہ آج کے دن میں ہمارے سارے مسائل حل ہو جائیں۔ دیکھیں یہ جو ہم جذبات کی بات کر رہے ہیں یعنی جذبات کو مان لینا کہ یہ ہماری زندگی میں ان کا کوئی عمل دخل ہوتا ہے کیونکہ اگر ہم جذبات کو نہیں سمجھتے تو بڑی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اب مجھے بتائیے کہ شادی ہوئی ہے لڑکیوں کی، کتنی خوشی خوشی وہ رخصت ہو کر وہ اپنے سسرال جاتی ہیں تو چند دنوں میں وہ اتنی دکھی کیوں ہو جاتی ہیں۔ وہ اس وجہ سے نہیں ہو جاتیں کہ سُسرال والے ہوتے ہی سب بہت برے ہیں۔ ہم سب سُسرال والے ہیں۔اسے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ مجھے وہاں جا کر کن جذبات کا سا منا ہو گا یعنی اپنے ماں باپ سے بچھڑ جانے کے بعد غم نہیں ہو گا؟ کیا بہن بھائی جو دائیں بائیں پھرتے ہوے وہاں نہیں ہوتے؟ کیا بندہ بھاگ کر کبھی اوپر کبھی نیچے اپنے گھر میں آ رہا ہوتا ہے، اپنا باتھ روم، اپنا ریموٹ کنڑول، اپنا گھر، اپنا ابا، اپنی امی۔۔۔ تو یہ جو چیزیں جو چھن گئی ہیں، کھو جانے کا احساس ہے اس کی ایک اپنی ڈپریشن ہے اور جو ایک نئی زندگی ملی ہے جس کا آغاز یقینا بہت اچھا ہوتا ہے اور شادی کے پہلے دن ان کو بڑی توجہ ملتی ہے جس دن وہ صوفے پر بیٹھی ہوتی ہے سارے مہمان آئے ہوتے ہیں پیسے بھی ملتے ہیں اور 250,200 لوگ لینے کے لیے آیا ہوتا ہے تو ایک اچھا آغاز ہر عورت کو شادی کے دن ملتا ہے۔

اب آگے اس کی فہم و فراصت پر ہے کہ وہ کیسے اپنی زندگی کو دن بدن بہتر بنائے اور کیسے فہم و فراصت کے ساتھ اپنے لئے عزت کا مقام پیدا کرے۔ اپنے سُسرال میں بہت کچھ چھن جاتا ہے لڑکی سے شادی کے موقع پر اور وہ بول بھی نہیں سکتی اور وہ کہہ بھی نہیں سکتی۔ دو دن بعد جب وہ اداس بیٹھی ہوتی ہے اور اس کی ساس اسے گھور کے دیکھ رہی ہوتی ہے کہ پتہ نہیں ہمارا قصور ہے لیکن اسے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ یاد کر رہی ہے اپنے گھر کو، اپنے بہن بھائیوں کو اور اپنی جگہ کو اور اپنے گھر کے ماحول کو اور یہ کوئی بُری بات نہیں ہے یاد کرنا اپنے گھر کے ماحول کو لیکن لڑکی اس پوزیشن میں نہیں ہوتی کہ وہ تیسرے دن کہے کہ نہیں یاد کرتی ہوں اپنے گھر والوں کو۔ کیونکہ اسے بُرا سمجھا جائے گا کہ پتہ نہیں یہ خوش نہیں ہے۔ جذبات کی اجازت دینا یا لڑکی شادی کے تیسرے دن کہہ سکتی ہے کہ دراصل مجھے بہت خالی پن محسوس ہو رہا ہے، مجھے افسردگی سی طاری ہو رہی ہے، میں یاد کر رہی ہوں اپنے بہن بھائیوں کو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں یہاں خوش نہیں ہوں، اس مطلب یہ نہیں کہ اب میں اپنی اگلی زندگی کو بخوشی نہیں اپنا رہی۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ میں وقتی طور پر نقصان میں سے گزری ہوں، میں نے اپنے ماں باپ کو کھویا ہے، بہن بھائیوں کو کھویا ہے تو میرا کنٹرول تھا کسی چیز پر، میری مرضی ہوتی تھی میں بھاگ کر کچن میں کچھ کھا سکتی تھی۔اب مجھے یہاں تھوڑا بہت پوچھنا پڑتا ہے کہ امی جی دو ٹماٹر ڈالوں یا تین۔ ہا ہا ہا!

تو یہ جو چیزیں ہوتی ہیں جذبات کی زبان بولنا سیکھ لیتے ہیں تو ہم بہت سے دکھوں سے آزاد ہو جاتے ہیں لیکن جذبات کی زبان سیکھیں گے تو بولیں گے یہ خود سے نہیں آتی، اس کی الگ لغت ہے۔ ویلیڈیشن میں ہم یہی سب کچھ سیکھتے ہیں تو ہمارا بوجھ کم ہو جاتا ہے سو آج کا سبق صرف ایک ہے کہ جذبات کی قدرو قیمت کو تسلیم کر لیں جیسے دنیا میں کوئی نیا ملک بنتا ہے۔ سو اگر ہم اپنی زندگی میں جذبات کا اظہار کرنا سیکھیں تو کسی ایسے شخص سے آغاز کرنا جو ہمارے جذبات کو تسلیم کرے یا کسی ایسے شخص سے آغاز کرنا چاہیے جو کہے مجھے کیا جو مرضی کہو تسلیم کر لیں۔ اگر آپ ایک اچھا آغاز چاہتے ہیں تو آپ اس کو آگے بڑھانے کے لیے حوصلہ مندی پیدا کرتے ہیں تو جذبات کو تسلیم کر لینا یہ بہت اہم ہے اب یہ سائنسی طور پر بھی ثابت ہو چکا ہے کہ جذبات کے پیچھے باقاعدہ کیمیکلز ہوتے ہیں جو ہمارے جسم میں بہتے ہیں اور ان کا بہاؤ فطری بھی ہوتا ہے اور غیر فطری بھی! کبھی ہمارے جذبات ایسی چیزوں کے بھی تابع ہوتے ہیں جیسے کہ چائے، کافی۔ ہمارے جذبات ٹھنڈے ہیں لیکن چائے کافی پینے کے بعد وہ جذبا ت ذرا گرم ہو جاتے ہیں۔ ہمارے جذبات سُست ہیں لیکن سگریٹ پینے کے بعد وہ چست ہو جاتے ہیں ہم پریشان ہیں تو دیکھیں شراب پینے کے بعد پرسکون محسوس کرتے ہیں یا اس طرح کی بہت ساری چیزیں جو منشیات اور کیمیکلز کے زمرے میں آتے ہیں۔ اگر جذبات حقیقی نہ ہوتے تو پھر ان کی نگرانی باہر سے نہیں کی جا سکتی۔ بعض اوقات کھانا کھانے سے ہمارے جذبات کی تسکین ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے جذبات کی تسکین صحیح طریقے سے نہ کریں۔ بعض اوقات خریداری کرنے سے ہمارے جذبات کی تسکین ہوتی ہے بعض اوقات دھیان ہٹانے سے ہمارے جذبات کی تسکین ہوتی ہے۔ لہذٰا بہت ساری ایڈکشنز ہیں جو ہمارے جذبات کی تسکین کرتی ہیں لیکن وہ صیح طریقہ نہیں ہے وہ سب اس لئے دنیا میں بڑھ رہا ہے۔
ایڈکشن یعنی علتیں دنیا میں اس لئے بڑھ رہی ہیں کہ وہ وقتی طور پر جذبات کی تسکین کرتی ہیں۔ کاش ہم صحیح طریقوں سے اپنے جذبات کی تسکین کر لیں تو ہمیں ایڈکشنز کی کبھی ضرورت ہی نہ ہو۔ کیا آپ لگتا ہے کہ اگر ہم اپنے جذبات کی تسکین اور دوسرے کی جذبات کی تسکین کو تھوڑی توجہ دے لیں۔ تھوڑا سیکھ لیں تو ہمیں ایسی وقتی چیزوں یا سہاروں کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ جنہیں منشیات یا نشئی رویے کہتے ہیں۔
۰)تو پھر ہم ویسے ہی سکون میں ہوں گے تو یہ چند باتیں آپ سے کی۔ کوئی سوال ہے تو آپ کر لیجیئے۔
۰)یہاں پر باونڈریز آ جاتی ہیں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ آپ کیوں بے چینی محسوس کر رہیں ہیں، یہ باونڈری ہو گی؟
جی! اس میں تو فطری بات ہے نہ کہ جب آپ جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو آپ کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ تھوڑی بات میں کہوں گا اور زیادہ بات دوسرے پوچھیں گے یا اندازے لگائیں گے یا تو ہمیں خطرہ ہوتا ہے کہ یہ پھر مجھے اور زیادہ بے نقاب کریں گے یا پھر میری پیٹھ پیچھے جا کر پوچھیں گے یا اندازے لگائیں گے تو جب ہم باونڈریز کی خلاف ورزی کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے تو ہم اپنے رشتے کے مطابق اگلا سوال کرتے ہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ اگر آپ کا رشتہ ایسا ہے کہ آپ یہ سوال کر سکتے ہیں تو پھر آپ کر لیں لیکن بعض اوقات آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ میں اگلا سوال نہیں کر سکتا یا پھر آپ سوال اس طریقے سے کرتے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو مجھے اس بارے میں کچھ زیادہ بھی بتا دیں لیکن اگر آپ زیادہ نہ بھی بتائیں تو میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ تھورا سا آج دکھی ہیں یا آپ پریشان ہیں۔ زندگی میں ایسا ہوتا ہے آپ کا جو دکھ ہے وہ حقیقی ہے۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ بہت چھوٹی ہو۔ ہمیں چھوٹی وجہ سے بھی بڑے دکھ ہوتے ہیں تو جو باونڈریز ہیں اس پر ہم انشااﷲ اگلی دفعہ بات کریں گے کہ ویلیڈیشن کی باونڈریز کیا ہیں، حدود کیا ہیں کہاں ہم تعاقب کر کے دوسری طرف چلے جاتے ہیں، کہاں دوسرے کودتے ہوئے ہماری زند گی میں اودھم مچا دیتے ہیں تو ہم چاہیں تو اپنی زندگی میں یہ جو آمدو رفت ہے اس کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
بہت بہت شکریہ!