ہمارے ملک کے سیاسی جنگی اور معاشی حالات ایسے ہیں کہ یہاں پر رہنے والا ہر فرد ذہنی اور اعصابی دباؤ کا شکار ہے۔ چند خوش نصیبوں کے علاوہ یہاں رہنے والا ہر شخص مینٹل سٹریس کی شکایت کرتا ہے اور یہ رویہ نئی طرح کے المیوں کو جنم دیتا ہے۔ ہمارے گھروں، دفتروں اور بازاروں میں چلتے پھرتے افراد غصے اور نفرت سے بھرے ہوئے میزائلوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب سماجی اخلاق کا برتنا بھی کبھی کبھی اور خال خال ہی نظر آتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھڑک جانا، معمولی پریشانی آنے پر آسمان سر پر اٹھا لینا، دوسروں سے تمام فرائض کی امید رکھنا اور خود ایک بھی کام وقت پر نہ کرنا، یہ رویہ ہمارے ہاں عام دکھائی دیتا ہے۔ مینٹل سٹریس یعنی ذہنی دباؤ آپ کی شخصیت پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے؟ یہ آپ کے رشتوں اور کام کاج پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے؟ اور وہ تمام پریشانیاں جو اس دباؤ کی وجہ ہیں ان کے ساتھ ہمیں کس طرح گزارا کرنا ہے؟ یعنی سٹریس مینجمنٹ کیسے کی جاتی ہے؟ آج ہم اس کی تلاش کریں گے۔ مصیبت اور پریشانی کی گھڑی کا سامنا ایک سچا مسلمان کس طرح کرتا ہے؟ اگر اس ایک کسوٹی پر ہم اپنے رویوں کو پرکھیں تو ان کی نمائشی حیثیت نتائج نوچ کر پھینک دے گی۔

پروفیسر ساجد حمید (مذہبی سکالر): ایک عام سادہ سا ٹوٹکا بتایا جاتا ہے کہ نماز پڑھیں لیکن ہم ذیادہ ترپاکستانیوں کی نماز بے معنی ہے۔ اس کے اندر نہ خدا سے تعلق ہے نہ قرآن کے ذریعے جو پیغام اللہ ہمیں دینا چاہتا ہے وہ منتقل ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہم عربی نہیں جانتے تو ہماری نماز ایک طوطے کا رٹا ہے ہمارے اوپر اس کا اچھا یا برا اثر نہیں ہوتا۔ قرآن مجید میں نماز کا جو مقصد بتایا ہے کہ نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے وہ بھی نماز نہیں کر پاتی کیونکہ ہم نے اس کو سمجھ کر پڑھا ہی نہیں۔ قرآن مجید میں نماز کا طریقہ بتایا گیا ہے تاکہ لوگو ں کو قرآن مجید میں موجود پیغام چلا جائے۔ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے والے لوگ اس طرح کی کیفیت کا شکار نہیں ہوں گے۔ انسانی شخصیت کے دو حصے ہیں ایک ماہر نفسیات فرائڈ کے مطابق Ego ,ID اور super ego ہیں۔ جب کہ مذہبی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایک کو حیوانی جبلت کہہ سکتے ہیں جبکہ دوسرے کو انسانی جبلت کہتے ہیں۔

جانوروں کی جبلت میں بھوک، پیاس، جنس، بڑا نظر آنا شامل ہے تو اس کے لیئے ہم چوری کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں، جیسے بھوک لگی ہے تو کھانا تو کھانا ہے، شخصیت کا دوسرا حصہ جسے انسانی جبلت کہتے ہیں وہ ہماری فطرت کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں لحاظ، اچھے بُرے کا تصور، عزت، دین اور قانون ہے۔ قرآن مجید کے مطابق اگر ہم اپنی حیوانی جبلت کو مضبوط کرتے رہیں تو انسان کے روپ میں درندے سامنے آ جائیں گے اور اگر ہم انسانی فطرت کو اس کے مقابلے میں مضبوط کر دیں تو صوفی وجود میں آ جائیں گے۔ قرآن مجید چاہتا ہے کہ انسانی اور حیوانی جبلتوں میں توازن رکھا جائے۔

اینکر: یہ خبر شاید آپ نے سنی ہو کہ بھوک سے نڈھال ایک بچہ برف بیچنے والے کے پاس گیا لیکن برف خریدنے کے لئیے اس کے پاس پیسے نہیں تھے، گرمی کی شدت سے نڈھال ہو کر اس نے برف کا چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ لیا۔ اس جرم پر غضب ناک ہو کر برف والے نے برف توڑنے والے سوے سے اس بچے کو ہلاک کر دیا۔۔۔ کیا یہ برف بیچنے والا پیدائشی درندہ تھا؟ یا پھر حالات کی سختی اور ذہنی دباؤ نے اُسے شیطان کا مکروہ چہرہ عطا کر دیا تھا؟

عمارہ (ماہرِنفسیات): جب ذہنی دباؤ بہت عرصے تک رہتا ہے تو ہم اس کے راستے میں مزاحمت پیدا کرتے ہیں اور اس سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا کرتے کرتے ایک موقع آتا ہے کہ جب انسان اپنی ذہنی توانائی کھو بیٹھتا ہے اور اس کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ برف والے نے بچے کو چھوٹا سا برف کا ٹکرا لینے پر جو شدید رد عمل دیا جس سے بچے کی جان چلی گئی تو اس کے پیچھے بھی یہی عمل کار فرما تھا۔ وہ مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار رہ کر اپنی ذہنی توانائی کھو بیٹھا تھا اور چھوٹی سی بات برداشت نہیں کر پایا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ پانی سے بھرے گلاس میں ایک قطرہ بھی ڈالیں تو وہ چھلک پڑتا ہے۔

اینکر: ذہنی اور اعصابی دباؤ آپ کی جسمانی صحت پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے؟ خاص کر شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟ ڈاکڑ جاوید اکرم سے پوچھتے ہیں۔

ڈاکٹر جاوید اکرم: اس معاملے میں بہت سی تحقیقات کی گئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ سٹریس یعنی ذہنی دباؤ کی حالت میں کیٹیکولا مین 4,3,2 نامی کیمیائی مادے بڑھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں، منہ خشک ہوجاتا ہے، پٹھوں میں درد ہونے لگتی ہے۔ یہ بے چینی اور دباؤ آپ کے کام کی کارگردگی کو بڑھاتا ہے۔ اگر ایک کھلاڑی ڈاکٹر، سٹوڈنٹ یا کسی بھی انسان کو بہت اچھا پرفارم کرنا ہے تو اس کے لئے یہ ذہنی دباؤ ضروری ہے کیونکہ اس دباؤ کے بغیر کارگردگی اچھی نہیں ہو سکتی۔ لیکن اگر کام کی نوعیت کے لحاظ سے ذہنی دباؤ زیادہ ہو جائے جیسا کہ اگر میرے 500 کا نوٹ گما ہے تو مجھے اور شدت سے ذہنی دباؤ محسوس ہو گا اور اگر آپ کا گم ہو جائے تو یہی دباؤ مختلف شدت کا ہو گا۔

اینکر: اگر آپ جھگڑے کی آگ میں پھنس جائیں تو آگ اگلتی زبانوں کا سامنا کس طرح کیا جائے۔ کہنا تو بہت آسان ہے کہ دباؤ مت لیں، لیکن ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس بارے میں ڈاکٹر صداقت علی سے پوچھتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: جب ہم گاڑی چلا رہے ہو تے ہیں تو لا شعوری طور پر ایسے چلا رہے ہوتے ہیں کہ وہ دوسری گاڑیوں سے نہ ٹکرائے ، راستے پر رہے اور جیسے ہی وہ دائیں بائیں ہوتی ہے تو ہم فوری اعصابی ردعمل کو استعمال کر کے گاڑی کو سنبھال لیتے ہیں اور اِسی لیے ذیادہ تر لو گ آپس میں نہیں ٹکراتے۔

شروع شروع میں پہلے گئیر میں جب ہمارا موڈ خراب ہوتا ہے تو اسے ٹھیک کرنا آسان ہوتا ہے لیکن جب یہی خراب موڈ تیسرے چوتھے گیئر میں چلا جاتا ہے تو ہمیں بڑے اقدام کرنے پڑیں گے، جیسے کہ فوری طور تین کام کیے جا سکتے ہیں جس سے خراب رویے فوری ٹھیک ہو جائیں۔ پہلے تو جتنی جلدی ممکن ہو سکے تین گلاس پانی پینا چاہیئے۔ آپ اپنے گھر والوں کو یا کام کرنے کی جگہ پر بتا سکتے ہیں کہ جب بھی میں غصے میں ہوں تو مجھے ایک گلاس پانی پہنچا دیا جائے۔ دوسرا اُس جگہ سے کہیں اور چلے جانا چاہیئے کیونکہ غصے کی کچھ علامات ہوتی ہیں اگر ہم گھر کے کسی ایک کمرے میں غصے میں آئے ہیں تو کسی دوسرے کمرے میں یا خصوصاً کھڑکی سے دور تک دیکھنا اور تنہائی میں چلے جانا اور ہو سکے تو نہا لیں۔ تیسرا آپ اپنے کپڑے بدل لیں اور پھر واپس آ کر جہاں سے سلسلہ توڑا تھا اُسے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

پروفیسر ساجد حمید: یہ دنیا آزمائش کے لیے بنی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم کمرہ امتحان میں ہیں۔ اگر کوئی شخص کمرہ امتحان میں آ کر استاد کو کہے کہ آپ نے دوسرے لڑکے کو اچھی کرسی دی ہے جبکہ مجھے پرانی اور اسی میں تین گھنٹے ضائع کر دیے تو کیا وہ پاس ہو جائے گا؟ ہم پاکستانیوں کا ذہن اِسی طرح سے بنایا گیا ہے ہم کمرہ امتحان میں ہوتے ہوئے اچھی کرسی، اچھا مکان ہونے پر لڑ رہے ہیں۔ اللہ اچھے مکان بنانے پر نہیں روکتا لیکن ہماری ذہنیت یہ ہے کہ اسی پر جینا مرنا ہے جب آدمی اس پر لڑتا ہے تو اسے اطمینان نہیں ملتا کیونکہ یہ دنیا رہنے کے لیئے بنائی ہے نہیں گئی۔

ندیم نور: آج کل کے دور میں انسان جس قسم کے دباؤ کے شکار ہیں۔ پچاس سال پہلے اِس کی شدت اتنی نہیں تھی۔

اینکر: ایسا کیوں ہے؟ حالانکہ ٹیکنالوجی اور سہولیات بڑھ گئی ہیں۔ لوگ آپس میں زیادہ آسانی سے رابطے میں ہیں، لیکن پھر بھی دنیا بھر میں دباؤ کم ہونے کی بجائے زیادہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟

ندیم نور: ایک وجہ تو یہ ہے کہ لوگوں نے دباؤ کو کم کرنے کے طریقے نہیں سیکھے ہوتے یا ہمیں سکول، کالجز میں پڑھائی نہیں جاتی۔اس کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ ہم بچے کو دباؤ کو ہینڈل اور کم کرنے کے طریقے سکھائیں تاکہ وہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے کی ذمہ داری خود پر لے سکے۔ عام طور پر ہم سٹریس یا ذہنی دباؤ کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ آج کل ذہنی دباؤ زیادہ ہو گیا ہے اور اِسے کم کرنے کی مہارتیں ہمارے پاس نہیں ہیں۔

علی مرتضی: جب بچہ بہت چھوٹا ہوتا ہے تو اس کے دماغ کا ایک حصہ جو نشوونما پا رہا ہوتا ہے اُسے ریپٹیلئین برین کہتے ہیں۔ یہ دماغ کا سب سے پرانا حصہ ہوتا ہے۔ اِس کے بعد علم سے متعلقہ جسے نالج برین بھی کہتے ہیں، یہ ماتھے کے سامنے حصے میں ہوتا ہے۔ ایک اور حصہ جسے امگڈلہ ہوتا ہے جو کہ نالج برین سے تین انچ پیچھے اور تین انچ نیچے یعنی دماغ کے درمیانی حصے میں پایا جاتا ہے۔ ڈر، مزہ اور تفریح کا تعلق اِسی سے ہوتا ہے۔ ہمارے جسم میں خون کی مطلوبہ مقدار 6 لیٹر ہوتی ہے لیکن جسم میں 5 لیٹر موجود ہوتا ہے اس لیئے دماغ کا ایک حصہ استعمال ہو رہا ہو تو دوسرا حصہ وقتی طور پر استعمال نہیں ہو رہا ہوتا۔ ذہنی دباؤ کو ہینڈل کرنے کا تعلق گو سسٹم سے ہوتا ہے یہ دماغ کو سپلائی بھیجتا ہے کہ لڑو یا بھاگ جاؤ۔ ذہنی دباؤ کو کم کر کرنے کے لئے ہمیں دماغ کے مختلف حصوں کی فعالیت میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔ نفسیاتی طور پر ان پہلوؤں میں پہلا یہ ہے کہ اُس جگہ سے فاصلہ اختیار کر لینا، دوسرا اس چیز کے بارے میں سوچ بدلنا، تیسرا کسی اور کام میں مصروف ہو جانا اور چوتھا کچھ دیر انتظار کر لینا۔ ذہنی دباؤ میں اِن میں سے کچھ یا سب کو استعمال کر کے کمی لائی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرام: صبح کا وقت سب سے زیادہ ذہنی دباؤ والا ہوتا ہے یعنی صبح 6 بجے سے 9 بجے تک اور عام مشاہدے کے مطابق بڑے بزرگوں کو انہی اوقات میں دِل کا دورہ، فالج یا کوئی اور جسمانی مسئلہ ہوتا ہے۔ اِس وقت خون کا دباؤ، ایڈرینالین، کارٹی سول اور شوگر کی مقدار بڑھی ہوتی ہے، جبکہ خون میں موجود پلیٹ لیٹس گاڑھی ہوتی ہے۔ اسی لئے فالج کا حملہ زیادہ تر اِسی وقت میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق دوائی کے بغیر ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لئے صبح جلدی اٹھ کر نماز پڑھنا، تلاوت کرنا اور چہل قدمی کرنے سے خون کا دباؤ نارمل ہو جاتا ہے۔

عمارہ (ماہرِنفسیات): عام طور پر ہم ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لئے بہتر طریقے استعمال نہیں کرتے جیسا کہ دوسروں کو ڈانٹنا، مارنا، سگریٹ نوشی کرنا، چغلی کرنا، نشہ کرنا یا کسی اور جگہ چلے جانا وغیرہ۔ کبھی کبھی ہم ناراض رہ کر یا چپ رہ کر ذہنی دباؤ کو کم کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم ذہنی دباؤ کو کم کی بجائے اس سے نظریں چرا رہے ہوتے ہیں یا اُس پر پردے ڈال رہے ہوتے ہیں۔ اِس صورتحال میں ذہنی دباؤ وہیں موجود رہے گا اور کوئی سا ٹرگر ملنے پر سامنے آ جائے گا۔

اینکر: مشکلوں اور پریشانیوں کے آنے پر ہمیں سیرتِ نبو ؐی اور صحابہ کرامؓ کی تعلیمات سے ہمیں کیا مثالیں ملتی ہیں؟

پروفیسر ساجد حمید (مذہبی سکالر): نبی اکرم ؐ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہم نے زندگی کو بانٹا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صلاحیتیں، مال، دولت، حسب و نسب سب کا برابر نہیں ہے اور نہ ہی ہو گا کیونکہ اگر سب برابر ہو جائیں تو ہمارے بال کون کاٹے گا، جوتے کون مرمت کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ یعنی سارا نظام تلپٹ ہو جائے گا۔ اس نظام کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے صلاحیتیں اور مواقع مختلف رکھے ہیں مثلاً اگر ایک موچی کے گھر ارسطو پیدا ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ اس کی ساری عمر جوتے سلائی کرتے گزر جائے۔ ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر کی عزت زیادہ جبکہ مو چی کی بہت کم ہے لیکن آپؐ نے فرمایا کہ جھاڑو دینے والا بھی میرے برابر ہے۔ ایک دفعہ آپؐ صحابہ کرامؓ کے ساتھ مسجد نبوی ؐ میں بیٹھے ہو ئے تھے کہ صفائی والے کے جھاڑو دینے سے دھول اُڑی تو صحابہ کرامؓ نے آپؐ سے پوچھا کہ کیا اس کو ڈانٹے نہ ہم؟ تو آپ ؐ نے فرمایا، نہیں یہ میرے برابر ہے۔ میں دِلوں کی صفائی کرتا ہوں، یہ بیرونی صفائی کرتا ہے۔ جب ہم معاشرے میں ایسی درجہ بندی کر دیں گے تو مسائل ختم ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر صداقت علی: غصے کے خلاف سب بڑا ہتھیار مائنڈفلنس ہے جہاں ہمیں پتا چلے کہ کب ہماری آواز اونچی ہو رہی ہے اور ہم ایک ہی بات بار بار کر رہے ہیں یعنی پہلے تولو پھر بولو کی حکمت عملی اختیار کریں تو پھر ہم سوچ کر بولیں گے۔ ہم اپنے الفاظ کی رفتار کو تھوڑا کم کر لیں یا تھوڑے زیادہ وقفے دینا شروع کر دیں اور اگر ہمیں لگے کہ ایسا کرنے سے کام نہیں بن رہا تو ہم بہانے سے یا بتا کر محفوظ خروج لے لیں یہ کہہ کر کہ اس وقت مجھے لگتا ہے میں غصے میں ہوں، کیوں نہ ہم ایک گھنٹے بعد ملاقات کریں، تو بات کرنا آسان ہو جائے گا۔ ہمیں گفتگو میں محتاط ہو جانا چاہئیے اس کے لیئے ہمیں crucial conversation سیکھنی ہو گی۔ یعنی جب خدشات بہت زیادہ ہوں اور ہم دوسروں سے بات کرنے کا ہنر سیکھ لیں تو ہماری زندگی کو چار چاند لگ جائیں ۔

علی مرتضیٰ (صلاح کار): اگر آپ کو کوئی مسئلہ در پیش آ جائے کہ جس میں ذہنی دباؤ بہت زیادہ ہے تو اپنے دماغ کے حصوں کی فعالیت میں تبدیلی لائیں مثلاً اپنے دماغ کے ایک حصے کو کوئی مشکل سوال دیں جیسے 12000 کو 50 سے ضرب دیں تو کیا جواب آئے گا۔ جب آپ اس پر کام شروع کر دیں گے تو اس سے فائدہ ملے گا۔

پروفیسر ساجد حمید (مذہبی سکالر): ہمیں آخرت کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرنے چائیں۔ ایک دفعہ آپؐ ایک صحابیؓ کی تیمارداری کے لئے گئے تو وہ تکلیف سے بہت کراہ رہے تھے اور بخار کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ آپ ؐ نے فرمایا بخار کو کچھ نہ کہو، یہ اللہ کی طر ف سے ہے اور جب بھی کوئی تکلیف اللہ کی طرف سے آتی ہے تو یہ ہمارے گناہوں کو جھاڑے گی، نہیں تو درجات بلند کرے گی۔ صحابہ کرامؓ نے آخرت کے لیے کام کیے ہیں اور انہیں بلند درجات مل گئے۔ اگر ہم ایسا نہ سوچیں تو ہماری مشکلات بڑھ جائیں گی پھر یا تو نشہ پلا کر سلانا پڑے گا یا کہیں باندھنا پڑے گا۔ میرے استاد محترم کہتے تھے کہ اگر آخرت کا تصور نہ ہوتا تو شاید میں خود کشی کر چکا ہوتا کیونکہ یہ دنیا میری پسند کی ہے ہی نہیں۔

ندیم نور: اگر کسی کو پیٹ درد بہت زیادہ ہو اور وہ ہسپتال پہنچ جائے تو ڈاکٹر اسے کہتے ہیں کہ آپ کا مدافعتی نظام کمزور ہے اپنا خیال رکھا کریں۔ اسی طرح جو لوگ چھوٹے چھوٹے روزمرہ کے مسائل پر ذہنی دباؤ کو کنٹرول نہیں کر سکتے تو ایسے لوگوں کو کسی ماہر نفسیات سے کاؤنسلنگ یا اپنی تعلیم کا بندوبست کرنا چاہیئے کیونکہ ان کی ذہنی صحت کافی نازک ہوتی ہے۔

اینکر: ہمارے ہاں بہت عجیب معاملہ ہے، ایک شخص سائیکل پر جا رہا ہے وہ بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہے دوسری طرف ایک نئی گاڑی والا بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہے، لیکن گاڑی والے کا ذہنی دباؤ سائیکل پر جانے والے سے بھی ذیادہ ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: مال و دولت سے سکون اور اطمینان حاصل نہیں ہوتا ہم امیر ہوں یا غریب، کچھ ایسی شرائط ہم نے اپنے سکون کے ساتھ جوڑ دی ہیں جن میں سے کچھ جائز اور کچھ ناجائز ہیں۔ یعنی جب ہم کسی چیز کے ہونے کے لیے بہت زیادہ شرائط رکھ دیتے ہیں تو وہ چیز ہو نہیں پاتی۔ ہمارے دل میں خوشی کے جلتے دیے کو جب ہر طرف سے ہوا ملتی ہے تو وہ بجھ سکتا ہے۔

علی مرتضیٰ (صلاح کار): گاڑی چلاتے ہوئے اگر آپ کو ٹریفک سے ذہنی دباؤ ہو گیا ہے تو اپنا دھیان ٹریفک سے ہٹائیں، اردگرد بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن پر ہمارا دھیان جا سکتا ہے۔ جب آپ کی زندگی میں کوئی مشکل آتی ہے تو اُسی میں سے آپ حل بھی نکالتے ہیں، اگر آپ مسئلے کو مسئلے سے حل کرنے کوشش کریں تو حل نہیں نکلے گا۔ بعض اوقات آپ فاصلہ اختیار نہیں کر سکتے تو اُس صورت میں اپنا دھیان کسی اور چیز میں لگا سکتے ہیں جیسا کہ میوزک سننا یا گنگنانا وغیرہ۔

پروفیسر ساجد حمید (مذہبی سکالر): ایک صحابیؓ نے غزوۂ بدر میں اپنے باپ سے پوچھا جو کہ مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے تھے کہ میں آپ کے ساتھ کیا سلوک کروں؟ اُن کے باپ نے کہا کہ وہی کرو جو تمہارا دین کہتا ہے اور آپؓ نے اُن کو مار دیا۔ کون آدمی ہے جو دین کے لیے اپنے والد کو بھی قربان کر سکتا ہے؟ تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ہم آخرت کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ اگر آخرت نہیں تو قربانی نہیں ہو سکتی۔

اینکر: آپ کے خیال سے اگر ہم ہر طرح کے ذہنی دباؤ کو آخرت کے ساتھ اعتدال میں لائیں تو اس کو کم کیا جا سکتا ہے؟ یعنی اعتدال پسند ہو کر؟

پروفیسر ساجد حمید (مذہبی سکالر): جی ہاں، وگرنہ مشکل ہو سکتی ہے۔

اینکر: اگر میں ذہنی دباؤ میں ہوں تو کیا کروں؟

عمارہ (ماہرِنفسیات): سب سے پہلے ذہنی دباؤ کے ٹرگر کو ڈھونڈنا ہو گا۔ اس کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ جن صورتحالوں سے آپ بچ سکتے ہیں اُں سے بچیں یا بچنا سیکھیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص آپ سے مہربانیاں مانگی جا رہا ہے اور آپ نہ نہیں کر سکتے تو نہ کرنا سیکھیں۔ جن چیزوں سے آپ بچ نہیں سکتے تو اُنہیں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ صورتحال تو بدل نہیں سکتی لیکن آپ اپنی سوچ بدل سکتے ہیں جیسے ملک کی خرابی اقتصادی و معاشی حالات آپ خود سے نہیں بدل سکتے تو اِن حالات کو بغیر تکلیف وشکائت کے قبول کرنا ہو گا۔ جو وسائل اور مواقع آپ کے پاس موجود ہیں اُن کو استعمال کر کے آگے بڑھنا چاہیئے۔

پروفیسر ساجد حمید (مذہبی سکالر): اگر بچے سے گلاس گِر کر ٹو ٹ جائے تو باپ تھپڑ مارتا ہے، کیا گلاس زیادہ قیمتی ہے یا بچے کا چہرہ؟ کچھ رویوں سے بچے کی شخصیت تباہ کر دی جاتی ہے۔ جب ہمیں مار مار کر پالا جا رہا ہے تو باہر بھی ہم وہی کرتے ہیں، ہمیں انسانی رویے کو بیدار کرنا چاہئیے۔ دُنیا میں جو کچھ ہو چکا،ہو رہا یا ہو گا، وہ سب تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے۔ مثال کے طو ر پر اگر آپ نے مجھے ایک گھنٹے بعد گالی دینی ہے اور آپ مجھے گالی دیتے ہیں تو ایسا کیوں ہے؟ اللہ کسی بندے کے ساتھ بُرا نہیں کرتا۔ جب اللہ نے لِکھ رکھا ہے تو کیوں لِکھ رکھا ہے؟ دراصل اللہ نے ہمیں مہلت دے رکھی ہے۔ اب آپ کے گالی دینے کے جواب میں مجھے ایسا رویہ اختیار کرنا ہے جو مجھے امتحان میں کامیاب کر سکے۔ جس نے ایسا سوچنا شروع کر دیا اُس کے لیے زندگی آسان ہو جائے گی۔

ڈاکٹر صدا قت علی: لوگ کہتے ہیں کہ مہنگائی ہو گئی ہے یہ نہیں کہتے کہ اُن کی آمدنی کم ہے، اسی طرح کپڑوں کا تنگ ہونا بتایا جاتا ہے خود کا موٹا ہونا نہیں لوگ تو یہ نہیں مانتے کہ میں لاہور آ گیا ہوں بلکہ کہتے ہیں کہ لاہور آ گیا ہے، دراصل لوگ ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ اگر کھلاڑی بھی اچھا سکور کرتے ہیں تو اپنی محنت کی بجائے لوگوں کی دعاؤں کو کریڈٹ دیتے ہیں۔ پھر جب وہ ہار جاتے ہیں تو اُنہیں یہ کہنے میں مشکل آتی ہے کہ عوام نے دعاؤں میں کچھ کمی کی ہے۔ ہمیں اپنے نظریات کو پرکھنے کی ضرورت ہے ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے بہت سے طریقے بتائے جاتے ہیں جو کہ عارضی حل ہیں۔ اگر ہم مستقل حل چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے نظریات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے دماغ پرغور کرنے کے لیے اور نظریات بدلنے کے لیے سب سے کامیاب تھراپی CBT ہے۔ یہ مشہور اصلاح نظریات بدلنے کے لئے استعمال ہونے والی تھراپی کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ بہت جگہوں پر کام آتی ہے، مائنڈ فل ہونا یعنی ہمارے روزمرہ کے کام کاج، مثلاََ ڈرائیونگ وغیرہ تو ہمیں ڈرائیونگ کے لئے اچھی عادتوں کو ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب بھی ہمیں کبھی فیصلہ کرنا ہو تو اس کے لئے مائنڈ فل ہونا ہو گا یعنی سوچ سمجھ کر کھائیں پئیں، سوچ سمجھ کر زندگی کے فیصلے کریں، جیسا کہ شادی کا فیصلہ، تو اس کے لئے سوچ بچار کر کے فیصلہ کرنا چاہیئے، جذباتیت میں غلط فیصلے ہو جاتے ہیں۔

اینکر: تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر فیصلے جلد بازی میں ہوئے جن کا بعد میں خمیازہ بھگتنا پڑا۔ آپ ہمارے فیصلے کے اختیار رکھنے والوں کو کیا پیغام دیں گی کہ وہ بیرون ممالک سے آئے مبصرین سے ملتے ہوئے یا ملکی اصول و قوانین بناتے ہوئے کیسے ذہنی دباؤ پر قابو پائیں؟

عمارہ (ماہرِنفسیات): میری رائے میں اُن کے پاس کوئی کاؤنسلر یا ماہر نفسیات ہونا چاہیئے جس سے وہ ذہنی دباؤ کو کنٹرول کرنا سیکھیں اور جس سے وہ روز مرہ کے معاملات میں درپیش ذہنی دباؤ پر بات چیت کر سکیں تاکہ وہ عجلت میں غلط فیصلے کرنے کی بجائے سوچ بچار کر کے اور ذہنی دباؤ کو کنٹرول میں رکھ کر ملک و قوم کے لئے درست فیصلے کر سکیں۔

ڈاکٹر جاوید اکرام: میں نے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا سٹریس انڈیکس نکالا اور حیران کن طور پر سرجنز میں ذہنی دباؤ سب سے زیادہ تھا پھر صحافیوں میں ذہنی دباؤ بہت زیادہ تھا اور ان میں سگریٹ نوشی تو عام ہے، سگریٹ میں موجود نکوٹین ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے۔ اسی طرح وکلا میں ذہنی دباؤ بہت زیادہ تھا۔ اِن تین شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں ذہنی دباؤ دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے زیادہ تھا۔ تاہم بیوروکریٹس میں اِس کا لیول کم تھا۔ میری رائے میں کسی بھی نوکری کا بنیادی حصہ یہ ہے کہ ذہنی دباؤ والے ٹاسک میں آپ کی کارکردگی کیسی ہے؟ اگر آپ اچھے پروفیشنل ہیں تو ذہنی دباؤ آپ کو آگے بڑھا سکتا ہے لیکن پاکستان میں 99 فیصد معاملات میں ایسا نہیں ہوتا جس کی وجہ پر سکون رہنے کی ٹریننگ نہ حاصل کرنا ہے۔

اینکر: اگر ایک آنکھ پَلک جَھپکنا بند ہو جائے تو ایک گھنٹہ گزارنا بھی عذاب ہو جائے۔ ہمارے ناخن باہر کے بجائے جسم کی طرف بڑھنے لگیں تو کیا ہو؟ جسمانی صحت تو ہو لیکن یاداشت نہ ہو تو اُس جسمانی صحت کا کیا فائدہ؟ ہم اگر اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے تو ہر وقت رونا دھونا بھی مناسب نہیں۔ ذہنی دباؤ سے نکلنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو پہچانیں اور اُن کا شکر ادا کریں۔ یہ اتنا ہی لازم ہے جتنا کہ ہم ان سب قوتوں اور افراد سے جنگ کریں، جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے، وطن اور خود ہماری اپنی زندگی ایک عذاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ مگر ذہنی اور اعصابی دباؤ کے مریض جنگیں جیتا نہیں کرتے۔ جنگیں وہ جیتتے ہیں کہ جن کے حوصلے اور عزم سے ہر مشکل ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتی ہیں۔