ڈاکٹر صداقت علی:بہت سارے لوگ اپنی قوت ارادی سے کام لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ سگریٹ چھوڑ دیتے ہیں۔ اسے کول ٹرکی کا طریقہ کہتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس چیز کا انعام کے طور پر لطف اٹھاتے ہیں۔ جب انسان اپنی زندگی میں آسانیاں چاہتا ہے تو آسان اور اچھے طریقے ڈھونڈتا ہے۔ اب سگریٹ بھی آسان اور اچھے طریقے سے چھوڑی جا سکتی ہیں۔ اس کے لیے پلاننگ میں کافی وقت لگتا ہے۔ پہلے آپ سمجھیں کے آپ سگریٹ کیوں پیتے ہیں؟ آپ چھوڑنا کیوں چاہتے ہیں اس کی وجوہات تلاش کریں۔ پھر سٹریس مینجمنٹ کے ماڈرن طریقے سیکھیں۔ جیسے آج کل ہم انٹرنیٹ پر جاتے ہیں موبائل فون استعمال کرتے ہیں یہ ایک ماڈرن طریقہ ہے۔ اسی طرح اگر ہم سگریٹ کے حوالے سے بات کریں تو یہ سٹریس مینج کرنے کا بہت پرانا طریقہ ہے۔ سٹریس مینجمنٹ کے نئے طریقے سیکھیں۔ ورزش کریں، سکون حاصل کرنے والی ورزش کریں، ایسے لوگوں سے دوستی کریں جنہوں نے پہلے سگریٹ پیا اور بعد میں چھوڑا۔ ان سے ٹپس لیں وہ آپ کو بہت اچھا گائیڈ کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگ آپ کے دائیں بائیں ہوتے ہیں جنہوں نے پہلے سگریٹ پیا اور بعد میں چھوڑا وہ آپ کی مدد کرتے ہیں آپ کو سگریٹ پیش نہیں کرتے۔ آپ ایک ایک کر کے پلان بناتے ہیں کہ آپ نے کس کس طرح چھوڑنا ہے۔ آپ متبادل طریقے پر جا سکتے ہیں اس کے لیے چیونگم یا پیچ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے طلب کم ہوتی ہے غصہ نہیں آتا۔ دوسرا طریقہ میڈیکیشن کا ہے اس میں آپ دوائیاں استعمال کرتے ہیں جیسے زائیبان۔

جارج: آپ نے بہت اچھے طریقے بتائے۔ حالات یا ماحول کے بارے میں کیا کہیں گے؟ جب دوستوں کے ساتھ جاتے ہیں یا اردگرد کے سارے لوگ سگریٹ پیتے ہیں۔ سماجی دباؤ سے کیسے نپٹیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: اس کے لیے آپ کو ایسے لوگ تلاش کرنا ہوں گے جو آپ کو سگریٹ چھوڑنے پر شاباش دیں۔ آپ کے ساتھ تعاون کریں۔ پھر آپ کو سگریٹ کے مزہ کے متبادل مزہ ڈھونڈنا چاہیئے تاکہ آپ کو مزہ آتا رہے۔ جب آپ سگریٹ پیتے ہیں تو آپ کے بہت سارے دوست بھی سگریٹ پیتے ہیں تو یہ ایک ماحول سا بنا ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ آپ کو نئے دوست بھی ڈھونڈنے چاہیئیں۔ ایسی بہت ساری چیزیں آپ جب کر لیں تو آپ سگریٹ چھوڑنے کی تیاری کر لیں۔ سگریٹ ایک دم سے نہیں چھوڑنی چاہیئے مسئلہ یہ ہے کہ ہم سگریٹ کی ایڈکشن کو بہت کم سمجھتے ہیں۔ ٹیکنیکلی یہ بھی ہیروئین اور کوکین جیسی ہے۔

کرن: تو کیا اسے چھوڑنا آسان ہے؟ ایک جیسا ہے۔ سب سے بڑی بات وہ چڑچڑاپن ہے جب آپ کو مزہ نہیں آتا۔ لگتا ہے زندگی بے مزہ ہو گئی ہے۔ شاب چھوڑنے والے کو بھی یہی بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور دائیٹنگ کرنے والے کو بھی۔ اصل میں اس کے موڈ اور مزاج میں خرابی آتی ہے۔

کرن: چڑچڑاپن اور موڈ مزاج کی خرابی کتنی دیر رہتی ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے زیادہ مشکل ایک ہفتہ ہوتا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کی طلب مہینوں تک جاتی ہے۔ مگر ایک کار آمد ٹپ یہ ہے کہ جب آپ متبادل پر جاتے ہیں یعنی پیچ استعمال کرتے ہیں تو اس سے آپ کے ذہن میں رہتا ہے کے آپ کر کیا رہے ہیں کیا کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے طلب نہیں ہوتی۔ آپ کے ہونٹوں میں ہر وقت وہ دھواں اور سگریٹ نہیں رہتا اس سے بہت سا مسئلہ آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن اس طریقے میں کبھی بھی تمباکو منہ میں نہیں رکھنا چاہیئے، اس سے منہ کا کینسر ہو جاتا ہے۔ اگر آپ نے نکوٹین کے متبادل پر جانا ہے تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔ مثلاََ کسی کو پیچ سوٹ کرے گا کسی کو چیونگم اور کسی کو ناک کا سپرے۔

کرن: ناک کے سپرے سے کیا ہوتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: سپرے میں نکوٹین ہوتی ہے۔ سگریٹ پینے سے سب سے پہلے حسی اعضا کی ایڈکشن پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ نکوٹین کی ایک صلاحیت ہے خون کی نالیون کو تنگ کرنا۔ تو سپرے سے ایک فوری احساس ہوتا ہے۔ یاد رکھیں سگریٹ کی ا یڈکشن آپ کو اچھا بھی محسوس کرواتی ہے اور افسردہ بھی۔

جارج: ریلیپس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

ڈاکٹر صداقت علی: یاد رکھیں اس پروجیکٹ پر چلتے ہوئے آپ اس بات سے نا ڈریں کہ آپ ریلیپس کریں گے۔ کیونکہ ناکامی کا ڈر آپ کو کوشش کرنے سے روکتا ہے۔ آپ پہلے سے سوچ لیتے ہیں کہ آپ جلد دوبارہ سے کو شش کریں گے۔ عام طور پر لوگ چار پانچ کوشش کے بعد کامیاب ہو جاتے ہیں۔ چھوڑنے کی کوشش پر اپنے آپ کو شاباش دینی چاہیئے اور ریلیپس پر کبھی لعنت ملامت نہیں کرنی چاہیئے۔ جب آپ ناکامی میں جاتے ہیں تو آپ کی توجہ ناکامی کی بجاے کامیابی پر جانی چاہیئے۔ کوئی بھی حکمت عملی اگر ناکامی کے ڈر سے شروع کی جائے تو کامیاب نہیں ہوتی۔ جو حکمت عملی چاہت کی وجہ سے ہو وہ کامیاب ہو گی۔ سگریٹ آپ اپنے لیے چھوڑتے ہیں تو جب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ اس سے کتنا نقصان ہو رہا تھا اور اب کتنا فا ئدہ ہو رہا ہے تو آپ اپنے آپ سے پیار کرنے لگتے ہیں۔

کرن: یہ تجربہ والی بوتل کی روئی سگریٹ کی وجہ سے پیلی ہو گئی ہے۔ تو حسن صاحب آپ کب سگریٹ نوشی چھوڑیں گے؟

حسن سمرو: میں ایک دن ضرور چھوڑوں گا۔ میری قوت ارادی بہت اچھی ہے۔

جارج: آپ کو ابھی چھوڑ دینا چاہیئے۔

حسن سمرو: ابھی نہیں مگر میں فیصلہ کروں گا اور چھوڑ دوں گا۔

ڈاکٹر صداقت علی: اچھا یہ جو ابھی چھوڑ دینے کا کہنے کی خواہش اچھی نہیں ہے۔ بہتر بات یہ ہے کہ آپ ابھی فیصلہ کر لو کہ چھوڑو گے۔ جب آپ فیصلہ کر لیتے ہیں اور روزانہ اپنے آپ کو کسی طرح یاد دلاتے ہیں اور منصوبہ بندی کرتے ہیں تو اسے کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ دیکھیں جب آپ بلڈنگ بناتے ہیں تو ایک دم سے اینٹیں رکھنا شروع نہیں کر دیتے، پہلے دماغ میں اور پھیر پیپر پر پلان کرتے ہیں۔

کرن: ابھی ایک کال سنتے ہیں۔ اسلام و علیکم! آپ کیسے ہیں؟

کالر: واعلیکم و سلام۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ جو بات کر رہے ہیں میری بیوی کو بہت اچھی لگ رہی ہے اور مجھے بہت بری لگ رہی ہے۔

کرن: جی اب آپ سگریٹ چھورنے کی کوشش کر رہے ہیں یا نہیں۔

کالر: میں چھوڑنا تو چاہ رہا ہوں مگر اتنی قوت ارادی مجھ میں نہیں ہے جو ڈاکٹر صاحب کہ رہے ہیں۔

جارج: مگر آہستہ آہستہ آپ چھوڑ سکتے ہیں۔

کالر: جی میں فلٹر سے سگریٹ پی رہا ہوں جس سے ٹار کی کم مقدار میرے پھیپھڑوں میں جا رہی ہے۔ شروع میں مجھے اس سے کافی مسئلہ ہوا مجھے ذائقہ نہیں مل رہا تھا۔ مگر اب عادت بن گئی ہے۔ مگر کبھی کبھار فلٹر کے بنا بھی پی لیتا ہوں۔ میں وائٹ فلٹر استعمال کرتا ہوں۔ میں ڈائیبٹک بھی ہوں تو کیا جو ابھی ڈاکٹر صاحب نے بتایا میرے لیے بھی فائدہ مند ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں پہلی بات تو یہ کہ ان کی بیوی ان سے محبت کرتی ہے اس لیے وہ خوش ہو رہی ہے۔ خوش قسمت ہیں آپ کہ آپ کو پیار کرنے والی بیوی ملی۔ آپ کو سگریٹ چھوڑنے پر آمادہ کرتی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان کا فوکس صحیح جگہ پر نہیں ہے یعنی یہ فلٹر، سگریٹ، آلات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اصل میں ان کو اپنے آپ پر نطر رکھنی چاہیئے۔ اپنی قوت ارادی کو مضبوط کرنے کے لیے چار چیزیں ہیں۔ ان پر عمل کر کے قوت ارادی مضبوط کر سکتے ہیں۔ پہلی بات اپنے غصے کو مینج کرنا سیکھیں، بات چیت کے طریقوں کو اور بہتر کریں، ذہنی تناؤ کو مینج کرنا سیکھیں۔ ان کو ایسی صحبت ڈھونڈنے کی ضرورت ہے جہاں لوگ ہنسی مذاق کرتے ہوں۔ ان کو بھوکا نہیں رہنا چاہیئے۔ فاقے نا کریں دن میں تین کھانے کھائیں اور کیلورز ان کے ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق ہوں۔ یہ شوگر کے ساتھ ہیں تو تھوڑے وقفے کے ساتھ زیادہ بار کھانا ان کے لیے بہتر ہے۔ اس کے علاوہ ان کو تھکا ہوا نہیں ہونا چاہیئے ان کو اپنے اوپر نظر رکھنی چا ہیئے بلکہ نظر کرم کرنی چاہیئے۔

کرن: ڈاکٹر صاحب آپ سگریٹ کو بار بار منہ کی طرف لے کر جانے کے سٹائل کے بارے میں کیا کہیں گے؟

ڈاکٹر صداقت علی: یہ عادت بعد میں آتی ہے۔ ہاتھوں سے آپ اور بھی بہت سے کام کر سکتے ہیں۔ پہلے آپ اپنا طرز زندگی بدلیں۔ اپنے خود کے ساتھ بات کرنے اور دوسروں کے ساتھ بات کرنے کی صلاحیت پر توجہ دیں۔ اپنے آپ سے نظر ہٹانے کی بجائے اپنے اوپر نظر زیادہ کرنی چاہیئے۔ یعنی اپنے آپ سے نبھاہ کرنا۔

کرن: جو لوگ سگریٹ نہیں پیتے مگر اس سے متاثر ہوتے ہیں تو ان کو کیا کرنا چاہیئے اور وہ اس سے کتنا متاثر ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ تو ایک مجرمانہ بات ہے۔ یعنی جس کمرے میں آپ سگریٹ پی رہے ہیں اور آپ کی بیوی اور بچے بھی کمرے سو رہے ہیں تو ان کو بھی اتنا ہی نقصان ہو سکتا ہے، پہنچا ہے یا نہیں اس کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔ یاد رکھیں پاکستان میں 40 ہزار لوگ سگریٹ کے کینسر ہونے کی وجہ سے ہر سال مر جاتے ہیں ان میں سے 1500 لوگ خود سگریٹ نہیں پیتے بلکہ دوسروں کی سگریٹ نوشی سے متاثر ہوتے ہیں ان کو بھی کینسر ہوتا ہے ان کی کوئی غلطی نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ انہوں نے دوسروں کو اپنے سامنے سگریٹ پینے کی اجازت دی۔

حسن سمرو: جس طرح وقت بڑھ رہا ہے ہم آگے نکل رہے ہیں ریسرچ آگے بڑھ رہی ہے۔ پہلے زمانے میں کوئی منرل واٹر نہیں ہوتا تھا اب لوگ اس کی پرواہ کرتے ہیں مگر پہلے بھی لوگ زندہ تھے اب جیسے سلمنگ سنٹر میں کوئی پتلا نہیں ہوتا مگر وہ چل رہے ہیں مگر پہلے لوگ لمبی عمر جیتے تھے۔

ڈاکٹر صداقت علی: منرل واٹر سے لوگ لمبی عمر جی رہے ہیں۔

کالر: آپ کا آج کا موضوع بہت مزے کا ہے میرے میاں چین سموکر ہیں۔ حسن سمرو کی طرح سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

کرن: آپ کے بچے ہیں؟ اور آپ کے میاں کہاں سگریٹ پیتے ہیں؟

کالر: جی میرے 3 بچے ہیں اور میرے میاں بھی گھر میں ہی سگریٹ پیتے ہیں۔

جارج: ڈاکٹر صاحب بچوں کو کتنا نقصان ہو رہا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں بچے اپنی معصومیت میں بہت تکلیف اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس طرح ایک تسلی بھی دیتے ہیں کہ جب وہ بڑے ہوں گے تو وہ بڑے ہو کر سگریٹ نوشی شروع کر سکتے ہیں کیونکہ جو کام ہمارا باپ کرتا ہے وہ ہم بھی کر سکتے ہیں۔ جیسے بچے باپ کے جوتے پہننا شروع کر دیتے ہیں اسی طرح بچوں کے سگریٹ پینے کے چانس بڑھ جاتے ہیں۔

کالر: ڈاکٹر صاحب! آپ کہتے ہیں کہ سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لئے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے میاں تو فوج میں ہیں وہ تو سکون میں آ ہی نہیں سکتے وہ کیسے سگریٹ چھوڑیں؟ ان کو تیزابیت بھی رہتی ہے اگر کبھی چھوڑیں تو لڑائی جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اگر آپ اپنے میاں کی زندگی بچانا چاہتی ہیں تو پہلے آپ کو سیکھنا چاہیئے کہ سگریٹ نوشی کیسے چھوڑتے ہیں؟ آپ کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات ہونی چاہیئں۔ آپ زبردستی نہ کریں ہر وقت ان کے پیچھے نہ پڑی رہیں۔ زبردستی لٹریچر ان کے سر ہانے نہ رکھیں یا ایسی باتیں نہ کریں جن سے ان کے احساسات خراب ہوں۔ آپ ایک لمبا مقصد بنائیں تاکہ سب سے پہلے پر سکون ہونا سیکھیں۔ پر سکون ہونا ان کا حق ہے۔ ہمارا جو بھی کام ہو مگر پر سکون ہونا ہمارا بنیادی حق ہے۔

کرن: وہ کس طرح پرسکون ہوں؟ وہ آرمی میں ہیں اور سگریٹ ان کو پرسکون کرتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں سکون حاصل کرنے کے 2 طریقے ہوتے ہیں۔ ایک سکون وہ ہے جو آپ اپنی اندر سے پہلے پیدا کرتے ہیں۔ جیسے سکون کی مشق کرنا یا پریڈنگ کر کے اپنے جسم کو سر سے پاؤں تک پر سکون کر کے وا ک کر کے، ان طریقوں سے سکون ملتا ہے۔

حسن سمرو: ڈاکٹر صاحب نے مختلف طریقے بتائے سٹریس کو دور کرنے کے، کچھ اور بتائیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: گھر میں مشکل گفتگو ہوتی ہے یا مشکل صورتحال ہوتی ہے اس کے لئے ہمیں اپنے تبادلہ خیال کی صلاحیت بڑھانی چاہیئے تاکہ ہم بار بار ذرا سی بات پر جذباتی نہ ہو جائیں اور ایک دم مرنے مارنے پر نہ تل جائیں یا ہاتھا پائی پر نہ اتر آئیں۔ گالی گلوچ بہت زیادہ ہو گیا ہے تو ان چیزوں پر جب آپ کام کریں گے تو آپ کو سگریٹ چھوڑنے میں آسانی ہو گی۔ پہلے آپ ورزش کر سکتے ہیں واک شروع کر سکتے ہیں، میوزک سننا شروع کر سکتے ہیں۔ 3 ہفتے آپ یہ کام کریں آپ کو مزہ آنے لگے گا۔

جارج: اگر کوئی باپ سگریٹ نوشی کرتا ہے تو بچوں کے چانس کتنے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: بہت زیادہ چانس ہیں کہ وہ بھی سگریٹ نوشی کریں گے۔ کیونکہ باپ اتنے زور سے ان کو نہیں روک سکتا جو کام وہ خود کرتا ہے کیونکہ جو چیزیں ہم خود کرتے ہیں اس سے ہم نے اپنے آپ کو تسلی دی ہوتی ہے کہ یہ کسی نہ کسی طرح ٹھیک ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس سے کوئی نقسان نہیں ہوتا۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ سموکر کبھی بوڑھے نہیں ہوتے کیونکہ وہ جوانی میں ہی مر جاتے ہیں۔

کرن: حسن سمرو آپ سگریٹ نوشی چھوڑنے کے بارے سوچیں۔ حسن سمرو اور ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ پروگرام میں تشریف لانے کا۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments