فرح سعدیہ:خوش آمدید! میرا یہ پروگرام جہاں ہم ان تمام باتوں کو جو اکثر ہمیں نہیں سمجھ آ رہی ہوتیں کہ انہیں کیسے حل کریں، جیسے گھر گھرہستی، میاں بیوی کے تعلقات وغیرہ۔
آج اس موضوع پر بات کر رہے ہیں ڈاکٹر صداقت سے جو جانے پہچانے سائیکاٹرسٹ ہیں، خاص طور پر ایڈیکشن میں ڈیل کرتے ہیں لیکن تھراپی اور ان تمام چیزوں پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں۔ ولنگ ویز کے آپ سی ای او ہیں۔
اچھا یہ موضوع جس پر آپ پہلے باتیں بتارہے ہیں ان سے اُلٹ ہے جو کہ ہم اماں، نانی، دادی سے مشورے کے طور پر سنتے چلے آ رہے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی:دراصل بات یہ ہے کہ ہماری نانی، دادی نے بات اپنی نانی، دادی سے سنی ہوتی ہے اور یہ جو پرانی باتیں ہیں وہ وراثت سے چلتی آئی ہیں تو اس سے ہی زیادہ مسائل جنم لیتے ہیں۔ کیونکہ وقت ٹھہرتا نہیں بلکہ چلتا رہتا ہے، ٹیکنالوجی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، سب افراد کی ذمہ داریاں بدل گئی ہیں۔ بچپن میں ہم اپنی نانی کے گھر جاتے تھے اور اور کئی کئی دن وہاں رہتے تھے مگر آج وہ سارے رواج ختم ہو گئے ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ جب ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، جب زندگی تیز رفتار ہو جاتی ہے تو ہمیں اس کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ گھستے گھستے پیچھے آنے کی بجائے قدم ملا کر وقت کے ساتھ چلیں۔

فرح سعدیہ: تو آپ کیا بتاتے ہیں اگر زندگی میں کوئی خرابی پیدا ہو رہی ہو، میاں بیوی کے آپس کے رشتے میں نوک جھوک، اَن بن زیادہ ہونے لگ پڑے تو کیا کریں؟

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنی بات چیت میں آگے بڑھیں، یعنی اپنی بات چیت اس طرح سے کریں کہ دوسرے کے دل میں اتر جائے، جب بات چیت کریں تو پہلے اپنے دل کو سنبھالیں، دیکھیں آپ کے دل کے حالات کیا ہیں اور پھر اس کیلئے آپ کے پاس مہارت بھی ہونی چاہئے، دوسرے سے بات کرنے کیلئے، جب بات چیت کریں تو اس طرح نہیں ہونی چاہئے کہ آپ نے کہہ دیا وہی فائنل ہے یا جس سے ’’ تم تو کبھی ایسا نہیں کرتے‘‘ تو ایسی چیزوں کو معاملات میں مداخلت کہتے ہیں۔ جیسے کہ ہماری زندگی کا ساتھی ہمیشہ ہی غلط ہو، ہمیشہ ہی تنگ کرتا ہو یا پھر دعویٰ کرے کہ تمہارا تو مقصد ہی میری زندگی خراب کرنا ہے! بھائی آپ کے جیون ساتھی کا یہ مقصد کیوں ہو گا کہ آپ کی زندگی کو خراب کرے۔ اسی طرح باپ بیٹے سے جب بات کرے گا تو بات بگڑے گی تو ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے، کچھ ایسی گفتگو جو کہ جذباتی ماحول میں ہوتی ہے اس کو ہم ’’مشکل گفتگو‘‘ کہتے ہیں، جو کہ مشکل لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے، مشکل شخص کے ساتھ ہوتی ہے، جذباتی فضاء زیادہ بگڑی ہوتی ہے اور نفع و نقصان کا بھی کافی اندیشہ ہوتا ہے تو یہ جو مشکل گفتگو ہے سیکھے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

فرح سعدیہ: کیسے سیکھیں یہ گفتگو؟ بیچاری خواتین کو تو ویسے ہی کہا جاتا ہے کہ چپ رہو، بولنا نہیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ بولیں بھی اور بولیں بھی اچھی طرح۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں ہمارے ہاں صرف خواتین کو ہی نہیں بلکہ سب کو ہی چپ رہنے کا کہا جاتا ہے جونہی بچے ذرا بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کو صمند کرنا شروع ہو جاتے ہیں، ویسے بھی جو بات چیت ہم گھر میں سیکھتے ہیں یعنی کہ مادری زبان، تو اس سے کوئی بہت بڑے کارنامے انجام نہیں دیے جاتے، گھروں میں ضرورتوں کیلئے انسان جو بات چیت سیکھتا ہے یہ کوئی احساسات کی زبان نہیں ہوتی، زبانی بات چیت جو ہم گھر میں کرتے ہیں وہ لین دین کے بارے میں کرتے ہیں اور یہ کوئی زبان نہیں ہوتی یہ بس گزارے مزارے کی زبان ہوتی ہے، اصل میں جب ہم بات چیت سیکھنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے تو منظم طریقے موجود ہیں جیسے کہ کالج یونیورسٹی وغیرہ۔

فرح سعدیہ: فرض کریں کہ میاں کو بتانا ہے کہ میں ناراض ہوں اور مجھے کوئی بات اچھی نہیں لگی تو کیسے بتائیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: آپ یوں کہیں گے کہ تم نے تو یوں کر دیا، تم نے مجھے پریشان کر دیا، تم نے مجھے ناراض کر دیا یہ جو ’’ صیغہ حاضر‘‘ کی زبان ہوتی ہے اسے ہمیں چھوڑنا ہو گا۔ آپ کو کہنا چاہئے کہ میں پریشان ہوں، میں دکھی ہوں، میں ناراض ہوں یعنی کہ آپ اپنی ناراضگی کا اپنے دکھی ہونے کی ذمہ داری قبول کر رہی ہیں اور ساتھ آپ یہ بات بھی بتا رہی ہیں کہ ایسا فلاں واقعے کی وجہ سے ہوا ہے، اس گفتگو میں جب آپ اپنی طرف انگلی کر کے بات کرتے ہیں تو اس کو ہم کہتے ہیں، اپنی بات کرنا، اپنے احساس کی بات کرنا اور اس کیلئے ضروری ہے کہ بہت سارے محسوسات کیلئے کئی الفاظ بھی آتے ہوں مثلاً غصہ ایک لفظ ہے، غصہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے لیکن اس کے اندر چھوٹی چھوٹی کیفیات موجود ہوتی ہیں۔ جیسے ہم رنجیدہ محسوس کر رہے ہیں، کسی نے ہماری بات نہیں مانی، شرمندگی محسوس کر رہے ہیں یا ہمیں لگ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے یا زیادتی ہوئی ہے یا کسی نے ہماری بات نہیں مانی تو غصہ ان سب چیزوں کا ملغوبہ بھی ہو سکتا ہے، ہمیں اس کے حصے بکھیر کر دیکھنے کی ضرورت بھی محسوس ہو گی، جب آپ بات کرتی ہیں تو آپ اپنے احساس، اپنے جذبات کو دوسرے انسان تک پہنچاتی ہیں۔

فرح سعدیہ: لیکن اکثر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ خاتون اس طرح سے کہہ رہی ہوتی ہے کہ مجھے یہ اچھا نہیں لگ رہا یا مجھے یہ لگتا ہے کہ اسے ایسا ہی لگتا ہے سو ادھر سے سنو اور ادھر سے نکال دو۔

ڈاکٹر صداقت علی:
اچھا جب کوئی ایسا کہتا ہے تو درحقیقت اثر اس پر بھی ہوتا ہے، وہ کہتا ہے کہ تم تو کہتی رہتی ہو، مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، مجھے ذرا برابر بھی فکر نہیں! تو یہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا۔

فرح سعدیہ: یا پھر یہ کہ آپ کو کوئی مسئلہ ہے تو ہم کیا کریں ہمارا تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے اس میں، کہ آپ جتنا مرضی ان کو شائستگی سے بتانا چاہئے کہ تعلق آپ ہی کا ہے مگر وہ نہیں سمجھتے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اصل بات یہ ہے کہ جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فوری نتیجہ نکلے گا تو فوری نتیجے گفتگو میں کبھی بھی نہیں نکلا کرتا، کچھ وقت گزرنے کے بعد ہی نتیجہ نکلتا ہے جیسا کہ آپ بات چیت کر رہے ہیں کسی جذباتی رشتے میں مثلاً ماں باپ سے، بہن بھائی سے، شوہر سے، بیوی سے توایسا کبھی بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ ابھی جب بات ختم ہو گی تو ہمارا مقصد حل ہو جائے گا۔ ایسے معاملے میں بہتر یہ ہو گا کہ بات چیت کرنے کے بعد کچھ دیر کے لئے فراغت اختیار کر لیں۔ یعنی گفتگو فی الحال ختم کر لیں، اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دروازہ پٹخ کر جائیں، پاؤں پٹختے ہوئے جائیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ احترام سے کچھ دیر کیلئے فراغت اختیار کر لی جائے۔ بہت دفعہ ہمیں غصے کے ماحول کو چھوڑ کر باہر نکلنا ہوتا ہے اور پھر واپس بھی آنا ہوتا ہے کیونکہ غصہ ہم قائم نہیں رکھ سکتے۔ غصہ آہستہ آہستہ خود بخود تحلیل ہو جاتا ہے لیکن جب ہم گفتگو ختم کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ کسی کیلئے توہین آمیز نہ ہو۔ جب ہم باہر نکلتے ہیں تو ہمیں جانا چاہئے جیسے ہم پیروں کے پاس جاتے ہیں بالکل ایسے ہی ہمیں اپنے گھر والوں کا احترام کرنا چاہئے یعنی کہ پیچھے ہٹتے ہوئے دوسرے کو برا بھی نہ لگے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی بتا دینا چاہئے کہ ابھی کچھ ماحول ٹھیک نہیں ہے، ابھی بات چیت صحیح نہیں ہو رہی کیوں نہ ہم تھوڑی دیر بعد بات کریں، میں واپس آؤں گا اور پھر بات کروں گا۔ آپ اپنے اوپر ذمہ داری بھی لیتے ہیں یا آپ کہتے ہیں کہ اچھا شام کو بات کریں گے اور پھر شام کو آ کے آپ بات کرتے ہیں تو ماحول بدلا ہوا ہوتا ہے۔

فرح سعدیہ: مجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ ریسلنگ کی طرح ہے جس میں ایک دم بیچ میں بریک آئے گی اور پھر دونوں اپنے اپنے خانوں میں واپس آ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اکثر اوقات ہم ٹھیک ہی بات کر رہے ہوتے ہیں، غصے میں ہمیں اپنی اقدار کا خیال نہیں رہتا، اپنے اصلی پروگرام کی خبر نہیں رہتی کہ ہم چاہتے کیا ہیں؟

فرح سعدیہ: جب تکلیف کی شدت ہو یا آدمی غصے بات کر رہا ہو تو اس مخصوص لمحے میں تو پھر وہ کیا کرے؟

ڈاکٹر صداقت علی: اس ایک مخصوص لمحے میں وہ ایک لمبا سانس لے، وہ بندوبست پہلے کر کے رکھے کہ جب ایسے حالات ہونگے مثلاً جب میں بیوی سے، شوہر سے تلخ ہو رہا ہونگا/ہونگی، میری آواز اونچی، باڈی لینگوئج خراب اور چہرے کے تاثرات بگڑ رہے ہونگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میری گفتگو کا میعار بھی نیچے گر رہا ہو گا اور ہم کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ ہمارا معیار کسی بھی شعبے میں نیچے گرے۔ ہمیں پہلے سے فیصلے کر لینا چاہے کہ جب غصے ہو گا تو میں گفتگو سے باہر نکل جاؤں گا اور گفتگو سے باہر نکلتے ہوئے یقین دہانی کرواؤں گا کہ جلد ہی واپس آؤں گا، ایسے ہم وقتی فرار حاصل کر کے خود پر ذمہ داری لے لیتے ہیں، مجھے یوں لگتا ہے کہ میں بے قابو ہو رہا ہوں غصے سے یا مجھے سے بات چیت صحیح نہیں ہو رہی، مجھے کچھ وقت چاہئے، پھر ہم جا کر کچھ اور کام کر سکتے ہیں، ٹھنڈا پانی پی سکتے ہیں کوئی اور کام بھی کر سکتے ہیں۔

فرح سعدیہ: یہ تو لڑائی لگ ہی نہیں رہی، یہ تو لگ رہا ہے کہ آپ کوئی اداکاری کر رہے ہیں ۔

ڈاکٹر صداقت علی: دراصل ہم آٹو پائلٹ پر نہیں ہیں، زندگی میں جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ گاڑی جدھر بھی جائے، کسی کو بھی جا کر لگے تو پرواہ نہیں اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ گاڑی بے قابو ہو رہی ہے تو ہم رفتار کم کر لیتے ہیں، تھوڑا سا حواس کو بھال کرتے ہیں تو یہ ہیں وہ چیزیں، جبکہ عام لوگ تو یہ نہیں جانتے، کوئی بے قابو ہو کر دروازہ پٹخ کر چلا جائے گا، کوئی بری بات کہ کر یا چلا کر جائے گا۔

فرح سعدیہ:وہ خیال نہیں کریں گے کہ آپ کے ساتھ بات کس طرح سے کرنی ہے تو آپ کس طرح سے اپنا طریقہ قائم کریں گے؟

ڈاکٹر صداقت علی: یہ جو ہم وقت سے پہلے اپنا بندوبست کرتے ہیں، جب مشکل پڑ جاتی ہے تو اس وقت ترکیبیں نہیں سوجھا کرتیں، یہ ترکیبیں پہلے اپنانی پڑتی ہیں، ان کو پکا کرنا پڑتا ہے، اس موقع پر ’’ کہ میں یہ فقرہ کہوں گا‘‘ آپ اپنے آپ کو پہلے دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح جب ذہنی دباؤ آتا ہے تو گفتگو کا معیار بھی بگڑنے لگاتا ہے۔ دباؤ میں ہم میں سے کوئی بھی اپنے اصلی معیار پر قائم نہیں رہ سکتا، ہم معیار سے نیچے گرتے ہیں تو اس کیلئے ہمیں ایک جواز چاہیے ہوتا ہے پھر ہم انسانوں کو انسان نہیں سمجھتے، کسی وقت اپنی ذات کو بہت اہم سمجھتے ہیں، کسی وقت ذمہ داری دوسرے کے کندھوں پر ڈال کر ہم فارغ ہو جاتے ہیں یا ہم کبھی یہ کہتے ہیں کہ یہ تو ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا ہے جیسے مردوں کو اضافی اختیار ہوتا ہے کہ انہیں کچھ خصوصی اہمیت ملے کہ وہ تو مجازی خدا ہیں، کیونکہ وہ تو روٹی کما کر لاتے ہیں، یہ تو روایتی چیزیں ہیں، تصوراتی قصے کہانیاں ہیں، اس وجہ سے بدتمیزی کرنے کا حق تو کسی کو نہیں ملتا کہ وہ اگر کما کے لاتا ہے۔ کسی کو حق نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے کے ساتھ مار پیٹ کرے کہ وہ کما کے لاتا ہے اور حیثیت میں خاوند ہے۔ خاوند کو جو ایک درجہ اوپر دیا گیا ہے وہ انتظامی درجہ ہے جیسے ملکوں میں ایک انتظامی درجہ ہوتا ہے جو کسی کو وزیراعظم بنا دیتا ہے، یعنی کہ وہ دوسرے انسانوں سے بہت اوپر چلا جاتا ہے، اسے صرف انتظام کرنے میں حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ انتظامی فیصلے کرے، ضد کے معاملے میں تو دونوں برابر ہوتے ہیں۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب! ہمارے ساتھ ساجدہ بھی ہیں۔ جی ساجدہ! آپ کیا پوچھنا چاہ رہی ہیں، ڈاکٹر صاحب سے؟

ساجدہ: مجھے ڈاکٹر صاحب سے یہ پوچھنا ہے کہ میں تین چار سال سے کافی بیمار ہوں، ہمارے گھریلو حالات بہت بُرے گزر رہے ہیں، دوسرا میرے دماغ میں تیز آواز پہنچے تو بھی مجھے بُرا لگتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: یار رہے ڈپریشن کیلئے خالی ادویات سے کام نہیں چلاتے، دواؤں پر بھروسہ کرتے ہیں تو پھر دوائیں زیادہ سے زیادہ لینی پڑتی ہیں جیسے بلڈ پریشر کیلئے یا ڈپریشن کیلئے بھی۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ دواؤں سے کام نہیں چلے گا دعا بھی کریں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دعا بھی بہت اچھی چیز ہے کہ اپنے لئے خود کریں اور جو ڈاکٹر نے دوا دی ہے اس کو بھی استعمال کریں، اس کے ساتھ ساتھ کونسلنگ میں بھی جائیں۔ اپنی گفتگو جو آپ اپنے آپ سے کرتے ہیں اس کو بہتر بنائیں اور جو منفی پیغامات جو ہم خود کو دیتے رہتے ہیں ان کو چھوڑ دیں، اُن کی جگہ مثبت پیغامات دیں، دوسرے لوگوں سے کوشش کر کے تھوڑا خوش ہو کر ملیں، یہ نہ پوچھیں کہ اگر میں ڈپریس ہوں گا تو دوسرے مجھے توجہ دیں گے تو ڈپریس لوگوں کو کوئی توجہ نہیں دیتا، لوگ ہمیشہ خوش باش لوگوں کی طرف ہی بڑھتے ہیں، اگر طبیعت میں کچھ ملال بھی ہے تو کوشش کر کے خوشی کا اظہار کریں تو اس سے جسم میں کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جس سے جسم کو بھی پتا چل جاتا ہے کہ آپ خوش ہیں تو پھر جسم بھی ویسے ہی کیمیکلز بناتا ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا ڈاکٹر صاحب! ہم جو اگلی دفعہ بات کریں گے اور اس سے ایک درجہ آگے جائیں تو آپ کیا بات کریں گے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں! پہلی بات تو یہ ہے کہ انسانوں کو بات چیت پر بہت بھروسہ کرنا چاہئے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھا پائی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ میاں بیوی کے رشتے میں دنیا میں بڑے مہذب ملکوں میں بھی مارپیٹ کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، خواتین مردوں سے پٹتی ہیں اور کبھی مرد خواتین سے پٹتے ہیں۔ مردوں کو بھی مار پٹتی ہے مگر مرد پیچارے بتاتے نہیں ہیں۔ وہ مار کھا کے چپکے سے چھپا لیتے ہیں کیونکہ پھر معاشرہ ان کو مذاق کا نشانہ بناتا ہے، جہاں تین عورتیں پٹتی ہیں وہاں دو مرد پٹتے ہیں، یہ تناسب 3:2 کا ہے اور مردوں کے پٹنے کے علاوہ ان کے ساتھ سختی کے جو طریقے برتے جاتے ہیں وہ زبانی کلامی بھی ہوتے ہیں جن میں ہم اگلے پروگرام میں بات کریں گے کہ پٹائی کا سلسلہ کیسے روکا جاسکتا ہے۔ اسے آسانی سے روکا جاسکتا ہے اور اس سلسلے کو ختم کرنے کا معاملہ عورتوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے کیونکہ ان کو ایسی مہارت دی جا سکتی ہے جن کی بدولت وہ مار پیٹ کے سلسلے کو روک سکتی ہیں، اگلی دفعہ ہم اس پر بات کریں گے جو مرد اور عورت کے درمیان گفتگو ہے وہ مشکل گفتگو ہوتی ہے، ہر چیز شئیر کرنی ہوتی ہے۔