قاسم علی شاہ: السلام علیکم ناظرین! میں قاسم علی شاہ علم کی دنیا کے پلیٹ فارم پر اور آج ہمارے ساتھ موجود ہیں ڈاکٹر صداقت علی جو کہ ایک ماہر نفسیات اور سائیکالوجسٹ ہیں۔ ان کی اس شعبہ میں بہت مہارت ہے۔ یہ ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان اور ولنگ ویز کے سی-ای-او ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو این۔ایل۔پی، ہپنوسس اور ایسے ہی دیگر علوم میں بہت مہارت حاصل ہے۔ یہ انٹرویو کی ٹیکنیک کے بھی ماہر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی بے شمار سروسز ہیں اور بے شمار ویڈیوز ہیں جو کہ مختلف سرچ انجنز پر دستیاب ہیں جن کی بدولت مختلف مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے آج ہم ڈاکٹر صاحب سے انٹرویو کی مہارت کے علاوہ وربل “زبانی” اور نان وربل “غیر زبانی” کمیونیکیشن کے حوالے سے گفتگو کریں گے اور وہ سب سوال پوچھیں گے جو آپ ہم سے سوشل میڈیا پر کرتے رہتے ہیں۔ السلام علیکم ڈاکٹر صاحب!

ڈاکٹر صداقت علی: واعلیکم السلام!

قاسم علی شاہ: ڈاکٹر صاحب ! بہت سے بچوں کے لئے سی۔ایس۔ایس کے تحریری امتحان کو پاس کر لینے کے بعد انٹرویو ایک بڑے چیلنج کے طور پر ہوتا ہے۔ یقینی بات ہے کہ جب بچہ تحریری امتحان دیتا ہے تو اس کو اپنا آپ دکھانا نہیں ہوتا لیکن جب وہ انٹرویو دینے جاتا ہے تو اس کو پینل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں کچھ ٹیکنیکل سوال بھی پوچھے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ اس کی باڈی لینگویج اور نان وربل کمیونیکیشن بھی نوٹ کیا جاتا ہے۔ تو ڈاکٹر صاحب آپ یہ بتائیں کہ یہ نان وربل کمیونیکیشن کیا ہوتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: سب سے پہلے تو آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اس موضوع پر مجھے بات کرنے کی دعوت دی۔ انتہائی اہم موضوع ہے ہمارے ملک میں سی۔ایس۔ایس کا امتحان پاس کرنا ایک خواب ہے۔ اکثر ڈاکٹر اپنے میڈیکل کی ڈگری چھوڑ کر سی۔ایس۔ایس میں آ جاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ وہ آفیسر بنیں۔ انگریزوں کے زمانے سے یہ سسٹم چلا آ رہا ہے اور اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید اس میں جو جنرل نالج کی تیاری ہوتی ہے وہی سب سے اہم ہے لیکن اگلا مرحلہ جو انٹرویو کا ہوتا ہے، اس کے نمبروں کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے اور پھر اس کے علاوہ یہ دیکھتے ہیں کہ جب کسی خاص ڈپارٹمنٹ کے لئے تیار کئے جاتے ہیں کہ وہ کسی بھی شہر اور کسی بھی ڈپارٹمنٹ میں جا کر اپنے آپ کو اسی سانچے میں ڈھال لیں تو بنیادی طور پر جنرل نالج کا امتحان پاس کرنے کے بعد جو مرحلہ آتا ہے وہ مرحلہ ہے انٹرویو۔ انٹرویو میں شخصیت کا ایک بھر پور تاثر سامنے آنا چاہیئے۔ چیزوں کا رٹ کر امتحان میں لکھ آنا اور زیادہ نمبر لے لینا یہ بہتر ہے لیکن اس کے بعد جب انٹرویو کا مرحلہ آتا ہے تو اس میں آپ کی پوری زندگی کا اثاثہ سامنے آتا ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ اس کی شخصیت میں کتنا ٹھوس پن ہے یا کتنا غیر حقیقی پہلو اور کیا یہ مستقبل میں اچھا افسر ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جہاں تک سی۔ایس۔ایس تک تحریری امتحان کا تعلق ہے طالب علم کوشش کرتے ہیں کہ جب تحریری امتحان کا معاملہ ہو تو وہ کتابوں کے ساتھ تعلق مستحکم کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ اس دوران ان کو نہیں پتہ ہوتا کہ جب وہ انٹرویو دینے بیٹھیں گے اور افسرانِ بالا سامنے ہوں گے تو ان کے سامنے بات چیت کرنا کتنا اہم ہو گا؟ اور اس میں زیادہ تر طالب علموں کا تجربہ بھی نہیں ہوتا کہ کبھی وہ سٹیج پر آ کر بولتے رہے ہوں گے یا انہوں نے نوکری کے لئے کبھی انٹرویو نہیں دیئے ہوتے تو یہ پہلا موقع ہوتا ہے۔ انٹرویو کے دوران جب 4,3 با ادب شخصیات کے سامنے بیٹھ کر وہ بات چیت کرتا ہے تو اس کی جو تیاری ہے وہ بھی ساتھ ساتھ ہونی چاہیئے۔ یہ ایک دن میں نہیں ہوتی۔ اس میں سب سے اہم چیز باڈی لینگوئج ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی ہمارے کمرے میں داخل ہوتا ہے تو بات چیت سے پہلے جو پہلے 4 سیکنڈ ہوتے ہیں۔ اس میں پہلا تاثر قائم ہو جاتا ہے اور پہلے تاثر کو بدلنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ تو بہتر یہ ہے کہ جو پہلا تاثر ہے وہی اچھا ہو۔ تو اس کے لئے اپنی شخصیت کے ایسے پہلو پر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جن کا انٹرویو سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کیلئے جو بنیادی چیز ہے یا جو گولڈن عادت ہے وہ ہے کہ اگر آپ ورزش کرتے ہیں۔ ورزش سے میری مراد ہیوی ویٹ لفٹنگ نہیں ہے۔ ورزش سے مراد ہے کہ روزانہ صبح آدھے گھنٹے کے لئے واک کریں شام کو روزانہ 15 منٹ واک کریں۔ یا تھوڑی سے جوگنگ کر لیں تو اس سے ہماری باڈی لینگوئج بدل جاتی ہے۔ ہم اپ سیٹ ہو جاتے ہیں۔ پھر توانائی سے بھرپور نظر آتے ہیں۔ عملی زندگی کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جنہوں نے انٹرویو کی تیاری کرنی ہے وہ فوری طور پر واک شروع کر دیں۔ جو کہ دن میں کم از کم 2 مرتبہ ہو۔ اس کے علاوہ اپنی شخصیت کے مزید پہلوؤں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جیسے وزن اگر زیادہ ہے اس کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ دوسروں پر شخصیت کا تاثر اچھا پڑے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قدرت نے ہمارے نین نقش یا رنگ روپ کیسا بنایا ہے۔ فرق اس سے پڑتا ہے کہ پھر ہم اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ اس کو پیش کس انداز میں کرتے ہیں۔ دوسری بات ہے کہ باڈی لینگوئج ایسی ہونی چاہیئے جس میں آپ کی عزت نفس کم نہ ہوتی نظر آئے۔ عزتِ نفس ایک ایسی عزت ہے جس کو سیکھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی عزت ہے جو ہم خود اپنی کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے آپ کی عزت کرتے ہیں تو دوسروں کے سامنے ہمیں گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ اگر کسی وجہ سے ہمیں اپنی کارکردگی یا اپنے رویے پسند نہیں ہیں۔ یا ہمیں اپنے قول و قرار پسند نہیں ہیں تو دوسروں کے سامنے جا کر ہم گھبرا جاتے ہیں ہمارا اعتماد لرز جاتا ہے۔ تو یہ جو پہلو ہیں شخصیت کے لئے ان پر کام لازمی ہے۔ عزتِ نفس کا پہلو بہت اہم ہے۔ پھر ایک بات اور ہے کہ کیا ہم دوسروں سے پہلے سے بہتر انداز میں تبادلہ خیال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے والدین سے مناسب انداز مین گفتگو کر سکتے ہیں؟ کیا بہن بھائیوں کے ساتھ ہمارا گزارہ ہے؟ کیا سکول ٹیچرز ہم سے مطمئن ہیں؟ اگر یہ بیک گراوٗنڈ ہماری ہے کہ ٹیچرز ہمیشہ ہماری کارکردگی پر ناز کرتے رہے تو ہماری باڈی لینگوئج انٹرویو کیلئے تیار ہو گی اور جب ہم انثرویو دینے کے لئے جاتے ہیں تو اس کی پہلے سے ریہرسل ضرور کر لینی چاہیئے کیونکہ ریہرسل سے کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ جیسے لوگ تقریر کرنے جاتے ہیں تو پہلے وہ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر چیک کرتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ یا لوگوں کو سامنے تصور کر کے ریہرسل کر لیتے ہیں تو انٹرویو کے لئے یہ طریقہ کارآمد ہے کیونکہ جتنے بھی سوال انٹرویو کے دوران ہم سے کئے جاتے ہیں وہ اتنے بھی انوکھے نہیں ہوتے۔ عام سے سوالات ہوتے ہیں اور بہت ساری کتابوں میں اس قسم کے سوالات مل جاتے ہیں کہ انٹرویو میں یہ سوال پوچھے جائیں گے تو ایسے سوالات کے اچھے جوابات ہمارے پاس پہلے سے موجود ہونے چاہیئیں۔ اس کے علاوہ باڈی لینگوئج کے لئے لباس بھی اہم ہے۔ کیونکہ ہم جیسا لباس پہن کر جائیں گے۔ ہماری باڈی لینگوئج بھی اس کے سانچوں میں ڈھل جاتی ہے۔ پھر چہرے کے تاثرات بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ کسی بھی بات چیت میں لفظوں کا جو اثر گفتگو پر پڑتا ہے وہ صرف سات فیصد ہے۔ 93 فیصد جو ہے باڈی لینگوئج، چہرے کے تاثرات ، آواز کا اتار چڑھاؤ اور اسی طرح کی اور چیزیں کہ سانس ہم کیسے لیتے ہیں؟ ہم ہاتھ کیسے ہلاتے ہیں۔ کیا ہم ڈرے ہوئے اور سہمے ہوئے تو نہیں ہیں؟ تو یہ بہت اہم باتیں ہیں انٹرویو کی تیاری کی ہیں۔

قاسم علی شاہ: ڈاکٹرصاحب یہ جو نان وربل کمیونیکیشن ہے۔ یہ کنٹرول نہیں ہوتے۔ مثلاََ زندگی کا اتنا وسیع تجربہ نہیں ہوتا کہ ان پر کام کیا جائے یا کہہ لیں کہ وہ شرمیلے ہوتے ہیں تو انٹرویو میں سے شرم کے عنصر کو کیسے ختم کیا جائے؟ اس کے لئے کوئی مشق یا کوئی طریقہ استعمال کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں! ایک چیز ہوتی ہے delibarate مشق ۔ اس سے مراد ہے کہ کسی کوچ کے سامنے ہم اپنی کارکردگی پیش کرتے ہیں اور اس سے ہم اپنی اصلاح لیتے ہیں۔ اگر کوئی سپنر ہے اور وہ اپنی باڈی لینگوئج کو بہتر کرنا چاہتا ہے تو وہ کسی ماہر کوچ کے سامنے باؤلنگ کرے گا تو وہ کوچ اس کو بتائے گا کہ آپ کہاں اور کس چیز میں تبدیلی لائیں گے تو بہتری ہو گی؟ پھر آپ اس کے سامنے تبدیل شدہ باؤلنگ کریں اور وہ اس کو approve کرے تو اس کو ہم delibarate-practiceکہتے ہیں۔ تو جب ہم باڈی لینگوئج کی بات کر رہے ہیں تو یہ کوئی مذاق کی بات نہیں ہے۔ اس کو ہمیں کسی کو کوچ کی زیر نگرانی سیکھنا چاہیئے۔ ہمیں اپنی ویڈیوز بنا کر دیکھنی چاہیئیں۔ کیونکہ آجکل یہ بہت آسان ہو گیا ہے ہر کسی کے لئے کہ وہ اپنی ویڈیو بنا سکتا ہے۔ سیل فون سے بھی بنا سکتا ہے۔ جس طرح ہم اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتے ہیں ۔ کیمرہ ہمیں اس طرح سے نہیں دیکھتا۔ کیمرہ ہمارے اس رخ کو بھی دیکھتا ہے جو آئینہ ہمیں دکھا سکتا۔ ہمیں پھر اپنی آواز اور حرکات و سکنات کو ٹھیک کرنے کا موقع ملتا ہے لیکن زیادہ تر لوگ اپنی آڈیو ریکارڈنگ یا ویڈیو ریکارڈنگ سے گھبراتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ اگر وہ خود کی آواز اور ویڈیو ریکارڈ کریں گے تو ان کی آواز اچھی نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو اپنی آواز کا تجربہ خود نہیں ہوتا کیونکہ جب ہم بولتے ہیں اس وقت جب ہم اپنی آواز سنتے ہیں۔ اس میں فرق ہوتا ہے۔ جو ریکارڈڈ آواز ہوتی ہے۔ یہ کچھ اور ہوتی ہے تو ہمیں اپنی ریکارڈ شدہ آواز سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ہمیں تھوڑی تھوڑی اجنبی لگتی ہے لہٰذا باڈی لینگوئج ایک طرف ہے۔ چہرے کے تاثرات دوسری طرف ہیں اور تیسری چیز آواز کی ریزیوم ہے۔ پھر اس کے علاوہ اپنے دل میں دوسرے انسان کے لئے عزت و احترام یعنی جب آپ کسی کو انٹرویو دینا چاہیں تو دل میں اس کی عزت پیدا کریں۔ اگر آپ اس کا کوئی مثبت تاثر اپنے ذہن میں رکھیں تو آپ کے چہرے پر اچھے تاثرات ہوں گے۔ مسکراہٹ کے ساتھ بات کر سکیں گے۔ آپ بہت زیادہ خوف زدہ بھی نہیں ہوں گے، لا پرواہ بھی نہیں ہوں گے۔ کیونکہ اگر آپ مستحق ہیں، آپ نے محنت کی ہے تو آپ کو آپ کی محنت کا پھل ضرور ملنا چاہیئے۔

قاسم علی شاہ: ڈاکٹر صاحب! یہ جو آپ نے خوف زدہ ہونے کی بات کی ہے تو انٹرویو کا تو پریشر ہی بہت زیادہ ہے۔ اس کے پریشر کو کیسے مینج کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: یہpre-determination یعنی وقت سے پہلے کرنے سے ٹھیک ہوتی ہے۔ ہمیں بہت سے خوف ہوتے ہیں۔ نئی چیزوں کا خوف ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ ان چیزوں کا خوف دور ہو جاتا ہے۔ جیسے ہم نئی نئی ڈرائیونگ سیکھتے ہیں تو دائیں بائیں تھوڑے چوکنے ہو کر دیکھتے رہتے ہیں، ڈرتے رہتے ہیں اور اپنی ڈرائیونگ کو انجوائے بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن ایک وقت آتا ہے کہ ڈرائیونگ ہمارے لئے ایک 2nd آپشن بن جاتی ہے۔ ہم ہر حال میں اسے جاری رکھ پاتے ہیں۔ ہم بہت خوش ہوں یا کسی بڑی ٹینشن میں ہوں ڈرائیونگ بہرحال سب لوگ کر لیتے ہیں۔ جو کوئی کام ہمیں بہترین آتے ہوں وہ ہم ٹینشن میں بھی کر لیتے ہیں۔ لہٰذا یہ جو delibarate practice ہے جو انٹرویو سے پہلے کرنے کی ہوتی ہے۔ جس میں آپ کسی مضبوط شخصیت کے سامنے بیٹھ کر اس کو کہتے ہیں کہ آپ مجھ سے یہ سوال کریں پھر میں اس کا جواب دوں گا پھر آپ بار بار دوسرے سوال کریں اور میں جواب دوں گا۔ تو یہ جو delibarate پریکٹس ہے۔ یہ دراصل رٹا ہے۔ یعنی رٹا لگ جاتا ہے۔ آپ کی حرکت و سکنات کو جو کہ انٹرویو کے درمیان نیچرلی کرنی ہوتی ہیں۔ تو پھر اگر آپ ڈرے ہوئے بھی ہوں تو آپ کو مشکلات پیش نہیں آتیں۔ ایک اور چیز بھی ہے کہ اگر آپ کو انٹرویو سے ڈر لگتا ہے تو اس کو زیادہ خاطر میں نہ لائیں۔ ڈرتے رہیں لیکن کر گزریں جیسے اگر آپ سٹیج پر جانے سے کیمرے کے سامنے جانے سے ڈرتے ہیں تو ڈرتے رہیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کرتے رہیں۔ تو جب آپ کرتے رہتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں تو ڈرنے کا عمل اس میں سے delete ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جب آپ ڈرتے ہیں اور کرتے نہیں تو ڈرنے کا عمل increase ہو جاتا ہے۔ اسے ہم کہتے ہیں کہ Feel the fear and do it anyway

قاسم علی شاہ: ڈاکٹر صاحب کچھ سوال ایسے پوچھے جاتے ہیں جن کا مقصد ان کی نفسیات جاننا ہوتا ہے اور بچوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ان سوالات کی بدولت وہ ان سے کیا پوچھ رہے ہیں؟ یا دوسرے لفظوں میں کہہ لیں کہ اس انٹرویو میں پریشر پیدا بھی کیا جاتا ہے۔ ایسا کر کے بچے کی نان وربل کمیونیکیشن واچ کی جا رہی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے اس کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے آ جاتے ہیں۔ اس چیز کو کیسے مینج کیا جائے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں! جیسے ہم بڑا آفیسر بنانے لگتے ہیں تو اس میں سب سے اہم جو گن دیکھے جاتے ہیں وہ assertiveness کے ہیں کہ کیا وہ صحیح موقع پر ناز کر سکتا ہے؟ کیا وہ اس بارے میں دباؤ میں تو نہیں آ جاتا۔ تو اگر تھوڑی بہت assertiveness سیکھی ہو تو ہم جب انٹرویو دینے جاتے ہیں تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جتنا ہم ہم اپنے آپ کو تابعدار شو کریں گے اتنے ہی ہمارے نمبر اچھے ہوں گے۔ جبکہ وہاں جانچا یہ جا رہا ہے کہ کیا اپنے قدموں پر کھڑا ہو کر ہنس ہنس کر یہ بندہ بات کر سکتا ہے تو ایک آفیسر سے ہمیں امید یہ ہوتی ہے کہ وہ دانش مند ہو گا اور وہ صحیح بات چیت کر سکتا ہو گا۔ لوگوں کو offend کئے بغیر تبادلہ خیال کر سکتا ہو گا اور ان کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہی اور وہ ہاں یا ناں کرنے کے معاملے میں میرٹ کو مدِ نظر رکھتا ہو گا۔ جب ہم اپنے آپ کو برابری کی سطح پر رکھ کر انٹرویو دیتے ہیں کیونکہ انسان بنیادی طور پر برابر ہوتے ہیں۔ کسی کو اپنے سے ادنیٰ یا اعلیٰ سمجھتے ہوئے بات چیت کریں گے تو بات چیت کے نقائص پیدا ہوں گے۔ لہٰذا پہلی بات تو یہ ہے کہ کبھی کسی سے ڈرنا گھبرانا نہیں چاہیئے اور دوسری بات یہ کہ میٹرو effect پیدا کرنا چاہیئے، یہ سوچ کر بات نہیں کرنی چاہیئے کہ سننے والے کو کیا بات اچھی لگے گی بلکہ صحیح بات کیا ہے وہ بات کرنی چاہیئے یا میں کیسا سوچتا ہوں۔ تو اگر آپ کی سوچ مختلف بھی ہو گی تو اس کو پسند کیا جائے گا اور اگر آپ ہاں میں ہاں ملانے والے ہوں گے تو انٹرویو میں آپ کی کامیابی تھوڑی مشکل ہو جائے گی۔ ہاں اگر گھروں میں والدین کے سامنے آپ ہاں کریں یا اساتذہ کے سامنے ہاں کریں تو اس کی appreciate کیا جاتا ہے لیکن کام کی جگہ پر یا باس کے سامنے بات کریں تو وہ چاہتا ہے کہ ہم جو بات کہیں وہ کریں بھی۔ یعنی دل سے بات کریں تو اگر ہم دل میں کچھ اور رکھیں اور زبان پر کچھ اور اوپر سے میٹھے اور دل میں تلملا رہے ہوں تو یہ چیز درست نہیں۔

قاسم علی شاہ: سر بے شمار بچے بہت لائق ہوتے ہیں تعلیم کے اعتبار سے فکر بھی ہوتی ہے ان کا background دیکھا جائے تو وہ تھوڑا weak ہوتا ہے۔ وہ ایسے گھروں سے ہوتے ہیں جن کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔ تعلیم اور محنت و ذہانت کے بلبوتے پر وہ نمبر تو لے لیتے ہیں۔ لیکن انٹرویو میں وہ اپنی کمزوری کو اپنی طاقت میں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں یا نفسیات ایسے میں مدد کرتی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ آپ نے بڑا اچھا سوال کیا ہے۔ امتحانات میں زیادہ سے زیادہ نمبر لینے کے بعد بچے یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی مل گئی ہے لیکن تحقیق یہ بتاتی ہے کہ Aگریڈ لینے والے ضروری نہیں کہ زندگی میں کوئی بڑا کام کریں یا بڑے اونچے درجے کی درسگاہ سے ڈگری لینا کامیابی کی ضمانت نہیں۔ کچھ اور عجیب و غریب عناصر ہیں جو اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جن میں high energy level ہونا ، procrastination کو کنٹرول کرنا۔ پھر دوسرے لوگوں سے بہترین نبھا کر سکنا۔ پھر اس کے علاوہ deals win-win کرنا۔ یعنی اپنا اور دوسرے لوگوں کا نقطہ نظر ترازو کے پلڑوں میں رکھ کر تولنا۔ اس کے علاوہ کچھ unique نقوش ہوتے ہیں۔ جیسے کسی میں کوئی حسِ مزاح ہوتی ہے یا نالج ہوتی ہے جب بھی آپ کسی سے ملیں تو آپ کی نالج میں ان سے ملنے کے بعد اضافہ ہوتا ہے یا کوئی بندہ ہوتا ہے جو بہت ہی respectful ہوتا ہے۔ ہر ایک کی ہی respect کرتا ہے۔ جو ادنیٰ ملازم کو بھی عزت سے بلاتا ہے تو عام طور پر کامیاب وہی ہوتا ہے جو سب کی عزت کرتا ہے، لیکن بات جو ہے وہ حق سچ کی ہی کرتا ہے۔ زندگی میں بھی کامیاب ہونے کے لئے ہمیں کچھ ایسے ہی پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جیسے اگر ہماری جسمانی صحت اچھی ہے تو کامیابی کے چانس اچھے ہو جائیں گے۔ اگر ہماری ذہنی صحت اچھی ہے تو کامیابی کے امکانات اور بہتر ہو جائیں گے۔ پھر ہر ایک سے نبھا کی پالیسی انسانوں اور اداروں کی کامیابی کے لئے بہت مفید ہے جب ہم کسی کو سی۔ایس۔ایس آفیسر کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ نہ صرف اس کی اچھی جسمانی صحت ہو بلکہ اس کا مزاج بھی اچھا ہو، اس کو بات چیت کرنے کا انداز آ تا ہو۔ شائستہ ہو اس کا لباس اچھا ہو۔ ہر کسی سے بات کرنا جانتا ہو۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ وہ ہر کسی کو چاپلوسی کے ذریعے کام کرتا ہو۔ یا خوشامد کرتا ہو، وہ ڈپلومیٹ ہو، ہارش نہ ہو، لوگوں کے دل نہ توڑے مگر بات اصول کی کرے۔ سادی لفظوں میں دوسروں کو لارے نہ لگائے۔ جھوٹے وعدے نہ کرے، عام لفظوں میں حقیقت بتائے، وہ بہت passive نہ ہو اور agressive بھی نہ ہو۔ وہ assertive ہو۔

قاسم علی شاہ: بے شمار سوالات ایسے ہیں جن کا جواب دیتے ہوئے طالب علم خوف زدہ ہوتے ہیں۔ مثلاََ کوئی ایسا سوال ہو جو گورنمنٹ کے بارے میں ہو۔ جیسے یہ گورنمنٹ کیسی جا رہی ہے۔ یہ کرپشن کیسے ختم کی جا سکتی ہے۔ بے نظیر کی حکومت کیسی تھی؟ اس کا جواب کیسے دیا جائے؟

ڈاکٹر صداقت علی: ایسے سوال پوچھنے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ انٹرویو دینے والی کی اپنی بھی کوئی رائے ہے یا پھر وہ اکثریت کے ساتھ مل جاتا ہے۔ جیسے کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ گھروں میں اس چیز کو بہت اچھا سمجھا جاتا ہے کہ آپ اپنے والدین اور بزرگوں کی رائے کو اپنا لیں، ہاں میں ہاں ملائیں، حالانکہ وہاں بھی آپ کو اپنی رائے کا اظہار کر کے کلئیر ہونا چاہیئے۔ لیکن ورک پلیس پر بے لاگ بات کرنا، صحیح بات کرنا، دل کی بات کرنا اور اس کے لئے شواہد لانا یہ بہت اہم ہے۔ تو جب پوچھا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کیسی جا رہی ہے تو اس میں آپ کی پہلے سے کوئی تیاری ہونی چاہیئے۔ اپنی بات کو prove کرنے کے لئے شواہد ہونے چاہئیں۔ آپ کو ایمانداری سے جواب دینا چاہیئے۔ کوئی سے تین جوابات نہیں ہونے چاہیئیں۔ اگر آپ سے کوئی سوال پوچھا ہے کہ ہمارے ملک سے کرپشن کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ تو آپ بتا سکتے ہیں کہ معاشرے میں ایک پورے پراسس کی تبدیلی سے کرپشن ختم ہو سکتی ہے۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ کرپشن اور اِن کامپیٹنس میں سے، جب معاشرہ انصاف پر چلتا ہے تو کون سی چیزیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں زیادہ خرابیاں پیدا کر سکتی ہے۔ تو آپ بتا سکتے ہیں کہ ان کمپیٹنس بہت خرابیاں پیدا کر سکتی ہے۔ اگرچہ کرپشن بہت نقصان دیتی ہے لیکن ان کمپیٹنس کا نقصان زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ریلوے میں کرپشن ہو مگر کمپیٹنس ہو، یعنی ہر گاڑی چل رہی ہو اور اپنی مزل پر پہنچ رہی ہو تو یہاں پر کرپشن کو ریلوے جذب کر سکتا ہے۔ یا اگر PIA میں جہاز وقت پر چل رہے ہوں اور اپنا کام پورا کر رہے ہوں تو کرپشن PIA سہہ لے گا۔ لیکن جہاں اِن کمپیٹنس ہے۔ گاڑی چل نہیں رہی یا جہاز اڑ نہیں رہے پھر تھوڑی سی کرپشن بھی ادارے کو نڈھال کر دے گی۔ کچھ نہ کچھ پیچھے کوئی ایسا عنصر ہونا چاہیئے کہ ہماری زندگی بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ تمام لوگوں اور پوری آرگنائزیشن کا سفر بہتری کی طرف جا رہا ہے لیکن بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ نہیں پہلا زمانہ بہت اچھا ہوتا تھا۔ ماضی میں سب بہت اچھا تھا۔ مہنگائی نہیں تھی، لیکن یہ جو ہے نا کہ زمانے کی نفی کرنا اور پرانے زمانے کو سراہتے رہنا۔ یہ کوئی بہت زیادہ احسن نہیں سمجھا جاتا اور جو کچھ بھی ہو رہا ہوتا ہے، اس پر مغموم ہو جانا، پریشان ہو جانا۔ جبکہ ایک سلور لائننگ ہوتی ہے، کالے بادلوں کے ساتھ، اس لائننگ پر نظر رکھنی چاہیئے۔

قاسم علی شاہ: ڈاکٹر صاحب آپ طالب علموں کو کوئی پیغام دینا چاہیئے؟ کیونکہ یہ ویڈیو تو سوشل میڈیا پر پڑی رہنی ہے ۔ سی۔ایس۔ایس اور انٹرویو کی تیاری کے لئے جو آسانی مہیا کرے ایسا میسج دیجئے گا۔

ڈاکٹر صداقت علی: سی۔ایس۔ایس کے طالب علموں کو میں یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ وہ بڑے مایہ ناز لوگ ہوتے ہیں جو سی۔ایس۔ایس کا امتحان پاس کرتے ہیں۔ جیسے میں آپ کو بتاؤں 80% طالب علم اپنی تعلیم کو مکمل نہیں کر پاتے۔ بُری طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔ 16% ہیں جو کچھ بہتر تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن 4% ایسے طالب علم ہوتے ہیں جو اہلیت رکھتے ہیں سی۔ایس۔ایس کے امتحان کے لئے۔ تو سوچیں یہ کتنے ممتاز لوگ ہیں۔ تو سب سے پہلے تو سی۔ایس۔ایس کے طالب علموں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ وہ کتنے چنے ہوئے لوگ ہیں تو انہیں اپنے آپ پر اعتماد ہونا چاہیئے کہ ان کا شمار ان چند طالب علموں میں سے ہوتا ہے جو اس درجے کی تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ سی۔ایس۔ایس کریں اور سی۔ایس۔ایس کا امتحان ہزاروں لوگ دیتے ہیں اور اس میں سے کامیاب لوگوں کو مزید ٹریننگ دی جاتی ہے پالش کیا جاتا ہے تاکہ عملی طور پر ان کو بڑے افسروں کے ساتھ لگایا جا سکے۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ تو ہماری بیوروکریسی ہے جسے نوکر شاہی اور ایسے ہی دوسرے لفظوں سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان میں بڑے لاجواب لوگ ہوتے ہیں اور اگر ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے تو ملک بہت ترقی کرتا ہے۔ اصل حکومت سی۔ایس۔ایس کے ذریعے چلتی ہے اور سیاست دان صرف direction دیتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں جو لوگ بھی سی۔ایس۔ایس کی لائن میں جا کر افسر بننا چاہتے ہیں ان کو اپنی گرومنگ کرنی چاہیئے۔ ورزش ضروری ہے۔ ان کے لئے غذائیت پوری کرنا لازم ہے۔ نیند پوری کرنی چاہیئے اور خاص طور پر شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرنا چاہیئے تاکہ ان کا اعلیٰ دفاع زنگ آلود نہ ہو جائے اور انہیں اپنے کندھے پر وہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے جس کا تعلق عزت اور وقار سے ہے۔