فرح سعدیہ: کیا حال ہے؟

کالر: ہاں جی ٹھیک ہے۔ آپ سنائیں کیسی ہیں؟

فرح سعدیہ: بالکل ٹھیک ٹھاک۔ اﷲ کا شکر آپ فرمائیں۔

کالر: ہاں جی میں فوزیہ ملتان سے بول رہی ہوں۔

فرح سعدیہ: جی جی۔

کالر: میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری کوئی بیٹی نہیں ہے میرے بیٹے ہیں۔ تو میں نے ایک بیٹے کی شادی کی ہے۔

فرح سعدیہ: صحیح۔

کالر: تو بہو بالکل میرے ساتھ بولتی نہیں ہے اس لیے میں اُس کے پیچھے پیچھے بھاگتی ہوں۔ اتنا اس کا خیال رکھتی ہوں مگر وہ بالکل مجھے پیار نہیں کرتی آپ مجھے بتائیں کہ اب میں کیا کروں؟
فرح سعدیہ: آپ اُس سے کیا چائتی ہیں؟ بہو سے کیا چاہتی ہیں؟

کالر: جی میں تو اُس کو سارے کام کر کے دیتی ہوں جیسے بیٹوں کے کرتی ہوں کہ یہ میری بیٹی ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا مطلب آپ یہ چاہتی ہیں کہ وہ آپ کی بیٹی بن کے رہے۔

کالر: ہاں بیٹی بن کے رہے۔ اُس نے مجھے نہ کبھی امی بولا ہے نہ کبھی آنٹی۔

فرح سعدیہ: تو کیا بولتی ہے؟

کالر: کچھ بھی نہیں بولتی وہ سارا دن ایسے چپ رہتی ہے۔ میں جا کے کہہ دیتی ہوں بیٹا یہ بات ہے۔ اب بچہ بھی ہے اُس کا۔

فرح سعدیہ: بیٹے کے ساتھ ٹھیک ہے؟

فرح سعدیہ: اچھا بیٹے کے ساتھ ٹھیک ہے؟ میاں بیوی کا تعلق ٹھیک ہے؟

کالر: وہ بھی اتنا سہی نہیں ہے۔ میرا بیٹا کہتا ہے یہ میری امی ہیں۔ میری امی کے ساتھ مل جل کے رہو۔ وہ بالکل اپنے کمرے میں اکیلی رہتی ہے۔ پتہ نہیں اُس کو کوئی مسئلہ ہے۔
فرح سعدیہ: اچھا آپ ساتھ رہیں۔ یہ تو ویٹ سلوشن سے کسی اور سلوشن کے طرف چلے گئے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: چھوٹا سا جواب میں ان کو دینا چاہوں گا کہ جب کسی لڑکی کا گھر بدلتا ہے یعنی وہ ماں باپ کے گھر سے اپنے سسرال۔

فرح سعدیہ: خاصا ٹائم ہو گیا ہے اب ایک بچہ بھی ہے۔ ایک سال تو کم از کم ہو گیا ہو گا۔

ڈاکٹر صداقت علی: مطلب پھر بھی ایک تبدیلی کا عمل ہے اور بعض لوگوں کے لیے قبول کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔

فرح سعدیہ: صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: جیسے ہم عادتیں بدلتے ہیں تو تھوڑا بے چین ہوتے ہیں۔ تو لڑکیا ں بھی جب سسرال جاتی ہیں تو شروع کے وہ چاہ وچونچلوں کے بعد تھوڑا بے چین ہو جاتی ہیں۔ تو ان کو بہت زیادہ ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں اگر آپ ان کے بہت زیادہ اردگرد رہیں جیسے آپ کسی کے گھر مہمان جائیں اور لوگ ہر وقت آپ کے چاروں طرف ہی رہیں اور کبھی ایک چیز کھانے کے لیے پکڑائیں اور کبھی دوسری چیز بہت زیادہ خیال رکھیں تو اس سے بھی لوگ بے چین ہوتے ہیں۔ دوسرے کے اشارے کو دیکھ کر چلنا چاہیئے اور بہو بیٹی ہی ہوتی ہے انگریزی میں اسے ڈاٹر۔ان۔لاء کہتے ہیں تو ہم نے بہو نام رکھ کے تھوڑا فرق ڈال دیا ہے۔ ہم نے رشتوں میں بھی بڑا فرق ڈالا ہوا ہے۔ تو یہ جو تفریق ہم کرتے ہیں اس کی وجہ سے بہوؤں کو مشکل ہو جاتی کہ ساس کو ماں کہیں۔

فرح سعدیہ: نہیں ڈاکٹر صاحب! ایک اور چیز بھی ہے کہ جب آپ اپنے لیے بہو دیکھنے جا رہے ہو اور ایک ایسی فیملی میں دیکھنے جا رہے ہیں جہاں سے آپکو امید ہے کہ وہ اچھی بہو ہو گی۔ تو جب لڑکی کو آپ دیکھیں تو اس نظر سے ضرور دیکھیں کہ کہیں اس نے یہ تو پلان نہیں کیا ہوا یا اس کے ذہن میں بہو بننے کا نظریہ کم ہے اور بیوی بننے کا نظریہ زیادہ ہے کیونکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اس کی شادی ہو رہی ہے اس کا ایک اپنا گھر ہو گا جہاں وہ رہے گی تو اگر اس کے اس طرح کے نظریات ہیں تو پھر اس کے لئے زیادہ مسلہ ہو گا۔

ڈاکٹر صداقت علی: اصل میں ہم اسلامک میرج اور ہندوستانی میرج کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ اسلامک میرج میں جو صحیح تصورات ہیں وہ میاں بیوی کے درمیان رشتے کے تصورات ہیں۔ مشترکہ فیملی سسٹم یعنی ساس اور سسر اس میں شامل نہیں ہوتا۔ تو اس لئے آپ دیکھیں کہ خواتین کے لئے ایسے کوئی واضح احکامات ہیں ہی نہیں کہ ساس کے ساتھ اور سسر کے ساتھ رہا جائے۔

فرح سعدیہ: اور سعودی عرب میں آج تک ہم نے یہ نہیں سنا کہ کسی نے اپنی بیوی کو اس لئے طلاق دے دی ہو گی کہ یہ میری ماں کی خدمت نہیں کرتی ہو گی۔

ڈاکٹر صداقت علی: اچھا!

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments