فرح سعدیہ: اور کوئی سعودی اس لئے احساس غلطی میں مبتلا نہیں ہوتا کہ میری بیوی میری ماں کی خدمت نہیں کرتی۔ کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ بیوی کا کام یہ نہیں ہے۔ بیوی کا کام کچھ اور ہے۔ ماں کی خدمت کرنا اپنا کام ہے اور وہ میں کروں گا۔ اس کا بیوی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: ایک اور بھی بتاؤں کہ جیسا ہمارے اسلام میں ہمیں جو چیزیں سکھائیں جاتی ہیں وہ بیوی کی خاوند کے حوالے سے اور خاوند کی بیوی کے حوالے سے بہت زیادہ باتیں ہیں۔ لیکن برصغیر میں شادی کر کے کوئی بیوی لاتا ہے تو وہ پورے گھر کے لئے ایک رشتہ بنتا ہے۔ برصغیر میں ثقافت مشترکہ فیملی سسٹم اور سب کے ساتھ ایک رشتے کو نبھانا ہے۔

فرح سعدیہ: صحیح !

ڈاکٹر صداقت علی: وہ لڑکیاں جن کو یہ طریقہ نہیں آتا۔ یا انھیں کرنا نہیں آتا۔ وہ بھی پہلے سے کچھ نہ کچھ سیکھی ہوتی ہیں اور بچپن سے ہی لڑکیاں یہ سیکھی ہوتی ہیں۔ تو اس کے لیے بہت زیادہ چاؤں چونچلے کرنے کی بھی ضرور ت نہیں۔ صرف تھوڑا بہت ذرا عزت وآبرو سے بات کریں۔

فرح سعدیہ: اور تھوڑا ٹائم اور جگہ دیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور دوسرا یہ کہ اسکو اپنے گھر والوں سے کاٹنے کی کوششیں نا کریں کہ ماں سے بات مت کرو۔ بہن بھائیوں سے بات مت کرو۔ انسان کو اپنے ماں باپ کی عادت ہوتی ہے۔ بہن بھائیوں کی عادت ہوتی ہے۔ اپنا کمرہ، اپنی چیزیں، اپنے بھائی، اچانک ایک لڑکی شادی کے بعد، یہ سب کچھ اپنا پن وہ کھو دیتی ہے اور ایک نئے گھر میں جاتی ہے۔ لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ ہماری روایات اتنی ظالمانہ ہیں۔ لڑکیاں شادی کا اتنا چاؤ رکھتی ہیں کہ چھٹی، ساتویں جماعت میں ہی وہ خوابوں کی دنیا میں چلی جاتی ہیں۔ لیکن شادی کا تجربہ چھ مہینے کے اندر اندر ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے۔

فرح سعدیہ: بالکل اسی لئے نقصان ہو جاتا ہے کہ ٹریننگ نہیں ہوتی پتہ نہیں ہوتا۔ کہ شادی اصل میں ہے کیا۔ اگر یہ پتہ ہو کہ یہ سارا کچھ کرنا پڑے گا تو کم ہی لوگ شادی کریں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں ہوم اکنامکس مضمون میں یہ سکھایا جانا چاہیئے کہ شادی کو خوبصورت کیسے بناتے ہیں۔ ایک لڑکی کو بالکل بھی یہ سمجھ نہیں ہوتی۔ انیس، بیس، چوبیس، پچیس سال کی عمر میں جا کہ اپنی سماجی رشتوں کا نبھا کیسے کرنا ہے۔

فرح سعدیہ: بالکل یہ پتہ نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ سیکھنے کا کام ہے اگر کوئی گھریلو خاتون بننا چاہتی ہے تو اس کا سب سے بڑا مضمون یہی ہے۔

فرح سعدیہ: رشتہ داری نبھانی آنی چاہیئے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور یہ گھر کی سیاست کوئی بری بات نہیں ہے اسے پتہ ہونا چاہیئے کہ اپنی ساس کے ساتھ کیسے بات کرنی چاہیئے۔ سسر کے ساتھ کیسے کرنی ہے اور رشتہ کیسے بنانے ہیں ۔

فرح سعدیہ: بالکل

ڈاکٹر صداقت علی: یہ چیز آتی ہو تو تکلیف نہیں ہوتی۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments