فرح سعدیہ: اچھا جناب ایک کالر ہے ہمارے ساتھ السلام علیکم! کیسی ہیں؟

کالر: السلام علیکم!

فرح سعدیہ: السلام علیکم! کیسی ہیں ٹھیک ٹھاک ہیں؟

کالر: میں ٹھیک ٹھاک آپ ٹھیک ہیں؟

فرح سعدیہ: بالکل ٹھیک اللہ کا شکر فرمائیے۔

کالر: آپ کا پروگرام بہت اچھا ہے۔ تو مجھے ڈاکٹر صاحب سے یہ پوچھنا تھا کہ میری عمر 27 سال ہے اور میرا قد 5.4 ہے۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے۔

کالر: آئیڈیل ویٹ کتنا ہونا چاہیئے؟ ابھی میرا 60 ہے۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے اور آپ شادی شدہ ہیں کہ نہیں۔

کالر: نہیں

فرح سعدیہ: ساتھ رہیئے ہم بات کر رہے ہیں۔ مجھے تو آئیڈیل ہی لگ رہا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اچھا نہیں وزن کا شادی سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔

فرح سعدیہ: ہاں ۔ تھوڑا سا وہ اندازہ ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: لیکن میں آسان سا ایک فارمولا بتا دیتا ہوں لڑکیوں کے وزن کے بارے۔ 5 فٹ قد کے لئے آپ 100 پاؤنڈز رکھیں اور اس کے اوپر جتنے انچ ہے ان کو آپ5 سے ضرب دے لیں۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: 20 پاؤنڈ ان کا وزن ہو اور 100, 120 پاؤنڈ ان کا وزن ہونا چاہیئے اور انہوں نے کہا 60 کلو تو یہ تھوڑا سا وزن ان کا آئیڈئل سے زیادہ ہے اور لڑکوں کا یہ ہوتا ہے کہ 100 کلو کے ساتھ آپ 7 شامل کر لیں یعنی 7 پاؤنڈ ہر انچ پر ملا لیں۔

فرح سعدیہ: صحیح!

ڈاکٹر صداقت علی: یعنی اگر لڑکا ہو اور اس کا قد 5 فٹ 10 انچ ہو تو 5 فٹ کا مطلب ہے کہ 100 پاؤنڈ اور10 کا مطلب ہے کہ 7 سے ضرب دے لیں تو وہ ستر پاؤنڈ ایک سو سترپاؤنڈ۔ سو تو آپ پانچ فٹ کے لئے دونوں کا فکس کر لیں اور لڑکیوں کے لئے پانچ سے ضرب دیں لیں۔

فرح سعدیہ: اچھا اب ان کا وزن تھوڑا بہت کم زیادہ ہے ہم اسی حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کھائیں۔ دن میں تین چار دفعہ کھانا کھائیں ، مناسب کھانا کھائیں۔ جس میں تمام جذیات شامل ہوں پھر کوشش کریں کہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ بہت زیادہ اپنے آپ کو سخت کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور کوشش کریں کہ ہر وقت کھاتے رہنے کی عادت سے بچیں کھانے کو ’’نو‘‘ کہنا سیکھیں۔ ہم نے جو یہ سب باتیں کی ہیں۔ اس کے علاوہ اور کیا باتیں ہیں جو مدد کرتی ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: ایک سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب آپ ڈائٹنگ کریں۔ تو ایک چیز کو یاد رکھیں جسے مائینڈلس مارجن کہتے ہیں۔ یعنی غذا میں اتنا معمولی سا فرق ڈالیں کہ جسم کو کمی کا پتہ نہ چلے۔

فرح سعدیہ: صحیح

ڈاکٹر صداقت علی: جیسے ہم نے اپنے جسم سے چوری چوری وزن کم کرنا ہے۔ اچھا! یعنی اگر ہمیں 2000 کلوریز کی ضرورت ہے تو ہمیں 100 سے 200 کلوریز تک اس میں کمی کرنی چاہیئے۔ اگر ہم اس سے زیادہ کلوریز کم کریں گے اور تیزی سے وزن کم کرنے کی کوشش کریں گے تو جلد ہی ہمارا جسم ردعمل دینا شروع کر دے گا۔

فرح سعدیہ: صحیح

ڈاکٹر صداقت علی: اسی طرح اگر 2 میل روزانہ فالتو چلنا شروع کر دیں گے تو اس سے بھی وزن کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

فرح سعدیہ: صحیح

ڈاکٹر صداقت علی: تو ہمیں دیکھنا ہو گا سب سے پہلے ہمیں کلوریز کا اندازہ ہونا چاہیئے کہ کسی چیز میں کتنی کلوریز ہیں یہ جو روزمرہ میں ہم چیزیں اپنی غذا میں کھاتے ہیں، اس کو دیکھ لیں جیسے عام ڈبل روٹی کا جو نارمل سلائس ہوتا ہے اس میں 30 کلوریز ہوتی ہیں۔

فرح سعدیہ: صحیح!

ڈاکٹر صداقت علی: جو ایک انڈا فرائی ہے اس میں 150 کلوریز ہوتی ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments