فرح سعدیہ: آپ کا کیا حال ہے ؟

کالر: فرح کیا حال ہیں؟ آپ کا پروگرام بہت اچھا ہے۔

فرح سعدیہ: آپ کا بہت شکریہ

کالر: آپ جو ڈاکٹر صداقت علی کے ساتھ پروگرام کر رہی ہیں وہ میں روزانہ دیکھتا ہوں۔

فرح سعدیہ: جی بہت شکریہ

کالر: میرا ایک بیٹا ہے ثنا ء اللہ نام ہے اس کا۔ اس کی ماں کی کینسر کی وجہ سے موت واقع ہو گئی تھی۔ تین مہینے ہو گئے ہیں اس بات کو اور میں بھی دل کا مریض ہوں۔ نہ اس کی ماں کے لئے اس کا ایک آنسو بہا ہے اور نہ مجھے کوئی توجہ دے رہا ہے اس کی عمر 27 سال ہے۔

فرح سعدیہ: تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس کا کیا مسئلہ ہے؟

کالر: میں ڈاکٹر صاحب سے پتہ کرنا چاہتا ہوں اس کا کیا مسئلہ ہے؟ بیٹا بات بھی نہیں کر رہا۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں بچوں میں اپنے لئے محبت پیدا کرنی پڑتی ہے جبکہ ہماری محبت بچوں کے لئے پہلے سے پیدا شدہ ہوتی ہے۔ جب ہمارے بچے پیدا ہوتے ہیں تو ہمیں نہ صرف ان سے بلکہ اپنے پوتوں اور نواسوں سے بھی محبت اسی وقت ہو جاتی ہے یہ اللہ تعالی نے انسان کی جبلت میں رکھا ہے۔ لیکن ہمارے لئے بچوں کے دلوں میں محبت ہمیں پیدا کرنی ہوتی ہے وہ خود بہ خود پیدا نہیں ہو سکتی۔

فرح سعدیہ: محبت کیسے پیدا ہوتی ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں جب ہم ریلیٹ کرتے ہیں یہ محبت پیدا ہوتی ہے جسمانی طور پر ایک دوسرے سے قریب ہو جاتے ہیں۔ مثلا اگر کوئی باپ اپنے بچوں کے لئے کمانے پر دیس چلا جاتا ہے اور وہ یہ سوچتا ہے کہ میں اپنے بچوں کے لئے بہت قربانیاں دے رہا ہوں تو میرے بچے بھی مجھ سے بہت محبت کرتے ہوں گے تو ایسا بالکل نہیں یہ غلط ہے وہ دوری ان کے درمیان وہ محبت ختم کر دے گی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اچھا اگر آپ ایک ہی گھر میں رہتے ہوں اور آپ زیادہ قریب نہ رہتے ہوں، اکٹھے ٹائم نہ گزارتے ہوں اور باپ پردیس گیا ہوا ہو اور پردیس سے کما کر بھیج رہا ہو تو مائیں چونکہ قریب رہتی ہیں اس لئے ان سے محبت زیادہ رہتی ہے۔

فرح سعدیہ: اس کیس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی ماں کی موت پر بھی کوئی رسپانس نہیں دیا۔ بعض اوقات لوگ زیادہ رسپانسو نہیں ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: میں انہیں ایک عام سی بات کر رہا ہوں لیکن ان کا جو مسئلہ ہے وہ روز مرہ کی زندگی کے مطابق ہے۔ اس لئے ہم اسے ختم نہیں کر سکتے۔ تو کوئی نہ کوئی وجہ ایسی ضرور ہے جس کی وجہ سے بچے کو نہ ماں سے محبت ہے اور نہ باپ سے۔ والدین کچھ چیزیں ایسی کر رہے ہوتے ہیں اور پھر فرض کر رہے ہوتے ہیں کے ان چیزوں کی وجہ سے بچوں میں محبت پیدا ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر وہ بچوں کے بہت زیادہ کام کر رہے ہوتے ہیں ان کے جوتے تک پالش کر رہے ہوتے ہیں ان کو پانی پلا رہے ہوتے ہیں جبکہ بچے بیٹھے بیٹھے نخرے کر رہے ہوتے ہیں اور اتنا کچھ کرنے کے بعد پھر وہ بچوں پر تنقید بھی بہت کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ جب ہم اتنا کچھ کرتے ہیں تو تنقید کا بچے برا نہیں منائیں گے۔ یہ ہمارا حق ہے۔ تو تنقید یا توہین ایک ایسی چیز ہے جیسے آپ Nagging کہتے ہیں جس کے بعد بچے ہر چیز بھول جاتے ہیں اور ان کو تکلیف، توہین یا نکتہ چینی یاد رہتی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments