فرح سعدیہ: ہم آپ کو بتائیں گے وزن کو کنٹرول کرنے کے طریقے اور ہمارے ساتھ ہیں ولنگ ویز کے سی۔ای۔او ڈاکٹر صداقت علی۔
ڈاکٹر صداقت علی ایڈکشن کے علاج، فیملی کے مسائل کے حل اور فیملی کاؤنسلنگ میں بہت نام و مقام رکھتے ہیں۔
السلام علیکم! ڈاکٹر صاحب

ڈاکٹر صداقت علی: واعلیکم السلام!

فرح سعدیہ: آج وزن کو بہتر رکھنے کے بارے میں اس پروگرام کا آخری دن ہے۔

ڈاکٹرصداقت علی: جی! آج ہم وزن کو کنٹرول کرنے کے طریقوں پر اس پروگرام کو ختم کریں گے۔

فرح سعدیہ: تو کون کون سے حل ہم نے ابھی تک حتمی طور پر نکالے ہیں؟ اپنے پچھلے پروگرامز میں کن کن چیزوں پر عمل کر کے ہم اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: ہم نے کچھ بنیادی باتیں کی ہیں۔ وہ نظریات ہم نے بتائے ہیں جن سے وزن کم ہوتا ہے اور آپ دکھی بھی نہیں ہوتے۔ کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ جب وہ وزن کم کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے چہرے پہ دکھ کے بڑے اثرات ہوتے ہیں۔

فرح سعدیہ: ہاں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور وہ دوسروں سے چڑ چڑا پن۔۔۔۔۔

فرح سعدیہ: مطلب ان کو دیکھ کر آپ کو پتہ چل جاتا ہے۔ آپ پوچھتے ہیں کہ آپ بیمار ہیں؟ کہتے ہیں نہیں نہیں۔ دراصل ہم وزن کم کرنے کے لیے کم کھا رہے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اصل میں وہ غلطی یہ کرتے ہیں کہ فاقوں پہ اتر آتے ہیں اور ایسا کوئی کام جو کہ آپ اپنے ساتھ سختی کے ساتھ کریں یا زبردستی کریں، وہ کام آپ اپنے ساتھ نہیں کر سکتے۔ وزن کو کنٹرول کرنے کے طریقوں کا مزے دار ہونا ضروری ہے۔
یعنی جو چیزیں آپ کھائیں وہ بہت مزہ دار ہوں۔ یہ نہیں کہ ابلی ہوئی سبزیوں کے پیچھے پڑ جائیں یا غیر متوازن غذا کھائیں یا جو بھی ورزش کریں اس میں کڑاکے نہ نکالیں۔ اپنے مطلب کا تھوڑا تھوڑا کام کریں جس سے مزہ آتا ہے۔

فرح سعدیہ: صحیح!

ڈاکٹر صداقت علی: یعنی مزہ! یعنی ویٹ سلوشن میں ایک بنیادی اصول ہے۔ مزہ آتے رہنا چاہیئے۔ اگر آپ کو وزن کنٹرول کرنے میں مزہ نہیں آ رہا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کوئی غلطی کر رہے ہو۔

فرح سعدیہ: ہر چیز شادی کی طرح ہے۔ کم بخت شادی میں بھی یہی چکر ہے۔ مزہ آتے رہنا چاہیئے۔ آپ کو ایک دوسر ے کے ساتھ گپ شپ میں اور دیکھنے میں۔ ہمارے مذہب میں بھی یہی ہے نا کہ! اچھی بیوی وہ ہے جسے شوہر جب دیکھے تو خوش ہو جائے۔

ڈاکٹر صداقت علی: سارے کاموں میں۔ کام کی جگہ پہ بھی اگر آپ کو مزہ نہیں آتا، یا اپنے پیشے میں آپ کو مزہ نہیں آتا تو پھر یا تو آپ اپنے کام میں آپ مزہ پیدا کر لیںا آپ اسے بدل لیں۔ آپ دیکھیں تین مہینے کا بچہ مسکرا رہا ہوتا ہے۔ اس کو مزہ آ رہا ہوتا ہے۔ اب یہ نہیں پتہ کہ کس بات کا مزہ آ رہا ہے۔ کہتے ہیں اسے پریاں نظر آ رہی ہوتی ہیں۔ تو مزہ آ رہا ہوتا ہے۔ لیکن بہت جلد وہ بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ اپنے مزہ کو گنوانا کیسے ہے اور تین چار سال کی عمر میں وہی بچہ ریں ریں کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔

فرح سعدیہ: ہاں! بالکل

ڈاکٹرصداقت علی: پھر آگے جب سات سال، آٹھ سال کی عمر کو وہ پہنچتا ہے تو پھر اس کے باقاعدہ جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔

فرح سعدیہ: بالکل!